تحریک انصاف انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم میں کرپشن کی وجہ سے بری طرح ہاری،اسحاق ڈار

تحریک انصاف انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم میں کرپشن کی وجہ سے بری طرح ہاری،اسحاق ...

                     اسلام آباد (آئی این پی ) وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا کہ خالی دماغ لوگ انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں ، جہاں جمہوریت ہوتی ہے وہاں انقلاب نہیں آتے، تحریک انصاف میں انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی، اسی وجہ سے تحریک انصاف بری طرح ہاری ، بی بی سی نے اپنے سروے میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان اسی طرح چلتا رہا تو جلد دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔ وہ جناح کنونشن سنٹرمیں ویژن 2025 کے اجراءکی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران مختصر مدتی معاشی پروگرام پر عملدرآمد کیا، جس کے نتیجے میں پاکستانی معیشت بحران سے نکل آئی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کہہ رہے تھے کہ جون 2014ءتک پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا مگر موجودہ حکومت کی ایک سالہ بہتر اقتصادی کارکردگی کی بدولت وہی ادارے پاکستان کو اب مثبت ریٹنگ دے رہے ہیں بلکہ بی بی سی کے سروے میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ پاکستان اگر دس سال تک اسی طرح چلتا رہا تو دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب وہاں آتے ہیں جہاں جمہوریت نہیں ہوتی، آج جو لوگ انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں ان کا دماغ خالی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ دوران انتخابات تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم پر بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی جس کی وجہ سے وہ بری طرح شکست سے دوچار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتخابی اصلاحات کے لئے تیار ہیں ۔سپیکر قومی اسمبلی نے اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ادھر پاکستان کی ترقی کا آغاز ہے جبکہ ادھر بربادی کا آغاز ہو رہا ہے اب فیصلہ قوم نے کرنا ہے کہ کدھر جانا ہے۔ قبل اس کے وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال نے ویژن 2025 کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا ویژن ہے جس کا مقصد ایسی ترقی نہیں کہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا رہے بلکہ ویژن 2025 کے ذریعے ہم معاشرے میں مقابلے کا رجحاناور مساوی مواقع، قومی یکجہتی اور احساس تحفظ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویژن 2025کی تیاری میں پانچ جمع سات کے فارمولے کے تحت تیار کیا گیا ہے جس کی رو سے پاکستان کے پانچ بنیادی ستون قومی اتفاق رائے، سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی، امن و سلامتی اور سماجی انصاف ہیں جبکہ ان کو مضبوط بنا کر ہم 2025 تک ترقی کے سات ستون تعمیر کرنا چاہتے ہیں جن میں انسانی وسائل کی ترقی، خود انحصاری ، گڈ گورننس، توانائی کے بحران کا خاتمہ، ملکی معیشت میں نجی شعبے کا رہنما یا نہ کردار، زراعت و تجارت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور ملک میں جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔

مزید : صفحہ اول