سابق سپائی ماسٹر عمران کو کامیابی نہیں دلا سکی اب لانگ مارچ پر اکسا رہے ہیں پرویز رشید

سابق سپائی ماسٹر عمران کو کامیابی نہیں دلا سکی اب لانگ مارچ پر اکسا رہے ہیں ...

                        لاہور(آن لائن،اے این این،مانٹیرنگ ڈیسک ) وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ سابق ”سپائی ماسٹر“عمران خان کو کامیابی نہیں دلا سکے اب انھیں لانگ مارچ پر اکسا رہے ہیں، عمران خان شیشے کے کمرے میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر نہ پھینکیں، تمام محب وطن اور جمہوریت پسندسیا سی جماعتیں حکومت کے ساتھ ہیں،عمران خان پارلیمنٹ میں تنہا ہو چکے ہیں، عمران خان نے اپنے اسلام آباد آنے کے حوالے سے کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا اور نہ ہی انہیں یہ علم ہے کہ وہ 15لاکھ والی آبادی کے شہر میں 10لاکھ بندوں کو کہاں بٹھائیں گے ، ان کو ناشتہ دوپہر کا کھانا کہاں سے دیں گے،یہ لوگ صبح سویرے اپنی حاجت کہاں پوری کریں گے؟، وہ خود آزادی مارچ کے حوالے س کنفیوژڈ ہیں ان کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ پاک فوج اسلام آباد میں ان کی حفاظت کےلئے ہوگی،درحقیقت پاکستان کی فوج شمالی وزیر ستان میں آپریشن ضرب عضب میںمشغول ہے،خان صاحب اپنے بیانات سے اس ادارے کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے، پاک فوج کو پوری قوم کی حاصل ہے اور اس وقت ہر ادارہ قومی اور آئینی حدود میں رہ کر اپنا کام کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کی شام جاتی عمرہ رائے ونڈ میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اعلی سطحی مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز ڈاکٹر طاہر القادری اور دیگر کی پیش گوئیاں انشاءاللہ تعالی دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ مئی2013کے انتکابات میں شکست ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ایک فیکٹ فائنںدنگ کمیٹی بنائی گئی جس نے ایک رپورٹ مرتب کر کے پیش کی۔ کمیٹی میں سینئر ریٹائرڈ بیوروکریٹس بھی شامل تھے۔اس کو درآصل وائٹ پیپر کا نام دیا گیا۔ وائٹ پیپر میںیہ بات کہی گئی کہ تحریک انصاف کی ہارنے کی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ عمران خان کا پیسے لے کر ٹکٹیں دینا تھا، پیسے لے کر جن لوگوں کو ٹکٹیں دی گیئں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ اور آزادانہ ہونے والے انتخابات جیتنے کے اہل نہیں تھے۔ عمران خان وہ وائٹ پیپر قوم کے سامنے لانے کی بجائے اسے چھپاتے پھرتے ہیں۔انہیں چاہئے کہ وہ دوسروں پر الزامات عائد کرنے کی بجائے اپنے گھر میں تیار ہونے والی رپورٹ کو سامنے لائیں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں۔ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں کو پتھر مارنے سے گریز کریں۔پرویز رشید نے کہا کہ عمران کان جن حلقوں میں دھاندلیوں کا ذکر کرتے ہیں وہ انہیں صرف اور صرف پنجاب ہی میں دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے دھاندلیوں کے حوالے سے کبھی بھی کراچی، سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان کا ذکر نہیں کیا۔وہ صرف پنجاب اسمبلی اورقومی اسمبلی کے خلاف ہیں ۔ مگر وہ ان دونوں کے ساتھ ساتھ دیگر اسمبلیاں کیوں تڑوانا چاہتے ہیں۔ اور ان کو کیوں سز دلوانے کے متمنی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک سابقہ اسپائی ماسٹر جنہوں نے خان صاحب کی جماعت بنانے میں اہم کردار ادا کیا وہ آ ج کل پاکستان میںہیں اور خان صاحب کو احتجاج کے حوالے سے مشورے دے رہے ہیں۔ وہ ان کے اتالیق ہیں۔ جن کے مشوروں سے جماعت کو انتکابات میںکامیابی نہ مل سکی ان کے مشوروں سے احتجاجی تحریک کس طرح کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور حکومت ہر مشکل میںتحفظ پاکستان کے ذمہ دار ہے۔ریاست میںاگر کوئی اپنی مرضی سے لوگوںکی گردنیں اتارے گا تو ایسے شخص کو نہ تو کسی طور پر ساتھ دیا جائے گا اور نہ ہی اسے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت دی جائے گی۔ایسے شخص کی مذمت کے حوالے سے کسی کو 22(عمران خان کو)گھنٹے بعد بھی توفیق نہیں ہوئی۔ یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ عمران خان ڈاکٹر طاہر القادری کی بی ٹیم بن چکے ہیں۔ ہم اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ خان صاحب یہ بات سمجھ لیں کہ اگر قتل کے فتوے دینے والون کی خون کی پیاس اور ہوس کبھی ختم نہیں ہوا کرتی۔ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس سے تناﺅ کی صورتحال پیدا ہو۔ اس لئے ہم نے اپنے ورکروں کو صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

مزید : صفحہ اول