کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی !

کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی !

 بجلی کی لوڈ شیڈنگ ، سیاسی توڑ پھوڑ اور دہشت گردی کی شہ سرخیوں کے درمیان کم ہی لوگوں کو خیال آتا ہے کہ بے شمار واقعات ایسے بھی ہیں جو اپنی تہذیبی اہمیت کے باوجود ہماری گفتگو کا موضوع نہیں بننے پاتے ۔ جیسے یہ خبر کہ چند ہی روز میں صاحب اسلوب غزل گو احمد فراز کو ہم سے جدا ہوئے پورے چار سال ہو جائیں گے ۔ کیا فراز مرحوم کو پچھلی نیم صدی کے ایک رجحان ساز اردو شاعر کا درجہ دیا جا سکتا ہے یا ان کا کلام روایت سے معمولی انحراف کرتے ہوئے روح عصر کو تغزل میں رچی ہوئی لفظیات میں ڈھالنے کی کوشش ہے ؟ ادبی ناقدین کے لئے اس سوال میں بلند پایہ تخلیق کاری کا معیار وضع کرنے اور کسی فنکار کو اس کی روشنی میں پرکھنے کی کئی طرح کی گنجائشیں موجود ہیں ۔ پھر بھی ایک بات پر سب متفق ہیں کہ ہمارے دور کے جن چند شعرا ءکی غزل پر ان کی انفرادیت کی مہر لگی ہوئی ہے ، احمد فراز کا نام ان میں بہت اوپر ہے ۔

 ڈاکٹر توصیف تبسم کی خود نوشت ”بند گلی میں شام“ قیام پاکستان کے بعد پشاور میں دیگر شخصیات کے علاوہ ، شعر کی ترنگ میں ڈوبے ہوئے ایڈورڈز کالج کے ایک ایسے طالب علم سے شناسائی کا موقع فراہم کرتی ہے ، جس کا پیدائشی نام احمد شاہ اور آبائی وطن کو ہاٹ تھا ۔ تیس کی دہائی میں اس بچے پر سب سے گہرا اثر تو اپنے والد آغا برق کے تخلیقی میلانات کا پڑا ہو گا ، جو پشتو اور فارسی کے اچھے شاعر تھے ۔ سید ضمیر جعفری نے شاعرانہ ترنگ میں کہہ دیا تھا ”الغرض کو ہاٹ میں کوہاٹ ہی کوہاٹ ہے‘ ‘.... وگرنہ عبد الرب نشتر کا تعلق بھی اسی مردم خیز خطے سے ہے ، جن کی سیاست ، شخصی اخلاق اور ادبی ذوق کسی خارجی گواہی کا محتاج نہیں ، پھر کوہاٹ ہی کے رہنے والے جسٹس ایم ۔ آر ۔ کیانی ہیں جو ایک زمانے میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے اجتماعی ضمیر کی آواز بن گئے تھے ۔

 عمر ، تعلیم و تربیت اور پیشہ ورانہ زندگی کے باہم تضاد کے باوجود رستم کیانی نے پہلے مارشل لاءکے دوران جو کام اپنی تخلیقی نثر کے زور پر کیا ، جنرل ضیاءالحق کے دور میں اسی کے لئے فراز نے میر تقی میر کے بقول ”کیا تھا شعر کو پردہ سخن کا‘ ‘ ۔ کیانی صاحب کے لئے ناروا پابندیوں سے نبرد آزما ہونے کا ایک حربہ یہ بھی تھا کہ وہ چھٹیوں میں اپنے گاﺅں چلے جایا کرتے ، جہاں دن کے اوقات میں ان کی دل پسند مصروفیت گلاب کے پودوں کی شاخ تراشی تھی ۔ عہد جبر میں یہ عمل ایک حساس دل کے لئے کتنا سکون آور ہوتا ہو گا ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ، البتہ ، ایک کتاب میں فوجی اقدام کے بعد ساتھی ججوں کے رنجیدہ چہروں کا تصور کرتے ہوئے انہوں نے اپنی ہی انگلی پر قینچی چلا دینے کا جو واقعہ درج کیا ہے ، اس نے گلابوں کو اور بھی سرخ کر دیا تھا ۔

