تقریبات آزادی....اتحاد ویگانگت کی مظہر

تقریبات آزادی....اتحاد ویگانگت کی مظہر

برصغیر کے مسلمانوں نے آزادی کے لئے ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑی-یہ سیاسی اور جمہوری حقوق کی بازیابی کی جنگ تھی جس کے لئے مسلمانان ہند نے قیدو بند کی صعوبتیں تو ایک طرف ہزاروں ماﺅں نے اپنے جگر گوشوں کی شہادت اور ہزاروں معصوموں،بوڑھوںاور عورتوں نے اپنی جانوں کی بازی لگا کر ظالم و متعصب انگریزوں اور ہندوں سے آزادی حاصل کی -بانی پاکستان محمد علی جناح کی وفات کے بعد قوم لسانی اور جغرافیائی تضادات میں الجھ کر رہ گئی-جس کا خمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں -پاکستان کو دنیاکے نقشے پر ابھرے نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے مگربدقسمتی سے ہمیں معاشی و سیاسی استحکام حاصل نہیں ہو سکا-

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو آزادی کی اہمیت سے آگاہ کریں کہ کس طرح ہمارے آباﺅ وجداد نے اپنی جانوں ،مال و متاع کی قربانی دیکر اس عظیم مملکت کو حاصل کیا-حکومت پنجاب نے آزادی کی تقریبات کو بھر پور انداز میں منانے کا فیصلہ کیا اور صرف ایک روزہ تقریبات کی بجائے اگست کو ”ماہ آزادی“ کا نام دیا گیا ہے تقریبات آزادی پورے ماہ جاری رہیں گی - وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر تمام محکموں نے خصوصی پروگرام تشکیل دیئے ہیں جن کا آغاز یکم اگست سے تمام سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں پر پرچم کشائی کی تقریبات سے ہو گیا ہے -پرچم کشائی کی تقریبات صوبائی ،ڈویژنل ،ضلعی اور ٹاﺅن کی سطح پر منعقد ہوئیں جن میں صوبائی وزراءکے علاوہ سرکاری محکموں کے افسران اور عوام کی بھاری تعداد شریک ہوئی-زندہ قومیں کبھی اپنے اسلاف کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرتیں بلکہ ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے سینوں میںموجزن رکھتی ہیں -تقریبات آزادی کے مطابق تمام سرکاری عمارتوں پر چراغاں کیا جائے گا- پارکس اور کھلے میدانوں کو خوبصورتی سے سجایا گیاہے اور پارکوں میں میوزیکل کنسرٹ کے علاوہ مشاعرے بھی کرائے جارہے ہیں -محکمہ اطلاعات و ثقافت کے زیراہتمام ڈویژنل و ضلعی ،آرٹس کونسل میں تحریک پاکستان پر مبنی تصاویر کی نمائش کے علاو ہ مشاعرے منعقد کئے جارہے ہیں -اس طرح پاک فوج کے جوانوں کے کارناموں سے متعلق ڈرامے جن میں عزیز بھٹی شہید،راشد منہاس شامل ہیں پیش کئے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل کو بتایا جائے کہ ہمارے فوجی جوان کسی طرح ارض وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ محکمہ اطلاعات و ثقافت کے زیر اہتمام ریس کورس پارک لاہور، لیاقت باغ راولپنڈی اور ملتان میں قومی ترانوں کے مقابلے منعقد کئے جائیں گے۔ تمام سرکاری ملازمین اپنے سینے پر پاکستان کے جھنڈے کے بیج کو اپنے لباس کا حصہ بنایاہے اگست کے پہلے 13روز صوبہ بھر میں ریلیاں ، سیمینار ، واکس اور کلچرل شوز منعقد کئے جائیں گے۔

 11۔ اگست کو اقلیتوں کے عالمی دن کے موقع پر تمام اقلیتیں نے” میں بھی پاکستان ہوں“ کے عنوان سے پنجاب بھر میں تقاریب منعقد کیں۔ 12اگست کو خواتین ڈے کے حوالے سے صوبہ بھر میں تقریبات آزادی منعقد کی ہو گی۔ 13اگست کا دن شہدا تحریک پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے، دہشت گردوں کے خلاف افواج پاکستان کے آپریشن ضرب عضب کے ساتھ یک جہتی کے طور پر منایا جائے گا۔اسی روزشام کو تمام ضلعی ہیڈکوآرٹرز میں نمایاں مقام پرتحریک پاکستان 1965، 1971اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے شہدائے کی یاد میں شمعیں روشن کی جائیں گی۔ 14۔ اگست کو ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور اعلیٰ سرکاری افسران تمام شہداءکی قبروں پر پھولوںکی چادریںچڑھائیں گے اور فاتحہ خوانی کی جائے گی۔ 14اگست صوبائی سطح پر مرکزی تقریب جبکہ صوبہ بھر میں ڈویژن اور ضلع ہیڈکوارٹرز میں تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ 15۔ اگست بروز جمعة المبارک کو ضلعی سطح پر تمام مرکزی مساجد میں ”یوم دعا“ منایا جائے گا۔

محکمہ ہائر ایجوکیشن نے پنجاب بھر کے کالجز میں تقریبات آزادی کا شیڈول جاری کیاہے جس کے تحت تمام کالجز میں12تا30اگست تک 19روزہ تقریبات آزادی ہوں گی۔ صوبہ کی 9ڈویژنوں کے کالجز میں مباحثوں کے 597مقابلے اور 194واکس ہوں گی۔ شمعیں روشن کرنے کی 613تقاریب اور106خصوصی نمائشیں بھی ہوں گی۔ اسی طرح کالجز میں634سپورٹس مقابلے اور قومی پرچم لہرانے کی 664تقاریب ہوں گی۔ تقریبات آزادی شایان شان طریقے سے منانے کے لیے سپورٹس بورڈ پنجاب نے جامع پروگرام جاری کردیا ہے جس کے تحت صوبائی، ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر کھیلوں کے مقابلے منعقد کئے جائیں گے اور یہ سرگرمیاں پورا ماہ جاری رہیں گی۔ کھیلوں کے مقابلوں میں کرکٹ، ہاکی، کبڈی، فٹ بال، والی بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، کراٹے، رسہ کشی، تیراکی، باسکٹ بال، ریسلنگ، سائیکل ریس، باڈی بلڈنگ ، گھوڑا ڈانس، نشانہ بازی، جمانسٹک اور بل ریس وغیرہ شامل ہیں۔

جب قومیں بیدار‘ متحد اور منظم ہوں تو اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب اور سرخرو ہوتی ہیں۔ آج ہم تقریبات آزادی منا رہے ہیں تو ہمیں تحریک پاکستان کے محرک اور اساسی نظریے پر اپنے یقین کی تجدید کرنے چاہیے کہ قائداعظم کے فرمودات کی روشنی میں پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی اور فلاحی مملکت بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کو وقف کردیںگے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ مملکت خدا داد پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دیں گے۔

مزید : کالم