عجلت کے فیصلے

عجلت کے فیصلے
عجلت کے فیصلے

  

14 اگست 2012ءکو ہم اپنے پیارے وطن کی 65 ویں سالگرہ منانے والے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کی 1857ءکی جنگ آزادی سے شروع ہونے والی جدوجہد 90 سال پر محیط ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا۔ تقسیم ہند کے ساتھ ہی انگریزی سامراج کی غلامی کا دور ختم ہوا اور اس سرزمین پر آزادی کا چراغ روشن ہوا۔ ساتویں عشرے کے وسط تک پہنچنے کے بعد بھی ہم آزادی کے مفہوم سے آشنا نہیں ہوئے تو یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے.... عمراں لنگیاں پباّں بھار.... قائد اعظم کے بعد آنے والی قیادتوں نے اپنی عقل وبینش استعمال کرنے کی بجائے بدیشی دانشوروں پر انحصار کیا، اپنے وسائل کو ملکی ترقی کی بجائے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا، عالمی مالیاتی اداروں نے ہمارے اقتصادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزور کیا۔ ہر دور میں ہماری قسمت کے فیصلے بیرون ملک ہوتے رہے۔ بر سر اقتدار طبقہ ہمیشہ قوت فیصلہ کے فقدان کا شکار رہا۔ بظاہر ہم آزاد ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم آج بھی ذہنی طور پر غلام ہیں۔

ایک طرف صوبائی عصبیت کو ہوا دی جاتی ہے تو دوسری طرف گروہی، لسائی، مذہبی اور فرقہ ورانہ سیاست کو فروغ دیا جاتا ہے ۔یہ کےسی جمہوریت ہے کہ عام آدمی سوکھی روٹی کو ترس رہا ہے اور آبادی کی ایک فی صد اشرافیہ شاہانہ زندگی کے مزے لوٹ رہی ہے۔ اقتدار چند خاندانوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اپنی عادات کو بدلنے کے لئے تیار نہیں، معاشرے میں وہ خاک تبدیلی لائیں گے۔ جس ملک میں ایوان اقتدار تک پہنچنے کے لئے لاکھوں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی جاتی ہو‘ وہاں عام آدمی کی نمائندگی کسی دیوانے کی بڑ سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے۔ ویسے تو جمہوری حکومت کے تمام فیصلے ہی ماشاءاللہ فہم وفراست سے تہی ہیں۔ پچھلے دنوں بجٹ سازی میں جس عقل و دانش کا مظاہرہ کیا گیا، وہ نہ صرف قابل ذکر ہے، جسے جمہوری روایات کے مطابق بڑی چھان بین اور غورو خوض کے بعد پارلیمان میں پیش کیا جاتا ہے۔ پیشہ ور طبقوں کے علاوہ چیمبرز آف کامرس اور ٹریڈ یونین کے نمائندوں کی سفارشات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔

 بجٹ 2012-13 ءکی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی تھی کہ یہ موجودہ حکومت کا آخری بجٹ تھا آئندہ انتخاب کا دارومدار حکومت کی گزشتہ کارکردگی اور مستقبل کے وعدوں پر ہے جس کا آئینہ دار یہ بجٹ ہوتا چاہیے ....جہاں تک حکومت کی کارکردگی کا تعلق ہے ،عوام اس بارے میں بخوبی آگاہ ہیں۔ مہنگائی کے سونامی نے معاشرتی ڈھانچے کو تہس نہس کردیا ہے۔ جرائم میں اضافہ ، کرپشن ، لوٹ کھسوٹ، بیروز گاری ، تشدد اور دہشت گردی کا دور دورہ ہے ۔ لوگوں کی قوت خرید کے ساتھ ساتھ قوت برداشت بھی ختم ہو چکی ہے۔ ہم ذہنی طور پر بیمار سوسائٹی میں رہ رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں سوسائٹی کے کمزور حصے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورتیں اور بچے تشدد کا شکار بن رہے ہیں۔ توانائی کے بحران کی وجہ سے صنعتی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔ امراءکو سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے سامان کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ عام آدمی کا معیار زندگی ابتر سے ابتر ہوا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر روپے کی قدر میں کمی ہو ئی۔ اندرون اور بیرون ملک قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ ان تمام عوامل پر بحث و تمحیص کی ضرورت تھی، جسے ارباب اختیار نے مکمل طور پر نظر انداز کیا۔