 ”افکار پریشاں‘ ‘ کے ابتدائی صفحات میں ایم ۔ آر ۔کیانی نے راتوں رات اپنے ادیب بنا دیئے جانے پر روزنامہ نوائے وقت کے بانی حمید نظامی مر حوم کو خراج تحسین پیش کیا تھا ، جنہوں نے ان کی ایک ابتدائی تقریر کی نوک پلک درست کر کے اسے تفصیل سے اخبار میں شائع کیا ، جو جناب کیانی کی مقبولیت کا پیش خیمہ بن گئی ۔ اسی طرح ، احمد فراز کے بارے میں بھی فقر ے باز کہا کرتے تھے کہ مہدی حسن نے یکے بعد دیگرے دو غزلیں گا کرانہیں شہرت دوام بخش دی ہے ۔ سچ پوچھیں تو ادبی حلقوں میں فراز کا تعارف اس سے بہت پہلے ہو چکا تھا اور سخن فہم لوگ ان کے لہجے کی انفرادیت ، بھر پور تغزل اور اسلوب کے بے ساختہ پن کو محسوس بھی کر رہے تھے ۔ جن لوگوں نے ”تنہا تنہا‘ ‘ .... ”درد آشوب“ اور ”شبخون‘ ‘ کا مطالعہ بر وقت کر لیا تھا، انہیں یاد ہے کہ عوامی سطح پر گلو کاری کے توسط سے ان کی پذیرائی بہت بعد میں ہوئی ، مگر ادبی حلقوں میں سب جانتے تھے کہ ایک منفرد غزل گو میدان میں آ چکا ہے ۔

 ہمارے سکول اور کالج کے دنوں میں احمد فراز کو یہ طعنہ بھی سننا پڑا کہ جناب ، وہ تو صرف پچیس سال سے کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے شاعر ہیں کیونکہ ان کی غزل محبت کے ابتدائی جذبوں کی شاعری ہے ۔ اس وقت یہ بات ٹھیک بھی تھی ، مگر ایک جزوی سچائی کے طور پر ۔ ”رنجش ہی سہی‘ ‘ والی غزل کو لے لیں ۔ ایک تو اس میں ہماری مقبول شعری روایت کی پاسداری ملے گی ۔ دوسرے بھر پور تغزل کے باوجود الفاظ کے چناﺅ میں گیت کی سی سادگی ہے ، جس سے خلوص کا اظہار ہوتا ہے اور تصنع سے عاری یہ سارا تجربہ حقیقی لگنے لگتا ہے ۔ تیسرے غزل کی عام تعریف سے ہٹ کر یہ ایک ایسا شہ پارہ ہے ، جسے یک کیفیتی غزل کہنا چاہئے ، یعنی ایک ہی واردات کے تہہ در تہہ مرحلے ۔

 احمد فراز کا جو کلام زیادہ مقبول ہوا اس میں یک کیفیتی غزلوں کی کمی نہیں ۔ ’اب کے ہم بچھڑے “ .... ”فراز تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی “.... ”وہ تفاوتیں ہیں مرے خدا‘ ‘ اور ایسی ہی درجنوں مثالیں ۔ پھر بھی یہ سارا کھیل محض یک کیفیتی غزلوں کا نہیں ۔ فراز نے اپنی تخلیقی طاقت کے بل بوتے پر جن فنی اجزاءکو یکجا کیا ، وہ ہر شاعر کے بس کی بات نہیں ۔ ورنہ پشاور میں ان کی طالب علمی سے لے کر ریڈیو پاکستان کی ملازمت اور پھر درس و تدریس سے وابستگی کے زمانے تک فارغ بخاری ، رضا ہمدانی ، خاطر غزنوی اور شاہد نصیر کے علاوہ فراز کے قریبی دوست توصیف تبسم اور ہم عصر محسن احسان بھی تھے ۔ سب نے اپنے اپنے انداز میں قابل قبول فنی لوازمات کو پورا کیا اور داد بھی پائی ، لیکن انفرادیت کی چھاپ کچھ اور چیز ہے۔

 جن لوگوں نے احمد فراز کو قریب سے دیکھا ، انہیں علم ہے کہ ان کی شخصی انفرادیت محض شعر ی خیال یا اسلوب تک محدود نہیں تھی ۔ ان میں حس مزاح ، حاضر جوابی اور جملے بازی کی بھی بے پناہ صلاحیت تھی ، اور ساتھ ایسی انانیت جسے مطلق العنانیت کہنا چاہئے ۔ انیس سو اسی کے عشرے میں جب متنازعہ نعت کے قصے کے بعد احمد فراز لندن کے ٹرنک بازار ، راولپنڈی یعنی ساﺅتھ ہال نامی ”پنجابستان“ میں ”جلا وطنی‘ ‘ کاٹ رہے تھے تو گپ لڑانے کے لئے ان کا رخ بسا اوقات افتخار عارف کے اردو مرکز ، بش ہاﺅس میں ہمارے بی بی سی کلب اور پاکستانیوں کے کسی نہ کسی ادبی یا سیاسی اجتماع کی طرف ہوتا ۔ چنانچہ ، سکول آف اورینٹل اینڈ ایفریقن اسٹڈیز میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ایک شائستہ اطوار مصنف نے کہا :”سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے کہانیوں کا مجموعہ سمجھیں یا انشائے لطیف کا نمونہ ، اسے تاریخ کے خانے میں رکھیں یا تنقید کے خانے میں“۔ اس پر جلا وطن شاعر کی آواز گونجی : ” اسے تہہ خانے میں رکھیں “۔

