لاہور ملک پلانٹ میں مزید بے قاعدگیوں کا انکشاف

لاہور ملک پلانٹ میں مزید بے قاعدگیوں کا انکشاف
لاہور ملک پلانٹ میں مزید بے قاعدگیوں کا انکشاف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) لاہور ملک پلانٹ میں مزید بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے اور اس وقت کے سیکرٹری خزانہ نے معاہدہ کو غیر قانونی اور خودکشی قرار دیا تھا ۔سیکرٹری خوراک و زراعت ڈاکٹر ظفر الطاف نے 1996ءمیں ایک این جی او رجسٹرڈ کرائی اور 25کروڑ مالیت کے ملک پلانٹ کو ایک کروڑ روپے کے عوض این جی او کے نام کر دیا ۔ اسی ضمن میں حکومت پنجاب کے ساتھ کیے گئے ایک معاہدے میں کہا گیا کہ ایک کروڑ کی رقم وفاقی حکومت ادا کرے گی جبکہ ملک پلانٹ کے عوض ورلڈ بنک سے لیا گیا 91کروڑ کا قرضہ پنجاب حکومت ادا کرے گی۔

 اس معاہدے پر سیکرٹری خزانہ جاوید صادق ملک نے اپنے اختلافی نوٹ میں معاہدے کو غیر قانونی اور خودکشی کے مترادف قرار دیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ محکمہ لائیو سٹاک اور لاہور ملک پلانٹ میں بے ضابطگیوں پر ڈی جی لائیو سٹاک پنجاب ڈاکٹر عبد الخان زاہد سمیت 12افراد کو گرفتار کیا گیا۔

مزید : لاہور