براہ راست صدارتی انتخاب میں رجب طیب اردوان کی کامیابی

براہ راست صدارتی انتخاب میں رجب طیب اردوان کی کامیابی

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوان نے پہلے براہِ راست صدارتی انتخابات میں اب تک کی گنتی کے مطابق51.8 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کر لی ہے، اس وقت تک ننانوے فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے۔۔۔ رجب طیب اردوان 2003ء سے ترکی کے وزیر اعظم چلے آ رہے ہیں اور اس وقت ان کی تیسری ٹرم جاری ہے۔ اب وہ بطور صدر اختیارات سنبھالیں گے اُن کا یہ دور 28 اگست سے شروع ہوگا۔

عام خیال یہ ہے کہ اردوان صدارتی اختیارات میں اضافہ چاہتے تھے اس لئے انہوں نے صدر کا انتخاب لڑنے کو ترجیح دی، اب اُن کے اختیارات میں اضافہ متوقع ہے اور وزیر اعظم کے اختیارات نسبتاً کم ہو جائیں گے۔ ان کی پارٹی میں اس مسئلے پر اختلافِ رائے پایا جاتا تھا، تاہم اردوان کی رائے کو پذیرائی ملی اور انہوں نے پہلے براہِ راست صدارتی انتخابات کرائے اور خود امیدوار بن کر جیت گئے، اُن کے مدِ مقابل دو امیدوار تھے جن کے مجموعی ووٹ بھی اُن سے کم ہیں اس لئے تجزیہ نگار ابھی سے اندازہ لگانا شروع ہو گئے ہیں کہ وہ اب 2024ء تک صدر رہیں گے۔ یعنی اگلے صدارتی انتخابات بھی جیت جائیں گے اس وقت تک حالات نہ جانے کیا ہوں کیونکہ اُن کے مخالفین کی بھی کمی نہیں اور ان کے خلاف چند ماہ قبل ایک بحران کھڑا کر دیا گیا تھا جس میں کئی وزراء کو مستعفی ہونا پڑاتاہم انہوں نے اسے سنبھال لیا، لیکن اگلے پانچ سال کے لئے اُن کا انتخاب ثابت کرتا ہے کہ اُن کی مقبولیت پچھلے گیارہ سال سے کم نہیں ہوئی، اب ترکی میں جمہوریت مضبوط ہو گی اور سیاست میں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی نکھر کر سامنے آئے گا۔ اردوان سے پہلے ترکی کی افواج بار بار سیاست میں مداخلت کر کے سیاسی حکومتوں کا تختہ الٹتی رہی ہیں، اردوان نے یہ سلسلہ روک دیا ہے اور امید ہے بطور صدر اُن کا یہ عہد ترکی کے لئے مزید کامیابیاں لائے گا، اور پاکستان جیسے ترکی کے دوست ممالک کو بھی ادھر سے ٹھنڈی ہوائیں آئیں گی۔

مزید : اداریہ