فٹے منہ!

فٹے منہ!

الحمرا میں قائم ادبی بیٹھک کھچا کھچ بھری ہوئی تھی ، میں نے پہلی بار ادبی بیٹھک کو اس طرح بھرے ہوئے دیکھا وگرنہ جب بھی گیا سوائے رفیق غوری کے کچھ بھی قابل ذکر شے وہاں نہیں پائی ، فنون لطیفہ کے ہر شعبے کی نمائندگی کم و بیش وہاں تھی، ہم سب شہزاد احمد کو یاد کرنے کے لئے وہاں جمع ہوئے تھے جو گزشتہ ہفتے اچانک ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے، انا للہ وان علیہ راجعون!

اس موقع پر جناب عطاءالحق قاسمی، جناب اصغر ندیم سید، جناب نجیب احمد، جناب خالد احمد ، جناب ظفر اقبال ، محترمہ بشریٰ رحمٰن اور جناب انتظار سمیت بہت سوں نے شہزاد کے ساتھ اپنے تعلق خاص کو یاد کیا اور بہت سوں نے مائیک پر اظہار تو نہ کیا لیکن اپنے اپنے دل میں ان تمام لمحوں کو ضرور تازہ کیا جو جناب شہزاد احمد کی رفاقت میں گزرے، طارق عزیز ایسے زبان و بیان کے شہنشاہ اس پروقار تقریب کے نقیب تھے!

شہزاد صاحب سے میرا پہلا ٹاکرا 90کی دہائی کے اوائل میں فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ ہال میں ایک محفل مشاعرہ میں ہوا، اس وقت تک میں کچھ تک بندی شروع کر چکا تھا، حافظہ ایسا کہ شہزاد صاحب کو سنا اور یاد ہو گئے، ان کا اردو کا ایک شعر آج تک یاد ہے کہ "اب اسے دل سے بھلا دینا ہے احساں کرنا/اب اسے یاد نہ کرنا ہی وفاداری ہے"

وہاں انہوں نے پنجابی کے اشعار بھی سنائے، ان میں سے بھی ایک شعر آج تک ذہن پر نقش ہے کہ "عشق ہویا اک عام جئی کڑی دے نال/جدے تکھے نین وی نئیں تے لمے وال وی نئیں"

تقریب کے بعد ملاقات ہوئی ، بڑی شفقت سے ملے، اپنا کارڈ عنائت کیا، میں نے اگلے روز ہی ان کو لاہور کے پتے پر خط لکھ مارا، جس کے جواب میں ان کا خط موصول ہوا، ابتدائیہ آج تک یاد ہے ، انہوں نے لکھا کہ "خط کو آدھی ملاقات کہا جاتا ہے، ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کو تین چوتھائی ملاقات کہا جا سکتا ہے لیکن وہ جو ایک تہائی ملاقات رہ جاتی ہے وہ شاید مل کر بھی نہیں ہو پاتی۔"

پھر ان کی محبت مجھے لاہور کھینچ لائی، ابتدائی تک بندی میں سے ایک شعر انہیں سنایا ، جو کچھ یوں تھا کہ" تم پہ عاشق ہم ہوئے تھے وہ زمانے اور تھے/جن کا عنواں تھا محبت وہ فسانے اور تھے" بہت خوش ہوئے ، لیکن سختی سے تلقین کی کہ تعلیم مکمل کروں، اچھی سی نوکری کروں اور تب تک کے لئے شاعری کو اٹھا رکھوں ، میں ان کی نصیحت پر من وعن عمل کیا، اگلے بیس سال تک شاعری کو سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن جب عرب نیوز میں نوکری ہوئی، ریال ملنے لگے تو ایک ہی سال میں شاعری کی پوری کتاب لکھ ماری، مسودہ پیش کیا ، بہت خوش ہوئے، اگلے دن کہنے لگے کہ میں سارا دن تمھاری شاعری پڑھتا رہا ہوں ، پھر انہوں نے کمال کے دو صفحے اس شاعری پر لکھے جو آج بھی نت نئے معانی کے ساتھ کتاب کے آغاز کے طور پر موجود ہیں، شاعری کی مین میخ درست کرنے کے لئے انہوں نے مجھے بشیر رزمی صاحب کے حوالے کیا، وہ مین میخ تو کمال کی نکالتے لیکن تصحیح شدہ حصے کے لئے جو تبدیلی تجویز کرتے وہ غنائیت سے خالی ہوتی ، میں نے شہزاد صاحب سے صورت حال بیان کی تو خو د بھی ساتھ بیٹھنا شروع ہو گئے ، کہتے تھے کہ بشیر رزمی کے پاس عروض کا علم ہے ، اسلوب میرے پاس ہے ، اس لئے ہم دونوں کا بیٹھنا ضروری ہے اور پھر شہزاد صاحب نے جہاں جہاں شعر میں تبدیلی تجویز کی ، کمال کی، مثلاً میرے ایک شعر میں ان کی تبدیلی سے شعر یوں بن گیا کہ "ہماری رات میں ٹی وی بہت ہے/ہماری صبح اخباروں میں ہوتی ہے"