موجودہ حکومت فیصلہ سازی میں کبھی اتنی عجلت سے کام لیتی ہے کہ راتوں رات نیا قانون معرض وجود میں آجاتا ہے اور کبھی اتنی تاخیر کرتی ہے کہ برسوں کے بعد بھی عمل ندارد جےسے این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق” کڑوا کڑوا تھو میٹھا میٹھا ہپ.... بجٹ محض حکومتی آمدنی اور خرچ کا تخمینہ یا اعدادو شمار کی بازیگری نہیں ہوتا، یہ ایک اہم دستاویز ہے جو کسی حکومت کے اقتصادی نظم ونسق کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ اعداد و شمار خود بولتے ہیں کہ ریاست کا عوام سے رابطہ منتخب نمائندوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ جب ان کے نمائندے ایوان میں چپ سادھ لیتے ہیں تو عوام سڑکوں اور بازاروں میں آکر اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔صرف آٹھ دن میں بجٹ پاس ہو گیا۔ اتنی عجلت کیوں کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بجٹ اتنا اعلیٰ وارفع تھا کہ اس کی شاملات پر مزید بحث کی گنجائش ہی نہ تھی۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ممبران پارلےمنٹ اسے سمجھنے سے قاصر رہے۔ تیسرا امکان شراکتی پارٹیوں اور حزب مخالف میں اتفاق رائے پایا جاتا تھا۔ لہٰذا حکومت کو اس ضمن میں کھلی چھٹی دے دی گئی۔

 اس سلسلے میں تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔ اتحادی شراکت داروں میں ایم کیو ایم ایک فعال جماعت ہے جو ہمیشہ حکومت کا ساتھ دینے کے باوجود اپنی رائے کا برملا اظہار کرتی رہی ہے۔ انہوں نے شیڈو بجٹ پیش کر کے اپنے ووٹروں کو بھی مطمئن کر دیا اور بالواسطہ حکومتی مالیاتی فیصلوں کی بھی تائید کی ۔ اے این پی کا شکوہ بجا کہ بجٹ کے بارے میں ان سے رائے لینا بھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے حکومتی بجٹ سازی کے معاملے میں مخالفت سے گریز کیا۔ مولانا فضل الرحمن ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور ایک جید عالم دین کے فرزند ارجمند ہیں ان کی جماعت کے قلیل ممبران وزارتوں کے مزے لوٹنے کے بعد اب حزب مخالف کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی سیاست کا منفرد انداز دیگر مذہبی جماعتوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ کسی پُراسرار مصلحت کے تناظر میں بجٹ کے پیش ہونے سے اےک دن قبل انہوں نے اپنی کٹ موشن (cut motion) واپس لے کر حکومت کو کھلا میدان دے دیا،اسے کہتے ہیں مفاہمت کی سےاست!

ہمارے ہاں اتنی جلدی موسم بھی نہیں بدلتے جتنی جلدی سےاسی رہنما پارٹیاں بدلتے ہیں۔ جانے والوں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور انہیں خوش آمدید کہنے والوں کی اپنی۔ عوام بیچارے تو بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہیں،چرواہے نے جس سمت ہنکایا، ادھر چل پڑے۔ مسلم لیگ(ق)پرویز مشرف کی پروردہ جماعت ہے جسے اب قائد کی نہیں قاعدے کی ضرورت ہے ۔چودھری برادران کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ برسر اقتدار پارٹی کا ساتھ دیں تاکہ عوام کی بہتر خدمت کی جا سکے۔ اپنے اس مشن میں وہ بڑی حد تک کامیاب و کامران رہے ہیں:

