چودہ اگست اور عوام کی مشکلات

چودہ اگست اور عوام کی مشکلات

چودہ اگست ہماری ملکی تاریخ کا ہم ترین دن ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزادی جیسی نعمت سے نوازاہر ملک اپنے آزادی کے دن کو نہائت ہی جوش و جذبے کیساتھ مناتا ہے مگر اب کی بار پاکستانی اس عظیم موقع پر عجیب کشکمکش کا شکار ہیں اور ایک ایسے وقت میں جب آزادی کی تقریبات اپنے عروج پر ہونا چاہئے تھیں اس وقت ہر پاکستانی یہ سوچ رہاہے اور اس کے ذہن میں ایک ہی سوال ہے کہ چودہ اگست کو کیا بنے گا کیوں کہ اس روز پاکستان کا سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہوگا لیکن اس سے پہلے ہی عوام پر یہ مصیبت آن پڑی ہے کہ سبزیوں اور پھلوں کے ریٹ بڑھ گئے ہیں کیوں کہ دوکاندار کہتے ہیں کہ پورا ملک تو بند ہوچکاہے اس لئے باہر سے پھل اور سبزیاں نہیں آرہیں ،ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی ہوشربا حد تک بڑھ گئے ہیں بلکہ اب یہ فیصلہ بھی شائد ہوگیا ہے کہ پورے پنجاب کے بس سٹینڈز کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا اس کیساتھ ساتھ پٹرول پمپس کو بھی سیل کردیا گیا ہے۔

 الغرض پورے ملک میں ایک طرح سے ایمرجنسی نافذ ہوچکی ہے ایسے میں عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر اس کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے کہ انہیں ہر وقت جمہوریت جمہوریت کا سبق پڑھایا جاتا ہے مگر اب تو ملک میں ایک جمہوری حکومت ہونے کے باوجود عوام ذلیل و خوار ہورہے ہیں ۔ایک عام آدمی کی سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے کہ ایک طرف تو حکومت یہ کہتی ہے احتجاج ہر جماعت کا سیاسی حق ہے اور ہم کسی کو نہیں روکیں گے تو پھر آخر یہ سب اقدامات کیا جنات کو روکنے کیلئے کئے جارہے ہیں ؟عوام حکومت کے اس رویے سے بھی سخت ناراض ہے کہ جب وہ خود اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے جو بھی احتجاج کیا اس کو کسی حکومت نے نہیں روکا بلکہ تحمل سے برداشت کیا اور اب جب کہ عوامی تحریک دس اگست کو یوم شہدا منانا چاہتی تھی جو کہ ان کا حق تھا اس پر پورے ملک کو بند کردیا گیا کیوں آخر کیوں ایسا کیا؟اس سے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ موجودہ حکومت فلاپ ہوچکی ہے اور عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ان کو خوف ہے کہ کہیں ان سے اقتدار چھین نہ لیا جائے مگر جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں ہوں کہ یہ کرسی بڑی بے وفا ہے جو بھی اس سے پیار کرتا ہے یہ اس کو زمین پر گرادیتی ہے لہٰذا اس کرسی کی بجائے عوام اور ملک کے مفاد کو سامنے رکھنے والا حکمران ہی عوام کے دلوں میں بستا ہے جبکہ موجودہ حکمرانوں کی مفادپرستی نے انہیں عوام سے دور کردیا ہے اور اب وہ عوام کے غصے سے ڈر کر ایسی اوٹ پٹانگ حرکتیں کررہے ہیں مگر کب تک ؟ عوام کے بپھرے ہوئے سمندر کو زیادہ دیر تک روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ باقی رہی بات دھاندلی کے الزامات کی تو اگر حکومت کی نیت صاف ہے اور اس نے واقعی اتنا بڑامینڈیٹ لیا ہے تو اسے پھر ڈر کس بات کا ہے اسے ہوش کے ناخن لیتے ہوئے متنازعہ علاقوں میںدوبارہ انتخابات کا مطالبہ مان لینا چاہئے جو کہ اب حکومت نے ماننے کا فیصلہ کربھی لیا ہے ہم پہلے بھی یہی کہتے آرہے ہیں کہ میاں صاحب کے اردگرد موجود مفاد پرست لوگ ہی ان کے اصل دشمن ہیں جو انہیں misguideکرکے غلط فیصلوں پر مجبور کرتے ہیں کیوں کہ اگر یہ مطالبہ پہلے ہی مان لیا جاتا تو نہ تو آج حکومت کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا اور نہ ہی آج پورے ملک کی عوام ذلیل ہورہی ہوتی اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ مطالبہ اب ایک ایسے وقت میں مانا گیا ہے کہ جب عمران خان اپنے تندوتیزبیانات کے ذریعے خود کو وہاں لے آئے ہیں جہاں سے ان کی واپسی بھی مشکل نظر آتی ہے اور انہوں تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر انہیں کچھ ہو توکارکن شریف فیملی سے اس کا بدلہ لیں دوسری جانب قادری صاحب کو قابو کرنے کیلئے بھی حکومت سرجوڑکر بیٹھی ہوئی ہے اور ممکنہ طور انہیں گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے یا کینیڈین حکومت کے ذریعے ان کی واپسی بھی ہوسکتی ہے ۔

ان کی رہائشگاہ کو مکمل طور پر گھیرلیا گیا ہے جس پر ان کے ہزاروں مریدین کی نظریں بھی اپنے قائد پر ہیں کہ ان کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا ۔خیر اس ساری صورتحال کی ذمہ دارحکومت اس لئے ہے کہ اس میں قوت فیصلہ کا انتہائی فقدان ہے جس کی وجہ سے اسے سوپیاز بھی کھانے پڑتے ہیں اور سوچھتر بھی اب صورتحال یہ ہے کہ اس غیریقینی کے باعث سٹاک مارکیٹ میں بھی مندی جاری ہے،معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا ہے بیرونی سرمایہ کار پاکستان کی اس صورتحال سے سخت پریشان ہیں اور وہ یہاں آنے کو تیار نہیں، اور ایک رپورٹ کے مطابق دفاتر میں ترقیاتی کاموں کی فائلیں بھی اس لئے رک گئی ہیں کہ شائد چودہ اگست کے بعد ان کے نئے باس آجائیں۔ اور عوام یوم آزادی منانے کی بجائے پریشان ہے کہ چودہ اگست کو کیا ہونے جارہاہے ؟

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...