معیشت پر توجہ دینے کی ضرورت

معیشت پر توجہ دینے کی ضرورت

جمعہ کے روز سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کی جانے والی مانیٹری پالیسی میں بنیادی شرح سود میں 1.5فیصد کمی کا اعلان کیا گیا ہے،اس کے بعد شرح سود کی نئی سطح 10.5فیصد ہوگی۔مانیٹری پالیسی پیش کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک یاسین انور کا کہنا تھا کہ صرف شرح سود میں کمی نجی شعبے کی ترقی کی رفتار تیز نہیں کرسکتی، لیکن یہ اقدام ملکی معیشت کے لئے بے حدضروری تھا۔مانیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2013ءمیں افراط زر کی شرح 10-11فیصد رہنے کی توقع ہے ،جبکہ اس کاٹارگٹ 9.5فیصد رکھا گیا تھا۔نجی سرمایہ کاری میں مسلسل چوتھے سال بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اس وقت یہ کل سرمایہ کاری کا صرف 13فیصد ہے۔دوسری جانب گزشتہ سال حکومت کی جانب سے بینکوں سے لئے جانے والے قرضوں میں 50فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔سٹیٹ بینک کے مطابق حکومت کی جانب سے اس قدر بھاری مقدار میں قرضے حاصل کرنے کے باعث بینکوں کے پاس نجی شعبے کو فراہم کرنے کے لئے کیش باقی نہیں رہتا اور حکومت میں سرمایہ کاری زیادہ محفوظ ہونے کے باعث بینکوں کی پہلی ترجیح بھی حکومت کو رقم فراہم کرنا ہی ہوتی ہے۔گزشتہ مالی سال نجی شعبے کو نیٹ18.3ارب روپے سرمایہ فراہم کیا گیا جو کہ مالی سال 2011ء میں فراہم کئے جانے والے 173.2 ارب روپے کے مقابلے میں بے حد کم ہے۔اسی طرح گزشتہ مالی سال حکومت نے سٹیٹ بینک سے 505ارب روپے کے قرضے لئے جن میں سے 306ارب روپے صرف آخری سہ ماہی میں لئے گئے اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس قدر قرضے حاصل کرکے حکومت ایس بی پی (سٹیٹ بینک آف پاکستان) ایکٹ کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی۔تاہم مالی سال 2013ءکے پہلے تین ماہ کے دوران حکومت نے سٹیٹ بینک کو 198ارب روپے واپس کئے ہیں، لیکن ایسا نجی بینکوں سے قرضے حاصل کرنے کے باعث ممکن ہوا۔سٹیٹ بینک کے مطابق رواں سال مالی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا 6.4فیصد تک ہو سکتا ہے۔توانائی اور خوراک کے شعبے میں جو قرضے واپس کئے جانے ہیں، وہ بھی شامل کرلئے جائیںتو اس میں مزید1.9 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔خسارے میں اضافے کی بنیادی وجہ ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل نہ ہونا، توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کے خاتمے کے لئے فراہم کی جانے والی اضافی رقم اور پبلک سیکٹر کمپنیوں کے خسارے ہیں،تاہم اتحادی سپورٹ فنڈ کی مدمیں ملنے والی رقم سے معیشت کو سہارا ملے گا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔گزشتہ مالی سال ان کا کل حجم 13.2ارب ڈالر رہا۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پاکستانی معیشت میں اس وقت شرح نمو کی سطح کم اور افراط زر کی زیادہ ہے، جو کسی بھی طرح موزوں صورت حال نہیں۔ معیشت کی شرح نمو میں نجی شعبے کا اہم کردار ہوتا ہے، لیکن دیئے گئے اعدادوشمار کے مطابق نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی ہے،اس رجحان کی بہت سی وجوہات ہیں۔سب سے بنیادی بات تو یہی ہے کہ حکومت کے پاس آمدنی کے ذرائع محدود اور اس کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔ایسے میں حکومت مالی خسارہ بینکوں سے قرضے لے کر پورا کرتی ہے یا سٹیٹ بینک کے ذریعے نئے نوٹ چھاپ کر۔ نوٹ چھاپ کر خسارا پورا کیا جائے تو اس کا براہ راست اثر افراط زر پرپڑتا ہے۔روپے کی رسد میں اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی میں بھی۔سٹیٹ بینک کی جانب سے بار بار اس حوالے سے یاددہانی کے بعد بالآخر گزشتہ دو ماہ کے دوران حکومت نے اس پر اپنا انحصار کچھ کم کیا ہے، لیکن دوسری جانب نجی بینکوں سے قرضے اتنی ہی رفتار سے حاصل کئے جارہے ہیں۔بینکوں کے لئے حکومت کو رقم فراہم کرنا محفوظ سرمایہ کاری ہے، اس لئے ان کی پہلی ترجیح بھی حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری ہی ہوتی ہے۔نتیجتاً نجی شعبے کو درکار سرمایہ میسر نہیں ہوپاتا۔اسی بات کے پیش نظر سٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود میں کمی کا اعلان کیا ہے۔سٹیٹ بینک کے مطابق چونکہ اب افراط زر کی سطح پریشان کن حد تک بلند نہیں ہے اس لئے نجی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو سٹیٹ بینک کا اقدام قابل تحسین ہے۔ نجی شعبے کو سستے قرضے میسر ہوں گے تو لوگ زیادہ سے زیادہ رقم کاروبار میں لگائیں گے، لیکن اس صورت حال میں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی شرح سود میں 2 فیصد کمی کی گئی تھی لیکن عملی طور پر اس کے اثرات نظر نہیں آئے بلکہ نجی شعبے کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری میں بتدریج کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ بینکوں کا فاضل کیش حکومت کو قرضوں کی فراہمی میں خرچ ہو جاتا ہے اگر حکومت کی جانب سے اپنی آمدنی کے متبادل ذرائع پیدا کرنے اورموجودہ بڑھانے پر توجہ نہ دی گئی تو ممکن ہے کہ شرح سود میں کمی کا فائدہ بھی محض اتنا ہی ہو کہ حکومت کو سستے قرضے میسر آجائیں اور نجی شعبے کے لئے کچھ بھی نہ بچے۔ ضروری ہے کہ حکومت ٹیکس وصولیاں بڑھانے پر توجہ مرکوز کرے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی کوشش کی کرے۔

