کوئی عدالت تو لگائیں

کوئی عدالت تو لگائیں

 کاش کوئی عدالت ہوتی جو پاکستانی عوام کا ان کے رہنماﺅں کے خلاف مقدمہ سنتی اور فیصلہ دیتی۔ یہ بات دھوکہ ہے کہ عوام کی عدالت فیصلہ دے گی۔ عوام کی کوئی ایسی عدالت نہیں ہے جہاں عوام کی سنی جائے۔ یہ ایک ایسی تسلی ہے جو حالات کے مارے ہوئے لوگوں کو خاموش اور ان کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے دی جاتی ہے۔ یہ پاکستانی سیاسی رہنماء خود اپنے ملک کی تاریخ سے نابلد ہیں۔ تاریخ سے نابلد لوگ کیا سبق لیں گے۔ صدر ایوب خان کی حکومت دس سال مکمل ہونے پر عشرہ ترقی منا رہی تھی۔ ایوب خان کے کاسہ لیس سیاست داں روز انہ ترقی کے گیت الاپ رہے تھے ۔ ان کے مخالف سیاست داں ان کے تخت کا تختہ کرنے میں مصروف تھے۔ حالات اس قدر بے قابو ہوئے کہ فوج کے سربراہ جنرل یحیی خان نے ایوب خان کو وہ خط لکھنے پر مجبور کر دیا جس کے بعد یحیی خان نے ملک میں مارشل لاءنافذ کر دیا تھا۔ وہ مار شل لاءپاکستان کے لئے اس قدر مہلک ثابت ہوا کہ ملک ہی دو لخت ہوگیا۔ یہ سیاست داں راگ ہی الاپتے رہے کہ نیا پاکستان بنارہے ہیں۔

پاکستان کی 14 اگست کو سالگرہ ہے۔ پاکستان کے قیام کو 67سال مکمل ہو گئے ہیں۔ ان طویل عرصوں میں اس ملک کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر چلایا گیا۔ نہ ہی مکمل اسلام، نہ ہی مکمل سرمایہ دارانہ نظام، نہ ہی مکمل سوشلزم، آمریت جمہوریت کی چادر اوڑھتی رہی، جمہوریت بعض دفعہ آمریت کا آہنی شکنجہ لئے عوام پر سوار رہی ، بے چارے عوام۔ اس ملک کے اقتدار پر در اصل روز اول سے ہی ایسے خاندانوں اور افراد کا قبضہ رہا جو عوام کی حاکمیت کے طابع رہنا نہیں چاہتے تھے۔ اس پر عمل کرنا تو دور کی بات تھی۔ بس عوام کو اس حد تک تو مانا جاتا ہے کہ یوم انتخاب وہ بھیڑ بکریوں کی طرح پولنگ اسٹیشن پر جائیں ، ووٹ ڈالیں اور ان نام نہاد لوگوں کو منتخب کرا دیں۔ کئی مرتبہ تو عوام کو ووٹ دینے سے بھی اس لئے محروم کر دیا گیا کہ نام نہاد رہنماﺅں کے گماشتے یہ کام بھی کرتے رہے۔

ہر انتخابات کے بعد عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیاں ایک ایسا فاصلہ اور وقفہ پیدا ہوا جس میں وہ منتخب نمائندہ عوام کی سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ، یا تھوڑا قبل یا بعد میں جو ممالک بھی آزاد ہوئے، وہ آج ترقی کی کن منازل پر کھڑے ہیں اور پاکستان جو بہر حال آزادی کے وقت کئی لحاظ سے عوام کے لئے پائی جانے والی سہولتوں کے ضمن میں ایک بہتر ملک تھا، آج کہاں کھڑا ہے۔ نہ معیشت بہتر ہے، نہ ہی سماجی ڈھانچہ برقرار ہے۔ کوئی سمت طے نہیں کہ ملک کا مستقبل کیا ہے، جس کو موقع مل رہا ہے وہ اس ملک کے علاوہ دنیا کے کسی اور ملک میں بھی اپنا ٹھکانہ بنا رہا ہے۔ ذمہ دار لوگوں کے لئے متبادل ٹھکانوں کی موجودگی نے بھی اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ اکثر سیاسی رہنماءہوں یا بڑے سرکاری افسران ، کون نہیں ہے جس نے متبادل ٹھکانہ نہ بنایا ہو۔ اس ٹھکانے کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان ان کی ترجیحات میں دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ جائز یا ناجائز طریقے سے وسائل پاکستان میں اکٹھا کرتے ہیں اور ان وسائل کو اپنے متبادل ٹھکانوں پر استعمال کرنا ہوتا ہے۔ سیاسی رہنماءکیوں نہیں بتاتے کہ ان کا غیر ممالک میں کتنا سرمایہ موجود ہے۔ پاکستان کی معیشت چلانے کے لئے حکومتیں ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے سامنے اپنا کشکول پھیلائے رکھتی ہیں۔ قرضہ لیا جاتا ہے ،تاکہ ملک چلایا جا سکے۔ پاکستانی معیشت کا حال وہ لوگ خوب بتا سکتے ہیں جو بیرون ملک سفر کرتے ہیں کہ پاکستانی روپے کی قدر کیا رہ گئی ہے۔ ایک بیمار معیشت کے سہارے اس ملک کو چلایا جارہا ہے۔

