آرمی چیف مشرف ایشو پر نا خوش ہیں:نیو یارک ٹائمز

آرمی چیف مشرف ایشو پر نا خوش ہیں:نیو یارک ٹائمز
آرمی چیف مشرف ایشو پر نا خوش ہیں:نیو یارک ٹائمز

نیویارک ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اخبار نے الزام عائد کیا ہے کہ آرمی چیف پرویز مشرف کے معاملے پر وزیر اعظم سے ناخوش ہیں اور عام خیال ہے کہ پاکستان میں احتجاج اور تشدد حکومت کے خاتمے کی منصوبہ بندی ہے، نواز شریف نے چیلنجز کا سامنا کرنے میں زیادہ ردعمل دکھایا یعنی نامناسب طریقے نے احتجاج کوروکنے کی بجائے ہوا دی ،طاہر القادری کی واپسی نے سیاست کو دھندلا دیا،ان کے حامیوں نے حالات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز لکھتا ہے کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ پرویز مشرف کو پاکستان سے جانے کی اجازت نہ دینے پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف وزیر اعظم نواز شریف سے ناراض ہیں۔ طاہر القادری اور فوج کے درمیان قریبی تعلقات کی اطلاعات نے کچھ پاکستانیوں میں یہ خدشات پیدا کردئیے ہیں کہ قادری کا احتجاج فوجی بغاوت کی طرف لے جاسکتا ہے۔عمران خان نے بھی اپنے دھرنے کی ناکامی کی صورت میں فوجی مداخلت کا عندیہ دیا اور کہا کہ مارچ کے خلاف طاقت کے استعمال کے نتیجے میں  فوج آئی تو اس کی ذمہ داری نواز شریف پر ہوگی۔عمران خان اور قادری نے فوج کے ساتھ رابطوں کی تردید کی ہے اور اس خدشے کی حمایت میں بہت کم ثبوت ہیں کہ فوج اقتدار سنبھالے گی۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اس بات پر نواز شریف سے ناخوش ہیں کہ انہوں نے پرویز مشرف کو پاکستان سے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیاہے،اخبار نے طاہر القادری اور عمران خان کے احتجاج پر اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھاکہ پنجاب بھر میں پولیس اور نواز شریف کے مخالفین کے درمیان پر تشدد جھڑپیں جاری ہیں ان جھڑپوں میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئی اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں.

عمران خان نے اس احتجاج پر بہت کچھ داﺅ پر لگا دیا ہے جب کہ ان کی پارٹی خیبر پختونخوا میں حکمران ہے اوران کا مقصد نواز شریف کی تبدیلی ہے۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں واضح کہا ہے کہ 14اگست کا احتجاج ایک فیصلہ کن ہوگا۔ نواز شریف نے قانون اور سیکورٹی فورسز کے ذریعے حریفین کو سخت جواب دیا اورعمران خان کو روکنے کےلئے اسلام آباد میں عارضی طور پر سیاسی مظاہروں پر پابندی لگا دی ہے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نواز شریف نے چیلنجزکا سامنا کرنے میں زیادہ ردعمل دکھایا ہے۔آہنی ہاتھ اور نامناسب طریقے نے احتجاج کوروکنے کی بجائے ہوا دی ہے۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...