مرنے مارنے کی سیاست اور معجزوں کا انتظار

مرنے مارنے کی سیاست اور معجزوں کا انتظار

پاکستانی سیاست میں بڑھک بازی کا کلچر تو ہمیشہ سے ہی موجود رہا ہے، تاہم مرنے مارنے کی بڑھکیں حالیہ زمانے کی پیدوار ہیں، اتنا تو ضرور سنتے تھے کہ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو اس کی ذمہ داری فلاں شخص پر عائد ہوگی، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اپنے کارکنوں کو یہ حکم دیا جاتا کہ مجھے کچھ ہوا تو میرے مخالفین کو خاندان سمیت نہ چھوڑنا۔پہلے عمران خان اور اب ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ اگر مجھے شہید کر دیا جائے تو شریف برادران، ان کے خاندان کے مردوں اور قریبی وزراءکو نہ چھوڑنا، ان سے بدلہ لینا۔اس قسم کا رجحان پہلے کبھی دیکھا نہ سنا، پاکستانی سیاست کے بدلتے ہوئے رویوں میں ایک یہ رجحان بھی درآیا ہے۔اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اب پاکستانی سیاست میں انتشار کا بیج بونا ملک دشمنوں کے لئے بہت آسان ہو چکا ہے،وہ اگر اپنے مذموم مقاصد کے لئے کسی سیاسی رہنما کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں تو اس کا الزام حکمرانوں پر آئے گا اور پھر کارکن مشتعل ہو کر انہیں انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے چڑھ دوڑیں گے،نہیں صاحب نہیں، یہ کوئی راستہ نہیں ۔مرنے مارنے کی سیاست جمہوریت کی عین ضد ہے، کسی کو کچھ ہوتا ہے تو مملکت کے ادارے اس کی تفتیش اور انتقام کے لئے موجود ہیں، اگر یہ سب کچھ کارکنوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا تو پھر انارکی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔

پاکستان میں سیاسی حدت جس قدر آج ہے، شائد ہی پہلے کبھی رہی ہو۔وطن عزیز نے بہت سے سیاسی اتار چڑھاﺅ دیکھے ہیں، مگر بقول حالی:

پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت

جب سے عمران خان کے آزادی مارچ کے ساتھ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے انقلاب مارچ کا اعلان کیا ہے۔مجھے حالات کسی اور ہی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ حکومتی حلقے جلتی پر پانی کی بجائے مسلسل تیل ڈال رہے ہیں اور پھر یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ نتائج ان کی منشاءکے مطابق نکلیں۔یہ کیسے ممکن ہے۔مَیں اپنے گزشتہ چند کالموں میں تسلسل کے ساتھ یہ کہہ چکا ہوں کہ حکومت اگر کامیابی چاہتی ہے تو ماحول کو گرم نہ ہونے دے۔مَیں نے یہ بھی کہا تھا کہ یوم شہداءاور آزادی مارچ پر فری ہینڈ دینے کی پالیسی اختیار کرکے ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان پر امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کو تکلیف سے بچانے کی ذمہ داری ڈالی جا سکتی ہے،جبکہ دوسری صورت میں سب کچھ حکومت کے حصے میں آئے گا اور اسے عوامی نفرت کا سامنا کرنا پڑے گا۔یوم شہداءکو ناکام بنانے کے لئے جو شہر بند کنٹینر پالیسی نافذ کی گئی، اس نے پنجاب حکومت کو اس حد تک عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بنا دیا کہ حکومت کو باقاعدہ عوام سے معافی مانگنی پڑی۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کو تو اس سارے عمل کا فائدہ پہنچا، انہیں یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ ان کے لاکھوں کارکنوں ہی کو روکا گیا،تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور حکومت نے ریاستی جبر کا مظاہرہ کیا۔یوم شہداءتو پھر ہوگیا اور میری پیش گوئی کے عین مطابق ڈاکٹر طاہر القادری نے شرکاءکو منہاج القرآن میں قیام کرنے اور آزادی مارچ کے ساتھ انقلاب مارچ کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔آج تمام سنجیدہ حلقے اس بات کو تسلیم کررہے ہیں کہ پنجاب حکومت کی پالیسی نے ڈاکٹر طاہرالقادری کو مزید مظلوم بننے کا موقع فراہم کیا اور کنٹینروں سے شہروں کی بندش کا جو فارمولا بنایا گیا،تو اس سے حکومت کی مضبوطی نہیں، بلکہ کمزوری کا تاثر اُجاگر ہوا۔

صاف نظر آ رہا ہے کہ اپوزیشن بڑی مہارت سے حکومت کو ٹریپ کررہی ہے، اگر غور کیا جا ئے تو سب کچھ اپوزیشن کے لکھے ہوئے سکرپٹ کے مطابق ہو رہا ہے۔مَیں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ڈاکٹرطاہرالقادری نے یوم شہداءکے موقع پر اچانک یہ فیصلہ کیا کہ انہیں بھی 14اگست کو انقلاب مارچ کرنا چاہیے۔یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا اور اس کے لئے پہلے ہی عمران خان سے معاملات طے پا چکے تھے۔مَیں نے 7اگست کو اپنے کالم میں لکھا تھا کہ 10اگست کے یوم شہداءاور 14اگست کے آزادی مارچ میں ایک گہرا تعلق ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ یوم شہداءکے نام پر کارکنوں کو اکٹھا کیا جائے اور پھر 14اگست کو انہی کے ساتھ انقلاب مارچ کی کال دی جائے، اس طرح حکومت کے لئے آزادی و انقلاب مارچ کو روکنا مشکل ہو جائے گا،غالباً اس کا حکومت کو بھی اندازہ ہوگیا تھا،جس کی وجہ سے یوم شہداءپر کارکنوں کی آمد کو روکنے کے لئے پورے پنجاب کو سیل کر دیا گیا، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور حکومت دباﺅ میں آ گئی۔اس دباﺅ کی وجہ سے حکومت کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ مزید چار دن پنجاب کو سیل رکھے، اس طرح تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکن ان چار دنوں میں لاہور یا اسلام آباد پہنچتے رہیں گے۔اب یہ امکان بھی ہے کہ وہ 14اگست کو لاہور کے مختلف حصوں سے نکل کر ماڈل ٹاﺅن سے نکلنے والے جلوس میں شامل ہو جائیں۔