پاکستان میں ابتر صورت حال کی ذمہ دار ی ملک کے اقتدار پر قابض ٹولے پر ہی جاتی ہے۔ یہ ٹولہ اپنی ناکامی ان جنرلوں پر ڈالتا ہے جو ملک کے اقتدار پر قابض رہے ہیں۔ جنرل سیاست دانوں کو مورد الزام ٹہراتے ہیں۔ یہ کھیل اتنا طویل ہو گیا ہے جو اب عوام کی برداشت سے باہر ہے۔ لیکن کیا وہ کھیل جو آج کل کھیلا جارہا ہے پاکستان کے عوام کے حق میں بہتر نتیجہ دیگا ۔ مصر، لیبیا، یمن، تیونس، وغیرہ میں اس کھیل کے کیا نتائج بر آمد ہوئے۔ وہ ہمارے سامنے ہیں۔ ان ممالک کو ایک ایسے خلفشار سے دوچار کر دیا گیا ہے جہاں مستقبل قریب میں کسی بہتر توقع کی امید نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی اسی کھیل کا نیا راﺅنڈ جاری ہے۔

ایک بیمار معیشت کے حامل ملک میں سیاست کرنے والوں کی غیر سنجیدگی کا اندازہ لگانے کے لئے پاکستانی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے حجم کو ہی دیکھ لیا جائے تو اس شک کی گنجائش کم ہی رہ جاتی ہے جس کا یہ نتیجہ نہ اخذ کیا جائے کہ سیاست دان نہ جانے کب تک غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ قرضوں پر چلائے جانے والے بیمار معیشت کے حامل ملک پر مزید کتنا بوجھ ڈالا جائے گا۔ پاکستان میں آبادی 18 کڑوڑ بتائی جاتی ہے جب کہ وفاقی کابینہ کا حجم 40افراد پر مشتمل ہے جن میں وہ مشیر اور معاون خصوصی بھی شامل ہیں جن کے عہدے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کے برابر ہیں اور مراعات یعنی تنخواہیں اور دیگر سہولتیں بھی وزراء جیسی ہیں۔ یہ تو شکر ہے کہ نواز شریف کا بینہ میں کم لوگ ہیں ورنہ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف تو 65افراد کی کابینہ کی سربراہی کر رہے تھے ۔ جس ملک میں کم لوگ زیادہ کام اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکیں اس ملک میں ترقی کی رفتار سست ہی رہے گی۔ پاکستان کے مقابلے میں رقبہ کے لحاظ سے پانچ گنا بڑے ملک بھارت کی آبادی ایک ارب 21 کروڑ ہے جب کہ کابینہ میں مرکزی وزراءاور وزرائے مملکت سمیت تعداد 45افراد کی ہے۔ امریکہ میں صدر کی کابینہ میں 15مرکزی وزیر ہیں اور دیگر 8 افراد بھی کابینہ میں شامل ہیں۔ امریکہ میں ایک وزیر کی سالانہ تنخواہ ایک لاکھ99 ہزار 700 ڈالر ہے جو ماہانہ تقریبا ڈیرھ لاکھ پاکستانی روپے بنتی ہے ۔ چین کی آبادی ایک ارب35 کروڑ ہے اور کابینہ میں 35اراکین کی کونسل میں 17 وزیر ہیں۔ ، بنگلہ دیش کی آبادی 16 کروڑ ہے کابینہ 49رکنی ہے۔ سعودی عرب میں 22وفاقی وزراءاور 7 وزرائے مملکت کی کابینہ کے وزیراعظم بادشاہ خود ہیں۔ دیکھ لیں تو ہمیں اس تماش گاہ میں اپنے سیاسی قائدین اور رہنماﺅں کی رو ش کا اندازہ کرنے میں کوئی مشکل در پیش نہیں رہتی ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ملک کی معیشت اور روٹی کو ترستے عوام کے ساتھ کیسا تکلیف دہ مذاق ہے۔

عوام کا مقدمہ کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ پینے کا صاف پانی نہیں ہے، روزگار کے مواقع نہیں ہیں، تعلیم کے بہتر مواقع نہیں ہیں۔ اخراجات کے مقابلے میں اجرتیں نہایت قلیل ہی نہیں، بلکہ غیر معقول ہیں، علاج معالجہ کی معقول سہوتیں نہیں ہیں۔ سرکار کی ماتحتی میں کام کرنے والے اداروں کی کارکردگی اس قدر ناقص بنا دی گئی ہے کہ عوام اور سماجی سہولتوں کے درمیاں فاصلہ طویل ہو گیا ہے۔ عوام کے مقابلے میں نام نہاد منتخب نمائندوں ، وزرائ، اور بڑے افسران کے اولادیں، رشتہ دار اور ان سے قربت رکھنے والے لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں محنت کش اور ہاری کی زندگی میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آسکی ہے۔ یہ ہی تو مقدمہ ہے کہ دونوں گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگیوں میں پائے جانے والے فرق پر غور کیا جائے اور غور تو کرنا ہوگا۔ کسی تاخیر کے بغیر غور کرنے میں ہی پاکستانی حکمران طبقے کی عافیت ہے۔ کاش کوئی عدالت ہوتی جو پاکستانی عوام کے ان رہنماﺅں کے خلاف مقدمہ سنتی اور فیصلہ دیتی ۔ لیکن یہ عوام کی عدالت سوائے دھوکہ دہی کے اور کچھ نہیں ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...