شرح سود کے علاوہ ملک کی حالیہ صورت حال میں اور بھی کئی ایسے عوامل ہیں جو نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں اور شرح نمو کے اضافے میں رکاوٹ ہیں۔ ان میں سرفہرست توانائی بحران، سیاسی عدم استحکام اور امن وامان کی صورت حال ہیں۔ حکومت اگر نجی شعبے کی کارکردگی میں بہتری چاہتی ہے تو توانائی بحران کا حل ناگزیر ہے۔ افسوسناک بات ہے کہ موجودہ دور حکومت کے تقریباً ساڑھے چار سال گزرنے کے باوجود اس کے حل کیلئے کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہ ہوسکی۔ ضروری ہے کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں اسٹرکچرل اصلاحات بھی متعارف کرائی جائیں۔ تیل پر انحصار کم کرکے بجلی پیدا کرنے کے سستے ذرائع اپنائے جائیں۔ نئے ڈیمز بنانے کی طرف بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صرف یہی طریقہ ہے کہ گردشی قرضوں میں ضائع ہونے والا قیمتی سرمایہ بچایا جا سکے۔ مزید یہ کہ ہماری سیاسی جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات سے آگے بڑھ کر ملکی معیشت کی صورت حال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ معاشی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ ملک سیاسی طور پر مستحکم ہو اور فیصلے کرتے وقت ان کے اقتصادی اثرات کو مدنظر رکھا جائے۔ ہمارے ملک میں دن رات سیاسی معاملات پر آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے، لیکن معاشی معاملات کی طرف کوئی توجہ نہیں ۔سٹیٹ بینک کے مطابق رواں سال بھی قومی معیشت کی شرح نمو کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔ یہ 3-4 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ معاشیات کسی بھی سیاسی جماعت کے ایجنڈے پر سرفہرست نظر آتی ہے نہ ہی اس موضوع پر ملک کی سیاسی قوتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ملک کے معاشی مستقبل کے حوالے سے سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے واضح کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے مالیاتی خسارے پر کس طرح قابو پا سکتی ہے۔ ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے لئے کیا کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کیا کئے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن پر لازم ہے کہ اگر معیشت کی بہتری کے لئے غیر مقبول اقدامات بھی اٹھائے جائیں تو انہیں سیاسی مفادات کے لئے استعمال نہ کیا جائے بلکہ اس کام میں جہاں تک ہو سکے حکومت کا ساتھ دیا جائے۔

مزید : اداریہ