ایک طرف اپوزیشن کے یہ داﺅ پیچ ہیں تو دوسری طرف سیاسی ماحول میں شدت پیدا کرنے کے لئے شہید ہونے یا مارے جانے کا ذکر بھی شامل کر دیا گیا ہے۔اس کی ابتداءعمران خان نے کی اور انتہا ڈاکٹر طاہر القادری نے کردی۔اس کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ کارکنوں میں جوش و جذبہ پیدا کیا جائے اور دوسرا یہ کہ حکومت پر دباﺅ ڈالا جا سکے۔بالواسطہ طور پر ایک تیسرا مقصد بھی ہو سکتا ہے کہ مقتدر حلقوں کو حالات کی سنگینی کا احساس دلایا جائے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت کی طرف سے ایسے بیانات پر پانی ڈالنے کی پالیسی اختیار کی جاتی، مگر حسبِ روایت اس پر تیل ڈالنے کا رویہ اختیار کیا گیا: مثلاً وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ شہادت باکرداروں کو نصیب ہوتی ہے۔ڈاکٹر طاہرالقادری جیسے بے کرداروں کو نہیں۔گویا آپ نے اس حقیقت کو نہیں جھٹلایا جو ڈاکٹر طاہرالقادری نے بیان کی ، بلکہ اس کی ایک نئی توجیح پیش کردی۔موجودہ صورت حال کو دیکھ کر کوئی عقل کا اندھا ہی یہ کہے گا کہ پاکستانی سیاست ایک بڑے بحران کی طرف نہیں برھ رہی۔سڑکوں پر سیاست پہلے بھی ہوتی رہی ہے،مگر اس میں حکومت کا ریاستی جبر اور اپوزیشن کا متشددانہ رویہ اس نوعیت کا نہیں ہوتا تھا، جیسا اب نظر آ رہا ہے۔ دونوں طرف کے اس تناﺅ نے صورت حال کو سنگین بنا دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام سنجیدہ حلقے 14اگست کو کسی بڑے سانحے سے بچنے کی تلقین کررہے ہیں۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ انقلاب اور لانگ مارچ کے حامیوں نے حکومت کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں، وہ من و عن تسلیم کرنا حکومت کے لئے ممکن نہیں، کیونکہ اس کے لئے اسے اپنے خاتمے کی دستاویز پر دستخط کرنا ہوں گے۔وزیراعظم نوازشریف کے استعفے کا مطالبہ ڈاکٹرطاہرالقادری اور عمران خان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔عمران خان تو شاید پھر بھی کسی لچک کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، لیکن ڈاکٹر طاہرالقادری صرف حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں، ان کے نظریہ ءانقلاب کی خشتِ اول ہی یہ ہے کہ حکمران گھر چلے جائیں۔ایک منتخب وزیراعظم سے اس طرح استعفے طلب کرنا ایک عجیب واقعہ لگتا ہے، کیونکہ آئین میں اس کی قطعاً کوئی گنجائش نظر نہیں آتی، مگر پاکستان میں چونکہ وزراءاعظم، چیف آف آرمی سٹاف کی چھڑی کا نشانہ بنتے رہے ہیں، اس لئے یہ مطالبہ کرنے والے بھی غالباً یہی سوچ کر عوامی دباﺅ بڑھا رہے ہیں کہ اس کی وجہ سے مقتدر قوتیں وزیراعظم کو اقتدار سے محروم کر دیں گی۔اب یہ توقعات کس حد تک پوری ہو سکتی ہیں، اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں میں ہوگا،تاہم اس مہم جوئی کے نتیجے میں ملک اور اس کے عوام پر کیا کچھ بیت سکتا ہے، اس بارے میں شاید سوچنے کی کسی کے پاس فرصت نہیں۔

انقلاب اور لانگ مارچ کے شرکاءغالباً توقع یہی لگائے بیٹھے ہیں کہ جس طرح عدلیہ بحالی مارچ کے دوران گوجرانوالہ پہنچنے پر کال آ گئی تھی، اسی طرح کی کال انہیں بھی آ جائے گی اور اسلام آباد جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، وہ اس پہلو پر سوچنے کے لئے بھی تیار نہیں کہ اگر انہیں گوجرانوالہ تک پہنچنے ہی نہ دیا گیا، تو پھر کیا ہوگا۔ظاہر ہے ایک بڑا تصادم، جس کے بارے میں سوچ کر ہی خوف آنے لگتا ہے۔کیا ہم اس کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ مرنے مارنے اور شہید ہو جانے کی اس جذباتی فضا میں کسی کے پاس اس نکتے پر سوچنے کی فرصت نہیں۔ایسے ہی حالات میں معجزوں کی امید لگائی جاتی ہے، وہ معجزے جو ہونی کو انہونی میں بدل دیتے ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...