طاہر القادری طالبان کے راستے پر ؟

طاہر القادری طالبان کے راستے پر ؟


پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے تحریک منہاج القرآن سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں یوم شہداء کے اجتماع کے شرکاء کو تین دن اسی مقام پر رکنے کی ہدایت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کا انقلاب مارچ 14اگست کو ہوگا ،آزادی مارچ اور انقلاب مارچ اکٹھے چلیں گے۔ اس مارچ میں مسلم لیگ ( ق)،سنی اتحاد کونسل اوراتحاد بین المسلمین بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ انہیں شہید کردیا جائے گا تاکہ انقلاب سے جان چھوٹ جائے، اس لئے اگر انہیں شہید کردیا جائے تو کارکن نوازشریف ، شہبازشریف اور ان کی کچن کیبنیٹ کو نہ چھوڑیں اور جو بھی نظام بدلے بغیر واپس آئے اسے بھی شہید کردیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شہادت سے گھبرانے والے نہیں ، ظالموں کے خلاف جنگ لڑیں گے ،وہ دنیا کے کسی بھی جابر حکمران سے ڈرنے والے نہیں اور نہ ہی جھکنے اوربکنے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انقلاب قربانیوں کے بغیر نہیں آتا،جابر اور ظالم حکمران ہرقسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے آخری حد تک جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عوامی تحریک نے کبھی امن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا کارکن ان کا پہرہ دیتے ہیں اوروہ اپنے کارکنوں کا پہرہ دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا انقلاب 18کروڑعوام کو غربت سے نجات دلائے گا ،دہشت گردوں سے پاک پاکستان بنائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کا کوئی بینک بیلنس نہیں ہے ،اگرہوتا تو ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات میں سامنے آجاتا۔ انہوں نے کارکنوں کوخبردار کیا کہ ناشتے یا کھانے کے لئے باہر نکلنا ہوتو100افراد اکٹھے ہوکرنکلیں اور اگر کوئی ان پر ظلم کرے تو اسے ظلم کرنے کے قابل نہ چھوڑیں۔انہوں نے تین دن قرآن خوانی اور تیسرے دن سوئم کا اعلان بھی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ انقلاب کے لئے قوم کو بھی نکلنا ہوگا جو شخص انقلاب کے لئے نہ نکلے اس کے دل میں ایک رائی برابر ایمان نہیں ہو گا۔

طاہر القادری صاحب پہلے نظام بدلنا چاہتے تھے اب حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے نہ صرف انقلاب مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے بلکہ اپنے مارچ کو عمران خان کے آزادی مارچ کے ساتھ بھی جوڑ لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پر امن احتجاج کے حامی ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنے کارکنوں کو یہ بھی ہدایت کر دی کہ اگرکوئی انقلاب لائے بغیر واپس آئے تو اس کو بھی شہید کر دو۔ اگر یہ احتجاج پر امن ہے تو اس بات کا کیا مقصد ہے؟ یعنی لوگ ڈر اور خوف میں مبتلا ہو کر وہیں بیٹھے رہیں اور واپس آنے کی جرات نہ کریں۔ ان کا بار بار یہ کہناہے کہ اگر وہ شہید ہو جائیں تو حکومت ذمہ دار ہو گی اور کارکن ان سے بدلہ لیں ۔عمران خان بھی اپنے کارکنوں کو ایسی ہی تلقین کرتے نظر آ رہے ہیں کہ اگر ان کو کچھ ہو گیا تو ذمہ دار حکومت ہو گی اور کارکن ان سے بدلہ لیں۔یہ کیسا پر امن احتجاج ہے جس سے تشدد کی بونِکل نِکل کر باہر آ رہی ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری صاحب ایک پڑھے لکھے آدمی ہیں، انہوں نے متعدد کتابیں لکھی ہیں اور دنیاانہیں ایک اسلامک سکالر کے طور پر جانتی ہے، ان کی عزت کرتی ہے۔ 2010ء میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف ’دہشت گردی اور فتنہ خوارج ‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی جس میں انہوں نے دہشت گردی اور خود کش حملوں کو صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا۔ تو جو شخص طالبان کی مسلح جدو جہد کو نا جائز قرار دیتا ہو وہ لوگوں کو حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد پر کیسے اکسا سکتا ہے؟وہ کیسے طالبان کے راستے پر چل سکتا ہے؟مگر ان کے بیانات سے چھلکنے والے جذبات ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہیں، ملک میں صرف یہی لوگ تو نہیں ہیں، اور بھی سیاسی اورمذہبی جماعتیں ہیں۔ اگر سب اپنی من مانی کرنا شروع کر دیں، توکیا ہو گا؟پاکستان تمام تر خرابیوں کے باوجود خانہ جنگی سے اب تک محفوظ ہے۔ہمیں یہاں عراق، شام اور لیبیا جیسے حالات نہیں چاہئیں۔ ہم کسی قسم کے خونی انقلاب کے حق میں ہیں اور نہ ہی اس کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ہمیں ہر قیمت پراپنی آزادی کی حفاظت کرنی ہے۔ غزہ کی صورت حال سب کے سامنے ہیں، وہاں تو فلسطینیوں کو معمولی بنیادی حقوق بھی نہیں مل پا رہے، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو بے دریغ مارا جارہا ہے۔ کوئی ان سے جا کر پوچھے آزادی کیا ہوتی ہے جو کھلی فضا میں سانس لینے کو ترس رہے ہیں۔اس لئے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ پاکستان میں خانہ جنگی کی راہ ہموار کرے اور قوم کو خونی انقلاب پر اکسائے۔