 بابا بلھے شاہ کا کہنا ہے ”منہ آئی بات نہ رہندی اے “ ۔ بظاہر خوش گفتار ، خوش پوش اور خوش باش احمد فراز اس معاملے میں دیدہ دلیری ہی کی نہیں ، ”دہن دلیری“ کی شہرت رکھتے تھے ۔ معروف دانشور الطاف گوہر ، جن کی علمیت کا احترام چند تحفظات کے باوجود تھرڈ ورلڈ کوارٹرلی اور ساﺅتھ میگزین کی ادارت سنبھالنے سے پہلے بھی تھا ، لندن یونیورسٹی ہی میں ایک شام تقریر کر رہے تھے : ”میں زندگی میں تین شخصیات سے متاثر ہوا ہوں ۔ وہ ہیں مذہبی علم میں مولانا مودودی ، قانون میں شیخ منظور قادر اور ادب میں فیض احمد فیض “.... ”آپ نے تینوں کے ساتھ فراڈ کیا ہے “.... بی بی سی میں میرے سینئر ساتھی سید اطہر علی نے ہمیشہ کہا کہ یہ گولہ احمد فراز کی توپ نے داغا تھا ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اطہر صاحب کو سچ بولنے کی عادت تھی یا صرف وہ بات کہنے کی جسے وہ سچ سمجھتے ہوں ۔ بہر حال میں موقعے کا گواہ نہیں ۔

 موقعے کا گواہ تو مَیں اب سے بائیس سال پہلے کینیڈا کی میکگل یونیورسٹی میں بنا، جہاں غالب کی یاد میں ایک بڑے سیمینار ، محفل موسیقی اور مشاعرے کی تقریبات ہو رہی تھیں ۔ بس ایک ذرا سی بے احتیاطی ہو گئی اور احمد فراز کو پتا چل گیا کہ عبید صدیقی اور شاہد ملک کو جس متمول پاکستانی کنبے کے ساتھ رکھا گیا ہے، وہاں کچھ ”پالیسی اختلافات‘ ‘ کے باعث دو روز سے باقاعدہ کھانا نہیں پکا ۔ اوقات نامہ اور قیام گاہ کا محل وقوع ایسا تھا کہ ہماری انسانی ضرورت کو پورا کرنے کی نوبت تیسرے دن آئی ، جب تمام شرکاءکو باقاعدہ لنچ کے لئے لے جایا گیا ۔ ریستوران میں خیال آیا کہ ٹیلی فون پر برطانیہ میں بال بچوں کو خیریت کی اطلاع دے دوں ۔ یہ دیکھ کر احمد فراز نے میرے میزبان سمیت سب کے سامنے زور سے کہا : ” لندن فون کر رہے ہو ، بیوی کو “ ؟....”جی ہاں‘ ‘.... بولے: ”کھانا منگوانے کے لئے “۔

مَیں مکتوب الیہ کا نام نہیں لے سکتا ، لیکن یہ الفاظ سن کر ان پر کیا گزری ہو گی ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ، لیکن اہل محفل نے اس سے جو مزا لیا، اس سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ احمد فراز کا کلام اور بد کلامی دونوں ہی پُر لطف ہیں ۔ وجہ بہت سیدھی سی ہے ، اور وہ یہ کہ اس تخلیقی آدمی نے خود کو خانوں میں بانٹنے سے گریز کیا اور جس خلوص سے لوگوں پر فقرے برسائے ، اسی خلوص سے شعر بھی کہے ۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے بس اتنی سی شرط ہے کہ آپ ہمارے شاعر کے مزاج سے آشنا ہوں ، جس نے دل و دماغ کی بدلتی ہوئی کیفیات کا اشارہ یہ کہہ کر دیا ہے کہ :

کبھی ، فراز ، نئے موسموں میں رو دینا

کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی !

مزید : کالم