90کے اوائل میں ہی ہفت روزہ زندگی سے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا تو انٹرویو کے لئے شہزاد صاحب کے پاس پہنچ گیا، انہوں نے واقعہ سنایا کہ نظر کی عینک ان کو بہت شروع سے لگ گئی تھی ، گورنمنٹ کالج لاہور میں تھے تو ایک دن صوفی غلام مصطفےٰ تبسم نے کہا کہ اﺅے شہزاد، عینک لگا کر تم بجو لگتے ہو، کہنے لگے میں نے برجستہ کہا کہ سر عینک اتارلوں تو آپ بجو لگتے ہیں!اس انٹرویو کی سرخی بھی یہی تھی ، "تم بجو لگتے ہو"

میری شاعری کی کتاب چھپی تو ایک دن میں نے عرض کی اگر اجازت دیں تو اس کی تقریب رونمائی کروالوں، کہنے لگے ،" چھڈ پرے کیہ کرنا اے رونمائی کراکے، میںکدی کرائی اے اپنی کسے کتاب دی رونمائی!"

ٓایک بار ادھر مغل پوری کی طرف ایک سکول میں ہفتہ وار مشاعرے میں لے گئے، ایسے ہی حبس کے دن تھے، شاعرحضرات چھوٹے سے کمرے میں سگریٹ کے دھوئیں سے گول گول دائرے بنانے میں جتے ہوئے تھے ، دھوئیں سے مجھے اتنی کوفت رہی ہے کہ ابا جان کمرے میں سگریٹ لگاتے تو باہر نکل جایا کرتا تھا، چنانچہ میں مشاعرہ پڑھے بغیر چپکے سے کھسک آیا، اگلے دن کہنے لگے تم کہاں غائب ہو گئے تھے، میں نے کہا کہ وہاں تو اتنا دھواں تھا کہ بیٹھنا محال تھا ، کہنے لگے ،" چھڈ اوئے ، انج نئیں سوچی دا، شاعری درویشی کم اے ، ناز نخرے آلا نئیں"

سال پہلے گورنمنٹ کالج فیصل آباد میںمشاعرہ تھا، ہال میںپہنچے تو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، ہم پچھلی نشستوں پربیتھ گئے، منتظمین نے دیکھا تو بھاگے اور شہزاد صاحب سے کہنے لگے کہ آگے تشریف لائیں، کہنے لگے نہیں یہیں ٹھیک ہوں، تھوڑی دیر میں تو سٹیج پر جا بیٹھنا ہے، منتظمین گئے تو میں نے عرض کی شہزاد صاحب آپ آگے جا کر بیٹھ جائیں ، کہنے لگے کیا ضرورت ہے ، پھر نصیحت کے انداز میں بولے کہ ہمیں ہمارے بڑوں نے سکھایا ہے کہ محفل میںجاﺅ تو جوتیوں میں بیٹھ جاﺅ تاکہ کسی کی نظر پڑے تو آگے بلالے، ایسا نہ ہو کہ آپ سب سے آگے جا کر بیٹھیں اور کسی کی نظر پڑے اور اٹھا کر پیچھے بھیج دے!

شہزاد صاحب کی جملے بازی کا ایک زمانہ معترف تھا، آخری ایام تھے، ایک دن میں مجلس ترقی ادب ملنے پہنچا، چہرہ خوب جگمگا رہا تھا، میں نے کہا شہزاد صاحب ، آج تو منہ پہ بڑی رونق ہے، برجستہ بولے ، فٹے منہ!

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...