دوسری طرف تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے 14اگست کو ہر صورت میں آزادی مارچ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو اس کے ذمہ دار وزیراعظم ہوں گے۔ تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس اتوارکو چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت بنی گالہ (اسلام آباد) میں ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کا آزادی مارچ ہر حال میں ہوگا اور 14 اگست سے پہلے حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ کور کمیٹی نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ہر صورت استعفیٰ دینا پڑے گا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ تحریک انصاف کا آزادی مارچ پر امن ہو گا اوروہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں بلکہ مستحکم کرنے کے لئے آزادی مارچ کر رہے ہیں، گرفتاریاں ان کا راستہ نہیں روک سکتیں، اگرعمران خان یا تحریک انصاف کے کسی رہنما کو گرفتار کیا گیا یا ان کے آزادی مارچ میں خلل ڈالا گیا تو اس کے نتیجے میں قوم کو جو نقصان پہنچے گا چاہے وہ مارشل لاء کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں ،اس کے ذمہ دار حکمران ہوں گے۔

تحریک انصاف بھی بضد ہے کہ وہ لانگ مارچ کرے گی اور ان کی پارٹی کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ اب جو بھی بات ہو گی وہ چودہ اگست کے بعد اسلام آباد میں ہو گی۔ تو اگر بعد میں بات ہو سکتی ہے تو پہلے مذاکرات کے ذریعے معاملات کیوں نہیں سلجھائے جائے جا سکتے؟سب جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری ہے اور ایسے میں اگر وہ اپنی کوئی چال چل گئے تو کیا اس کا ذمہ بھی حکومت کے سر ہی آئے گا اور ملک میں انتشار پھیلایا جائے گا؟یہ سب لیڈران سہانے خواب تودکھا رہے ہیں،عوام کو روٹی، کپڑا اورمکان دینے کا دعویٰ تو کر رہے ہیں لیکن کیا اس کے لئے وہ کوئی جادو کی چھڑی گھمائیں گے؟ پاکستان تو یہی رہے گا اور اس کے وسائل بھی یہی رہیں گے تو پھران کے بر سر اقتدار آنے سے ایک دم تمام مسائل کیسے حل ہو جائیں گے؟یہ کوئی الف لیلہ کی کہانی نہیں ہے اور نہ ہی طاہر القادری اور عمران خان اس کے کوئی کردار ہیں، تو پھر الف لیلوی دعوے کیوں کر رہے ہیں؟

انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کے اعلانات ہوتے ہی کراچی سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان ہے اور اب تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1310سے زائد پوائنٹس کی کمی آ چکی ہے، جانے کتنی کمی ابھی اور آنا باقی ہے؟ یہ کیسا انقلاب اور تبدیلی ہے جس کے اعلان نے ہی لوگوں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا دیا ہے؟جو عوام جوش و خروش سے یوم آزادی کا انتظار کرتے تھے، جھنڈیاں اور قومی پرچم خریدتے تھے آج وہ اس دن کے بخیرو عافیت گزر جانے کے لئے دعا گو ہیں۔ طاہر القادری اور عمران خان کو اپنے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے ، رویوں میں لچک پیدا کرنی چاہئے۔ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہئے جس سے لوگوں کے جذبات بھڑکیں اور انتشار پیدا ہو۔پر امن لوگوں کی زبان سے شر انگیزی اچھی نہیں لگتی۔

حکومت کی طرف سے بھی جا بجا رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، کنٹینرز لگا کر لاہور کو سیل کر دیا گیا۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو اجتماع میں شرکت کرنے سے روکنا بلاجواز تھا جہاں اتنے لوگوں نے اس اجتماع میں شرکت کی وہاں دو چار ہزار افراد کااضافہ ہو بھی جاتا تو اس میں کیا خرابی تھی؟ راستے روکنے سے عام شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہو ا۔ لوگوں کی باراتیں رک گئیں، جنازوں میں شرکت ممکن نہ ہو سکی، ایمبولینسیں ہسپتال نہ پہنچ سکیں، مریض علاج سے محروم ہو گئے۔ حکومت نے توکسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے یہ اقدامات کئے لیکن اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔اس لئے حکومت کو بھی چاہئے کہ فہم و فراست سے کام لیتے ہوئے اس سارے معاملے کا سامنا جمہوری انداز سے کرے اور غیر ضروری تدابیر اورکریک ڈاون سے پرہیز کرے۔احتجاج کرنا ہر کسی کا حق ہے بشرطیکہ پر امن ہو اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے ۔

مزید : اداریہ