موجودہ سےاسی بحران کی ذمہ داروفاقی حکومت ہے ، لیاقت بلوچ

موجودہ سےاسی بحران کی ذمہ داروفاقی حکومت ہے ، لیاقت بلوچ

لاہور(سٹاف رپورٹر)سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے ملک کے موجودہ سنگین سیاسی بحران پر بیرو ن ملک پاکستانیوں اور لاہور کے معززین کی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی حکومت اور اقتدار میں شامل جماعتیں اس بحران کی براہ راست ذمہ دار ہیں ۔ محلاتی سازشوں اور عوامی مسائل حل کرنے میں میاں نوازشریف بری طرح ناکام رہے ہیں ۔ حکومتی خراب کارکردگی اور وزراءکے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیاہے ۔ اپوزیشن کا احتجاج آئین ، جمہوریت اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے اگر وفاقی اور پنجاب حکومت دانش مندی اور سیاسی جمہوری رویے اپناتی تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی ۔ وفاقی اور پنجاب حکومت کی بنیاد پر سارے ملک کو ایک لاٹھی سے ہانکنے کی حکمت عملی زوال پذیر ہوئی ہے۔ بجلی بحران، مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی، اداروں کے ٹکراﺅ کی صورت حال نے حالات کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ آئین، عدلیہ اور عوام کے جمہوری حقوق کی حفاظت کی جائے۔ انا، ضد، ٹکراﺅ جمہوری قوتوں کو بند گلی میں دھکیل دے گا اور سب کے ہاتھ سے سب کچھ جائے گا۔ جب چڑیا کھیت چگ جائیں گی تو پچھتانا بے کار ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آئین کے مطابق سیاسی بحران کا سیاسی تدبر کے ساتھ حل تلاش کیا جائے اور درج ذیل روڈ میپ کے مطابق حل تلاش کیا جائے۔قانون سازی کر کے تمام اعتراض شدہ حلقہ جات کی تیس دن میں عدالتی کارروائی مکمل کی جائے اور انتہائی قابل اعتراض حلقہ جات میں دوبارہ گنتی کا عمل بھی تیس دن میں مکمل کیا جائے۔ انتخابی نظام بوسیدہ اور ناکارہ ہو چکا ہے۔ شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے لیے انتخابی نظام کی اصلاح کی جائے۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہ انتخابی نظام کی اصلاح کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹی کو گائیڈ لائن دیں اور پارلیمانی کمیٹی انتخابی نظام کی اصلاح پر کم وقت میں اتفاق رائے پیدا کرے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل نو کی جائے، آئین کے مطابق نیا چیف الیکشن کمیشنر مقرر کیا جائے اور ممبران الیکشن کمیشن کی ازسرنو تقرری کے لیے پرانے ممبر مستثنیٰ ہو جائیں تاکہ قومی امنگوں کے مطابق نیا الیکشن کمیشن تشکیل دے دیا جائے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان آئین کے آرٹیکل 62,63پر عمل درآمد کے لیے مربوط میکنزم بنائے اور سیاسی جماعتیں آئین، جمہوریت اور صاف ستھرے جمہوری نظام کے لیے آئین کے آرٹیکل 62,63 کے معیار پر پورا اترنے والے امیدواروں کو ٹکٹ دیں اور سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ یافتہ خود بھی دھاندلی کرانے سے پرہیز کریں۔ سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ آئین اور جمہوریت کے نظام کی بالادستی قبول کریں۔ آئین سے ماورا کوئی کام نہ کیا جائے۔ سیاسی بحرانوںکا سیاسی بنیادوں کے حل کو ہی ترجیح دی جائے۔ اگر سیاسی جمہوری بنیادوں پر آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اتفاق رائے پیدا کر لیا جائے تو نئے انتخابات کا انعقاد جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے آپشن سے بہتر ہو گا۔

لیاقت بلوچ

 

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...