قیادت کا بحران

قیادت کا بحران
قیادت کا بحران

  

وطن عزیز کی سیاسی ومذہبی اشرافیہ ، ریاستی اہلکاروں کرتا دھرتاﺅں اور عوام کی ایک کثیر تعداد کی حرکات وسکنات کا بغور جائزہ لینے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں اس ملک کے اندر کوئی مثبت تبدیلی نہیں آسکتی ۔ حالانکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پوری دنیا کے حالات تبدیل ہوئے ہیں اقوام نے اپنی اپنی ریاستوں کے اندر بے پناہ ترقی کی ہے ۔ انسانی ذہن انسانوں کیلئے تبدیل ہوتے ہیں انسانیت کے ارتقاءکا ایک نیا سفر شروع ہوا ہے جوجاری ہے مگر ہم آج بھی قیادت کے شدید ترین بحران سے نبرد آزما ہیں اور تکریم آدمیت کے حصول کی کوئی واضع کرن دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ قیادت کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے سیاسی اختلافات کی بجائے ذاتی جنگ لڑی جارہی ہے دکھ اپناہے لیکن اس کیلئے عوام کو غیر یقینی صورت حال اور بداعتمادی کی الاﺅ میں جھونکا جارہا ہے حالانکہ لیڈر (رہنما) تو وہ ہوتا ہے جو عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی جنگ کرتا ہے ۔ مثبت تبدیلی لانے کیلئے نئی بات کرتا ہے ایک مقدم اور اصل شخصیت کا حامل ہوتا ہے ۔ عوام اور ملک کی ترقی کیلئے نئی سوچ دیتا ہے اور اس پر عمل درآمد کیلئے اپنے پیروکاروں کو آمادہ کرتا ہے ۔ عوام کی ضروریات اور مسائل پر گہری نظر رکھتا ہے ۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ مثبت تبدیلی لاتا رہتا ہے عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے اور مزید اعتماد حاصل کرتا ہے داخلی اور خارجی معاملات پر گہری نظر رکھتا ہے ۔ نگاہ بلند رکھتا ہے معاملات کے بارے میں آگاہی حاصل کرتا رہتا ہے اور اس کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل اور سوچ بنا تا ہے چڑھتے سورج کی طرح عوام کیلئے روشنی لانے کیلئے دن رات کام کرتا ہے جمود کے خلاف آواز بلند کرتا ہے جمود توڑتا ہے ۔ معاملات کو سلجھانے والے ایک ذمہ دار کا روشن کردار ہوتا ہے لیکن ہماری قیادت ( حادثاتی قیادت یا اشرافیہ ) الامان ............یہ ایک اوسط درجے کے منتظم بھی نہیں ہیں ، نقلچو ہیں اپنی سوچ بھی نہیں ہے اور موجود سسٹم یا چیزوں کی درست بھی نہیں رکھ سکتے بلکہ دن بدن پستی کی طرف لے کر جارہے ہیں ،سلجھاﺅ کی بجائے قابو کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔ کیونکہ طاقت کا استعمال پر ان کا یقین ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی سوچ بڑی شارٹ ہے ۔ اور کسی سے باہم صلاح ومشورے اور بات چیت کے بغیر اپنے بنائے ہوئے اصول اور نتائج کے منوانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ جمود کو جاری رکھنا چاہتے رہیں کسی بھی مسئلے کا حل نکالنا نہیں چاہتے ۔ سیاسی اختلافات کو ذاتی جنگ میں تبدیل کرنا جانتے ہیں ۔ جبکہ جاری مسائل کو حل کرنے کی ان میں صلاحیت بھی نہیں ہے ۔ اس وقت بھی اگر ملک بھر کی سیاست اور حکومت کا منظر نامہ دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عوام کو اپنے منشور اور تقاریر کے ذریعے سنہری اور سبز باغ دکھا کر ووٹ حاصل کرنے والا حادثاتی لیڈر ا س وقت کس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ۔ کیا وہ بتاپائیں گے ؟ اور کیونکہ حکومت سمیت تحریک انصاف، عوامی تحریک ، مسلم لیگ (ق) اور عوامی مسلم لیگ اور دوسری جماعتیں کس چیز کی آڑ میں عوام کو تختہ مشق بنارہے ہیں یہ کون سا انقلاب ہے جس کی وجہ سے گزشتہ ایک ہفتے سے ملک میں ایک ایسا خوف اور بداعتمادی کی فضا بن چکی ہے جس نے عام لوگوں کو نفسیاتی مریض بناکر رکھ دیا ہے اور وہ کیسا انقلاب ہے اس کے خدوخال کیا ہوں گے کہ عوام کو سکون مل سکے گا کیا علامہ طاہر القادری نے کوئی اس بارے میں کسی کو بتایا ہے کہ ؟؟؟؟ عمران خان کون سی انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں جن کیلئے انہیں جشن آزادی منانے کی بجائے آزادی مارچ منانے پر مجبور کررہا ہے اور کیا عمران خان بتائیں گے ۔

 اگر وہ کچھ حلقوں کو اوپن اور انتخابی اصلاحات کراکر عام لوگوں کیلئے کیا آسانی پیدا کرسکیں اور کیا انہوں نے خیبر پختوانخواہ میں ایک رول ماڈل بنادیا ہے اور اب پورے ملک میں اس کی ضرورت پڑ گئی ہے اور کیا انہوں نے اپنی ” منجی تلے ڈانگ “ پھیر لی ہے جہاں فوجی اور سول ڈکٹیٹروں کے ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں کیا انہیں انداز ہ ہے کیا کوئی اندازہ لگاسکتا ہے کہ 1977ءکے مارشل لاءسے سول اور فوجی ڈکٹیٹر کا ساتھ دینے اور حکومت کے کلیدی عہدوں پر فائز رہنے والے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی بھی اس وقت”انقلاب “ کو دعوت عام دیتے پھر رہے ہیں یعنی 36سالوں میں پہلی مرتبہ صرف ایک سال سے حکومت سے باہر ہیں تو ”انقلابی“بن گئے ہیں عوامی مسلم لیگ تو اپنی مثال آپ ہے شیخ رشید ........ان کیلئے الفاظ بھی نہیں ہے کہ تعریف کی جائے ۔ کیونکہ وہ میاں برادران کی مخالفت میں حدنگاہ سے بھی آگے جاچکے ہیں ۔ باقی رہی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ، تو وہ دونوں وقت کی دھار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ وہ چاہیںتو آج ہی تمام معاملات کو سیاسی طور پر حل کیا جاسکتا ہے لیکن ” سیاست “ بھی کوئی چیز ہوتی ہے نا ........اور پھر جو اس وقت حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں وہ بھی ” ڈومور “ کے چکر میںہیں ۔ ورنہ مولانا فضل الرحمن ، سراج الحق اور محمود خان اچکزئی کی زبان میں آج بھی وہ تاثیر ہے کہ وہ کم از کم سیاسی طور پر کسی کو راضی کرلیں ....تو پھر کیوں نہیں ہورہا ....

وطن عزیز کی سیاسی ومذہبی اشرافیہ ، ریاستی اہلکاروں کرتا دھرتاﺅں اور عوام کی ایک کثیر تعداد کی حرکات وسکنات کا بغور جائزہ لینے کے بعد ایسا لگتا ہے مستقبل قریب میں اس ملک کے اندر کوئی مثبت تبدیل نہیں آسکتی ....بحران ہے ، بحران ہے ، بحران ہے ، قیادت کا شدید ترین بحران ....

مزید : کالم