وزیر اعظم کو احتجاج کرنیوالے سیاستدانوں کے پاﺅں بھی پڑنا پڑے تو پڑیں ،لاہور ہائیکورٹ

وزیر اعظم کو احتجاج کرنیوالے سیاستدانوں کے پاﺅں بھی پڑنا پڑے تو پڑیں ،لاہور ...

                  لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے لانگ مارچ روکنے کے لئے دائر درخواست پر عمران خان ،ڈاکٹر طاہر القادری ،چودھری شجاعت حسین ،پرویز الٰہی اور شیخ رشید احمد کوآج 12اگست کے لئے طلبی کے نوٹس جاری کردیئے ہیں جبکہ سرکاری وکلاءکے ذریعے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کی قیادت سے مذاکرات کر کے معاملہ حل کرنے کی کوشش کریں ، ایسا نہ ہو انا کے مسئلے میں ملک ہی ٹو ٹ جائے ۔مسٹر جسٹس خالد محمود خان ، مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار اور مسٹر جسٹس انوا رالحق پر مشتمل فل بنچ نے محمد کامران نامی شہری کی طرف سے دائر اس درخواست پر وفاقی اور پنجاب حکومت کو بھی نوٹس جاری کردیئے ہیں ۔گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو جاری ہونے والے نوٹس ان کے وکیل اور تحریک انصاف کے راہنماءاحمد اویس ایڈووکیٹ نے وصول کرلئے جبکہ دیگر مدعا علیہان کو نوٹسز بھجوانے کے حوالے سے عدالت عالیہ کے رجسٹرار آفس کو اخبارات اور نیوز چینلز کی مدد لینے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ آج 12اگست کو ان کی عدالت میں نمائندگی یقینی بنائی جاسکے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس عدالتی حکم پرمبنی شائع اور نشر ہونے والی خبروں کو نوٹسز کی تعمیل تصور کیا جائے گا۔وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل چودھری نصیر احمد بھٹہ اور پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد حنیف کھٹانہ نے بھی عدالتی نوٹسز وصول کرلئے ہیں۔محمد کامران نامی شہری کی طرف سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو آزادی اور انقلاب کے نام پر لانگ مارچ کرنے سے روکا جائے ۔یہ لانگ مارچ ملک کا امن اور جمہوریت کو تباہ کرنے کی کوشش ہیں۔اس لانگ مار چ پر کروڑوں روپے خرچ ہوں گے جنہیں آئی ڈی پیز کی مدد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک اس وقت اس طرح کے احتجاجوں کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔جمہوری حکومت گرانے کے اعلانات کے ساتھ یہ لانگ مارچ کیا جارہا ہے جو آئین کے بھی منافی ہے ۔درخواست میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ،پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہر القادری ،پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد ، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے راہنماﺅں چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے علاوہ وفاقی وزارت داخلہ اور ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے ۔لانگ مارچ روکنے کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران فل بنچ نے سرکاری وکلاءکو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ تحریک انصاف کی قیادت سے مذاکرت کریں، ایسا نہ ہو کہ انا کے مسئلے میں ملک ہی ٹوٹ جائے، بنچ نے آزادی مارچ کیخلاف درخواستوں میں عمران خان، چودھری برادران، شیخ رشید اور طاہر القادری کو بھی نوٹس جاری کر دیا ۔دوران سماعت فاضل بنچ نے درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر سے استفسار کیا کہ عدالت آئین کے کس آرٹیکل کے تحت سیاسی جماعتوں کو احتجاج سے روکنے کا حکم دے سکتی ہے جس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 7 کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ملک میں ہونے والی کسی بھی سرگرمی کی نگرانی کر سکتی ہے، ملک میں امن قائم کرنے عدلیہ کی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہ آئین کے آرٹیکل 199-Cکے کے تحت ہائیکورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وفاقی حکومت کو آئین اور قانون کے تحت کوئی بھی حکم جاری کر سکتی ہے اور وفاقی حکومت کے سربراہ وزیر اعظم عدالتی حکم پر عملدرآمد کا پابند ہے، اس پر بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس