امریکہ نے عراق سے اپنا کچھ سفارتی عملہ واپس بلوالیا

امریکہ نے عراق سے اپنا کچھ سفارتی عملہ واپس بلوالیا

واشنگٹن(آن لائن)امریکانے عراقی شہراربیل سے اپناکچھ سفارتی عملہ واپس بلوالیاہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سفارتی عملہ عراقی شہراربیل سے واپس بلوایاگیاہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ عراق سے سفارتی عملہ شدت پسندوں کے ممکنہ حملے کے خطرے کے پیش نظرواپس بلوایا۔سفارتی عملہ عراقی شہراربیل سے واپس بلوایاگیاہے۔ ادھر عراق کے شمال میں کرد سکیورٹی فورسز نے اسلامی ریاست کے شدت پسندوں کے زیرقبضہ دو قصبے آزاد کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔کرد حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی فضائی مدد کے ذریعے مکھمور اور گویر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔نامہ نگاروں کے مطابق شدت پسندوں پر امریکی فضائی حملوں کی وجہ سے کرد سکیورٹی فورسز کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔اس سے پہلے عراق میں اسلامی ریاست کے شدت پسند ڈرامائی طور پر غیر معمولی پیش قدمی کرتے ہوئے علاقوں پر قبضہ کر رہے تھے تاہم اب امریکی فضائی حملوں سے اس پیش قدمی کو روکنے میں مدد ملے گی۔اس سے پہلے کردستان کی علاقائی حکومت کے صدر مسعود برزانی نے شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے بین الاقوامی برادری سے عسکری امداد کی اپیل کی تھی۔انھوں نے کہا کہ’ ہم دہشت گرد تنظیم سے لڑ رہے ہیں۔

 ہم ایک دہشت گرد ریاست سے لڑ رہے ہیں، اسلامی ریاست کے شدت پسندوں کے پاس ہماری پیش مرگ فوج کے مقابلے میں زیادہ جدید ہتھیار ہیں۔ دوسری جانب فرانس کے وزیرِ خارجہ لوراں فیبیوس نے کہا ہے کہ عراق کو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند جنگجوو¿ں کا مقابلہ کرنے کے لیے ’وسیع البنیاد قومی حکومت‘ کی ضرورت ہے۔فرانسیسی وزیرِ خارجہ عراق میں دولت اسلامیہ (آئی ایس) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے عراق کے دورے پر ہیں۔ان کا دورہ عراق امریکہ کی جانب سے آئی ایس کے جنگجوو¿ں کے خلاف تیسرے فضائی حملے کے بعد شروع ہوا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام عراقیوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس حکومت میں اور ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی نمائندگی ہے۔دوسری جانب امریکہ، فرانس اور برطانیہ اقلیتی یزیدی فرقے کے افراد کے لیے کھانے پینے کی اشیا ہوائی جہازوں کے ذریعے پہنچا رہے ہیں۔اقلیتی یزیدی فرقے کے ہزاروں افراد نے گذشتہ ہفتے آئی ایس کے شدت پسندوں کی سنگجار کی جانب پیش قدمی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں نے پہاڑوں پر پناہ لے رکھی ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ عرصے کے دوران آئی ایس کے جنگجوو¿ں نے عراق اور شام میں بہت بڑے علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں ’خلافت‘ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مزید : عالمی منظر