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا

لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

پی پی پی کے سمندر میں ملنے سے اگر اقتدار کی شراکت میسر آئی ہے تو یہ کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ اقتدار ہی سیاست کی معراج ہے تو اس میں شرمندہ ہونے والی کون سی بات ہے ؟بجٹ پر اتفاق رائے سے چودھری پرویز الہی اگر ڈپٹی پرائم منسٹر کے عہدے پر فائز ہوتے ہیں توحزب مخالف اس پر کیوں سیخ پاہے۔ اسے موقع پرستی یا مفاد پرستی کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ ہر پارٹی کا خیال اپنا اپنا مفاد اپنا اپنا۔ اب مسلم لیگ (ن)والوں کو ہی لیجئے، حزب مخالف کی سب سے بڑی پارٹی ہے، ایوان میں غوغا ہائیرقیباں کی ذمہ داری میاں صاحب نے چودھری نثار علی خاں کو سونپی ہوئی ہے، جسے وہ بطریق احسن ادا کر رہے ہیں، ویسے تو یہ لوگ بھی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ پچھلے چار سال میں ایوان میں مسلم لیگ (ن) نے حکومت کے ساتھ نرم رویہ رکھا ہے، کیونکہ دونوں کے دکھ سکھ سانجھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن)نے ایک بھی کٹ موشن(Cut motion) پیش نہیں کی، اس طرح بالواسطہ بجٹ پاس کرانے میں معاونت کی ۔یکم جون کو بجٹ تقریر نشر ہوئی۔ 14 جون کو بجٹ پاس ہو گیا، کیونکہ کاتب تقدیر نے19 جون 2012ءکو وزیر اعظم گیلانی کو نا اہل قرار دینا لکھا ہوا تھا۔ ایک اہم سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ اس قدر عجلت میں منظور کئے گئے بجٹ سے کون مستفید ہوا؟

اس وقت حزب اختلاف والے فوری انتخاب کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کے اتحادی کچھ عرصہ کے لئے الیکشن ملتوی کرنے کے حق میں ہیں۔ پچھلے مالی سال(2011-ء12) کے دوران اتحادی جماعتوں اور حکومتی ارکان اسمبلی کو 50،50 کروڑ روپے ترقےاتی منصوبوں کی مد میں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جسے بجٹ میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے کم کر کے 40 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، اسے قبل از انتخاب دھاندلی کہنا کوئی مبالغہ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ الیکشن کا سال ہے اور ممبران کی جیت کو یقینی بنانا پارٹی کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ ممبران انتخابی حلقوں میں منہ دکھانے کے قابل تو ہو جائیں۔

اس سارے عمل میں جناب صدر محترم کی حکمت عملی کار فرما تھی، وہ جانتے تھے کہ گیلانی صاحب کی چھٹی ہونے والی ہے۔ انہوں نے بروقت حکومتی شراکت داروں کو اعتماد میںلے کر ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچا لیا۔ اسے کہتے ہیں سیاسی بصیرت.... سےاسی تجزیہ نگار ان کے فیصلوں کے بارے پشین گوئی کرنے میں ایک بار پھر دھوکا کھا گئے۔

اس بجٹ پر گزشتہ کالموں میں تفصیل سے بحث کر چکا ہو، صرف اتنا عرض کروں گا کہ ایوان بالا سے 145 سفارشات سامنے آئیں، جن میں سے صرف پانچ کو حتمی بجٹ میں پذیرائی ہوئی، کیونکہ سینیٹ کے دانشوروں نے جو تجاویز دیں، وہ پچھلے سال کے بجٹ میں شامل تھیں یا غیر متعلقہ۔مسلم لیگ(ن)کے جناب اسحاق ڈار کی سفارشات لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور کھاد پر کسانوں کو50 فیصد سبسڈی کو رد کر دیا گیا۔  ٭

مزید : کالم