خالد محمود خان نے کہا کہ فرض کریں کہ وفاقی حکومت مذاکرات کی کوشش کرے اور دوسری سیاسی جماعت مذاکرات سے انکار کر دے تو پھر کیا ہو گا، اس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں سے مذاکرات کریں، اگر عدالت وزیر اعظم کو حکم دے گی تو وزیر اعظم کو ماننا پڑے گا، وزیر اعظم کا مذاکرات کے معاملے کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے، اس پر بنچ کے سربراہ نے کہا کہ وزیر اعظم ایک منتخب شخصیت ہیں، انہیں عوامی مینڈیٹ حاصل ہے، بنچ کے استفسار پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں وفاقی حکومت سے مذاکرات سے انکار کرے توپھر آئین کا آرٹیکل 17(2) لاگو ہوگاجس کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت ملک کی سالمیت کیخلاف اقدامات کرے گی تو وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر اس سیاسی جماعت کیخلاف ریفرنس سپریم کورٹ بھجوا دے، بنچ کے تینوں اراکین نے مختصر مشاورت کے بعد درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ آرٹیکل 17سیاسی جماعتوں کے قیام کے حوالے سے ہے اور بنچ یہ سمجھتا ہے کہ ہائیکورٹ کو اس آرٹیکل کی تشریح کا اختیار نہیں ہے، آپ بنچ کو کوئی دوسرا آرٹیکل بتائیں جس کے تحت آپکی استدعا کے مطابق حکم جاری کیا جا سکے، اے کے ڈوگر نے استدلال کیا کہ ہائیکورٹ آئین کے ہر آرٹیکل کی تشریح کر سکتی ہے، اس موقع پر بنچ کے سربراہ نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی جمہوریت کیخلاف اقدام نہیں کر سکتا، آئین کے تحت کسی کو حکومت کیخلاف ہتھیار نہیں اٹھانے چاہیں، بنچ نے درخواست گزار کے وکیل سے دوبارہ استفسار کیا کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں ہائیکورٹ کیسے حکم جاری کر سکتی ہے، اس وقت تو لگتا ہے کہ ملک کی خودمختاری خطرے میں پڑ گئی ہے، اس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ ملک میں امن و امان قائم کرنا وفاقی حکومت کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، اس موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ نے بنچ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کو ابھی تک کسی شہری نے لانگ مارچ روکنے کیلئے درخواست نہیں دی جس پر بنچ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنی کوئی بھی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کی ورنہ درخواست گزار کو عدالت سے رجوع نہ کرنا پڑتا، وفاق کے وکیل نے کہا وزیر اعظم نے قومی سلامتی کے اجلاس میں تمام سیاسی قوتوں اور آرمی سے مشاورت کی ہے، تحریک انصاف نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا اس پر بنچ کے سربراہ نے کہا انتشار روکنے کے لئے حکومت نے یہ اقدام کیا کہ بیریئر لگا کر راستے بند کر دیئے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعظم اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے سیاستدانوں کے پاس جاتے ،چاہے انہیں دس مرتبہ جانا پڑتا، یا چاہے وزیر اعظم کو احتجاج کرنے والے سیاستدانوں کے پاﺅں پڑنا پڑتا، اس دوران اے کے ڈوگر نے کہا وفاقی حکومت نے مذاکرات میں پہل کرنے کو انا کا مسئلہ بنالیا ہے جس پر وفاق کے وکیل نے کہایہ تاثر غلط ہے کہ حکومت نے اس مسئلے کو انا کا مسئلہ بنایا ہے جس پر بنچ نے کہا کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کر کے مسائل کا حل نکالیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ انا کے مسئلے میں ملک ہی ٹوٹ جائے، انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ جائیں جا کر وزیر اعظم کو کہیں کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ایک مرتبہ تحریک انصاف کی قیادت سے جا کر مذاکرت کریں، وہ بھی محب وطن ہیں تاہم فل بنچ نے ڈاکٹر طاہر القادری، عمران خان، شیخ رشید، چودھری پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت حسین سمیت تمام مدعا علیہان کو طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ آج 12اگست کوعدالت میں اپنی نمائندگی یقینی بنائیں۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...