کیا حکمرانوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے ؟

کیا حکمرانوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے ؟
کیا حکمرانوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ابھی یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں، اٹھارہ جون کو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے جو ہڑتال شروع کی گئی تھی اس میں پنجاب کے چوبیس ہزار 681 ڈاکٹروں میں سےبھاری اکثریت کام چھوڑ کے بیٹھ گئی تھی، میو ہسپتال جہاں ڈیڑھ ہزار ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہوتے ہیں، تمام تر حکومتی حربوں، حیلوں ، بہانوں کے ڈیڑھ سو ڈاکٹر بھی نہیں مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے دستیاب نہیںتھے۔ روزانہ اخبارات کی شہ سرخیاں تھیں اور ٹی وی چینلز کی ہیڈلائنز۔ پنجاب کے پولیٹیکل اور بیوروکریٹک ، دونوں اقسام کے حکمران میڈیااور ڈاکٹرز دونوں سے درخواستیں کر رہے تھے کہ ہڑتال جیسے ظالمانہ فعل کے خلاف ہوجائیں، اقتدار کے کنویں سے سروس سٹرکچر کاپانی نکالنے کے لئے مذاکرات کے ڈول بھی ڈالے جا رہے تھے اور کسی ماہر شکاری کی طرح ڈاکٹروں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے جال بھی لگائے جا رہے تھے، ہائی کورٹ کی طرف سے مذاکرات شروع اور ہڑٹال ختم کرنے کے حکم سے پہلے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ تھی، حکمرانوںنے ہسپتالوں کے کرتا دھرتا لوگوں کو اختیارات دے دئیے تھے کہ وہ موقعے پر انٹرویو کریں اور ڈاکٹروں کی بھرتی شروع کر دیں تاکہ حکومت ہسپتال چلانے کے قابل ہوجائے۔ ایسے میں جو ڈاکٹرنوکری حاصل کر رہے تھے وہ ہسپتالوں میں راج کرنے والی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی دشمنی مول رہے تھے ،انہیں پنجاب کے پولیٹیکل اور بیوروکریٹک حکمرانوں کی حمایت اور سرپرستی درکار تھی، یہی وہ ڈاکٹرز تھے جن کو دکھا دکھا کے ہسپتال چلانے کے دعوے ہو رہے تھے، اپوزیشن کے اعتراضات کے جواب دئیے جا رہے تھے گویا یہ ڈاکٹر واقعی حکومتی ساکھ کی جان بچانے کے لئے ایک مسیحا کے طور پر آئے تھے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی ان نئے بھرتی ہونے والے ڈاکٹروں کے ساتھ ” ٹسل“ اسی وقت ظاہر ہو گئی جب انہوں نے پہلے تو انہیں پی سی او ڈاکٹر قرار دیتے ہوئے ڈیوٹیاں جوائن کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور جب وہ ہڑتال ختم کر کے واپس آئے تو وائے ڈی اے نے سب سے پہلے سروسز اور پھر دیگر ہسپتالوں میں انتظامیہ پر موجود اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں کام کرنے سے روک دیا۔ یہ محکمہ صحت کی بیوروکریسی کی ذمہ داری تھی کہ جن ڈاکٹروں کا وزیراعلیٰ پنجاب شکریہ ادا کر رہے اور خواجہ سلمان رفیق ان کی سرپرستی کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، قانونی اور دفتری امور پورے کرتے ہوئے انہیں ترجیح پر رکھتی تاکہ کل کلاں پھر ایسی صورتحال پیدا ہو تو وہاں ڈاکٹروں میں حکومت کا اپنا دھڑا بھی موجود ہو مگر افسوس ناک امر تو یہ ہے کہ حکومت کے جن مددگاروں کو سب سے پہلے وائے ڈی اے نے کام کرنے سے روکا اب تازہ خبر کے مطابق محکمہ صحت کے بابوو¿ں کی طرف سے مشکل گھڑی میں حکومت کا ساتھ دینے والوں کو صاف جواب دے دیا گیا ہے ، ہسپتالوں کی انتظامیہ نے ان کی خدمات جاری رکھنے سے معذرت کرتے ہوئے کہاہے جن آسامیوں پر بھرتی ہوئی تھی،ان پر ینگ ڈاکٹرز واپس آ چکے ہیں، ان کے پاس نہ تو آسامیاں ہیں اور نہ ہی تنخواہوں کے لئے فنڈز، ینگ ڈاکٹرز ہڑتال کرنے کے باوجود تنخواہیں لے گئے اور ایڈہاک ڈاکٹرز حکومت اور مریضوں کی مدد کرنے کے باوجود دربدر ہو گئے ہیں۔حکمران کہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹروں کو سروس سٹرکچر دینا چاہتے ہیں اور وائے ڈ ی اے کہتی ہے کہ اگر بیوروکریسی درمیان سے نکل جائے تو سیاسی حکمران بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔ ینگ ڈاکٹر زایسوسی ایشن جناح ہسپتال کے صدر ڈاکٹر جاوید آہیر کی طرف سے دعوت افطار ملی تو وہاں وائے ڈی اے کے صدر،شعلہ بیاں، اینگری ینگ مین ڈاکٹر حامد بٹ، بابائے سروس سٹرکچر ڈاکٹر ناصر عباس بخاری، نرم خو ڈاکٹر عامربندیشہ اور ڈاکٹر ابوبکر گوندل سمیت سب ہی تو موجود تھے۔ ڈاکٹر حامد بٹ کے تمام تر ارشادات تو نقل نہیں کئے جا سکتے مگر بہرحال حکمرانوں کو یہ ضرور بتایا جا سکتا ہے کہ عید کے بعد خیر نہیں ہے ، ہسپتال تو نہیں مگر لاہور کی سڑکیں احتجاج سے ضرور بند ہوجائیں گی۔میں ہنس پڑا کہ لاہور یوں کا کیا قصور ہے ، عید کے بعد سکول کالجز بھی کھل جائیں گے، شہر کی آدھی مصروف ترین سڑکیں حکومت نے کھود کر بند کر رکھی ہیں اورباقی ینگ ڈاکٹرز دھرنے دے کے بند کر دیں گے، میں نے انہیں مشورہ دیا کہ اگر میڈیا کی توجہ کے ساتھ ساتھ سیاسی اور بیوروکریٹک حکمرانوںپر دباو¿ بڑھانا چاہتے ہیں تو جی او آر ون کے تمام گیٹوں پر دھرنے دے دیں مگر انہوں نے میرے ساتھ بوجوہ اتفاق نہیں کیا ۔ میری گذارش یہ بھی تھی کہ بہت ہو چکی، اب معاملے کو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حل کرلینا چاہئے مگر اس مرتبہ حامد بٹ نے ہنستے ہوئے کہا کہ کچھ لو او رکچھ دو وہاں ہوتا ہے جہاں دوسری طرف حکمران کچھ دینے کے لئے تیار ہوں مگر یہاںتو بیوروکریسی کچھ بھی دینے کے لئے تیار نہیں۔ عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا تھا کہ مذاکرات کر کے دو ہفتوں میں پیش رفت کی جائے مگر خودفاضل جج اگلے ماہ تک رخصت پر اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ سینیٹر اسحاق ڈار عمرے کی ادائیگی کے لئے سعودیہ جا چکے ہیں۔ کچھ لو، کچھ دو والی بات پر حامد بٹ نے پیش کش کی کہ میں ان کے اور حکومت کے درمیان کرداراداکروں اور وہ میرے فیصلے کو مان بھی لیں گے مگر میں نے ایک لمحے میں ہی اس سے معذرت کر لی۔ اس معذرت کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ میں کوئی کرداراداکرنے سے ڈرتا ہوں بلکہ ایک لمحے میںہی مجھے میرے دل و دماغ نے کنوینس کر لیا کہ جو حکومت عدالت میں کرائی گئی یقین دہانی کو محض وقت گزارنے کا طریقہ بنا سکتی اور مشکل ترین وقت میں مدد کرنے والے ایڈہاک ڈاکٹرز کوجھنڈی دکھا سکتی ہے ، میں اس پر اعتماد اور اعتبار کرنے کا خطرہ کیسے مول لے سکتا ہوں۔ ڈاکٹر وں کے سروس سٹرکچر کو ایک جائزمطالبہ تسلیم کرنے کے باوجود حکومت کی طرف سے مسلسل وعدہ خلافیاں ہو رہی ہیں۔ نہ سروس سٹرکچر پر کوئی فیصلہ ہو سکا اور نہ ہی میو ہسپتال میں انتقال کرجانے والے فہد کے کیس میں نامزد ڈاکٹروں پر قتل کا مقدمہ ختم ہو سکا لہذا ڈاکٹر یہ سمجھ رہے ہیں کہ انہوں ہڑتال ختم کرنے کی نرمی دکھا کے غلطی کی تھی۔ اب بھی وائے ڈی اے رمضان میں پر امن اجتماعات کر رہی ہے مگر اس کو نہ تو میڈیا اہمیت دے رہا ہے اور نہ ہی حکمرانوں کے کانوں پر جوں رینگ رہی ہے ۔میری اس حوالے سے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صحت خواجہ سلمان رفیق سے بھی بات ہوئی، ان کا تو یہ کہنا ہے کہ بیوروکریسی مثبت کردارادا کر رہی ہے ،بہت سارے معاملات طے پا چکے ہیں اور جن امور پر اختلاف ہے ، ان کو بھی طے کر لیا جائے گا مگروہ حامد بٹ کے بیانات سے نالاں نظر آئے۔ ان کے خیال میں وائے ڈی اے کے صدر کے بیانات ماحول کو خراب کر دیتے ہیں، انہوںنے جائز بات کی کہ ڈاکٹروں کو لاہور کے علاوہ دیگر اضلاع اوردیہات میں ڈیوٹی کا پابند بھی کرنا چاہیے، وائے ڈی اے کا اس پر جواب تھا کہ وہ میرٹ پر ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی بنانے کے لئے تعاون کرنے پر تیار ہیں اور دوسری طرف حامد بٹ ان کے صدر ہیں، وہ میڈیا پر بیانات نہیں دیتے مگر انہیں اپنی کمیونٹی کو موبلائز کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اس تمام صورتحال میں مجھے تو یہی تجزیہ درست لگا کہ حکمران اور ینگ ڈاکٹرز دونوں ہی جانتے ہیں کہ عید الفطر کے بعد دوبارہ میدان لگے گااور یہ دونوں ہی اپنی اپنی سطح پر صف بندی کر رہے ہیں۔ معاملات کچھ اس طرح پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ وائے ڈی اے اپنے مطالبات سے کم پر کسی مفاہمت کے لئے تیار نہیں اور دوسری طر ف بیوروکریسی ڈاکٹروں کے سروس سٹرکچر پردماغ کھپانے کے لئے ہی تیار نہیں۔ یہی وہ بیوروکریسی ہے جس نے مشکل ترین وقت میں ساتھ نبھانے والے چار سو ایڈہاک ڈاکٹروں کی سرپرستی کرنے کی بجائے تنخواہ دئیے بغیر جھنڈی دکھا دی ہے تو وہ وائے ڈی اے کے لئے کسی نرمی کا مظاہرہ کیسے کر سکتی ہے ۔ رجائیت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ حکومت اور ڈاکٹروں کے درمیان معاملات طے ہونے کی سو فیصد امید ہے اور اگر حقیقت پسند ہو کربات کریں تو عید کے بعد دوبارہ میدان لگنے والا ہے ۔۔۔ اور مجھے معذرت کے ساتھ کہنا ہے کہ اس مرتبہ بھی میدان لگنے کی اصل وجہ سیاست اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے ہمارے حکمرانوں کی وعدہ خلافیاں ہوں گی۔

مزید : کالم