پہلے بھی عمران کے گھر گئے ،اب بھی تیار ہیں ،نواز شریف

پہلے بھی عمران کے گھر گئے ،اب بھی تیار ہیں ،نواز شریف

 لاہور(اے پی پی،اے این این) وزیراعظم نواز شریف کے زیرصدارت مسلم لیگ( ن) کے مشاورتی اجلاس میں جمہوری نظام اورترقی کے عمل کوپٹڑی سے نہ اترنے دینے کافیصلہ کیاگیا اور وزیراعظم نے کہا کہ انقلاب کی باتیں کرنے والوں کا ایجنڈا جمہوریت کش اور عوام دشمن ہے ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، وفاقی نثار علی خان، پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق،پنجاب کے وزیرقانون رانا مشہود احمد خان اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ عوام نے ہمیں معاشی بحالی اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کا مینڈیٹ دیا تھا۔ عمران خان نے ہماری فتح تسلیم کی اور کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔ عمران خان بتائیں آج وہ کس کے ایجنڈا پر کام کررہے ہیں اور انہیں یہ ایجنڈا کس نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب کی باتیں کرنے والوں کا ایجنڈا جمہوریت کش اور عوام دشمن ہے۔ انقلاب کا نعرہ عوام دشمن ایجنڈا ہے، ہم لوگوں کے مسائل حل ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق وزیراعظم نے ایک بار پھر دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے بھی عمران خان کے گھر گئے آج بھی جانے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا انقلاب کی بات کرنے والے کینیڈا سے بھاگ کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ایجنڈادیکھ کر انہیں ہنسی آتی ہے جنہیں دو سو ووٹ ملے ہوں۔ نواز شریف نے کہا کہ ترقی کا واحد راستہ جمہوریت ہے،آمریت کبھی منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔ انقلاب یہ ہے کہ ایک حکومت ووٹ کے ذریعے گئی اور دوسری آئی۔ خطرہ ہماری حکومت کو نہیں بلکہ ملک کو ہے۔ تمام مطالبات پر غور کرنے اور پارلیمنٹ سے منظور کرانے پر تیار ہیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا عمران خان الیکشن اصلاحات کمیشن کے سربراہ بن جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کا معاملہ عدالت میں ہے، فیصلے پر عمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد انقلاب کے دعویدار ملک پر رحم کریں۔ چودھری برادران نے پنجاب بنک پر ڈاکہ ڈالا۔اے پی اپی کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے جمہوریت اور ووٹ کے ذریعے اقتدار کی منتقلی کو حقیقی انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک و قوم کی ترقی کا راستہ اور راہ نجات صرف اور صرف جمہوریت ہے، تمام جمہوریت پسند اور سیاسی قوتیں پاکستان کی ترقی، دہشت گردی کے خاتمے، آئین اور قانون کی بالادستی، ملک کو اندھیروں سے نکالنے اور عالمی برادری میں پاکستان کا مقام بلند کرنے کے ایجنڈے پر متفق ہیں،کسی کوحکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملک و قوم کو درپیش چیلنجوں سے نجات دلانے کے لئے وزارت عظمیٰ کا منصب چیلنج سمجھ کر قبول کیا، لانگ اور آزادی مارچ کرنے والے بتائیں کہ اس انقلاب کے پیچھے ایجنڈا اور منطق کیا ہے؟ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں جناح کنونشن سنٹر میں ویژن 2025ء کے اجراء کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار، وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ قوم نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، ہم اسے مایوس نہیں کریں گے، اقتصادی اشاریے مثبت ہیں، پاکستان کی معیشت میں پچھلے ایک سال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور بدستور آ رہی ہے، ملک کے اندر اندھیرے، دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی بہتری کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے ہیں، گو کہ اس کو تیزی سے بدلنا ممکن نہیں تاہم ایک سال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کو ایک سال ہوا ہے اور یہاں انقلاب اور لانگ مارچ ہو رہے ہیں، انقلاب مارچ کرنے والوں نے انقلاب لانا تھا تو انتخابات میں شامل ہوتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کینیڈا سے آنے والے انقلاب کے لئے بے تاب ہیں، جس طرح کا انقلاب یہ لانا چاہتے ہیں، کوئی بھی جمہوریت پسند اس طرح کے انقلاب سے اتفاق نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد انقلاب کی باتیں کرنے والے اس سے قبل بھی انتخابات میں شامل ہوئے اور انہیں کہیں 40، 50 اور کہیں 100 سے 500 ووٹ ملے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اب اقتصادی انقلاب برپا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب کی بات کرنے والوں کے ایجنڈے پر دکھ اور افسوس ہوتا ہے یہ کہاں سے ایجنڈا لے کر آئے ہیں، 14 اگست کو یوم آزادی پر انقلاب مارچ سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے ہمیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کو مینڈیٹ دیا ہے، ایک نکتے پر سب متفق ہیں کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو، یہاں امن کا بول بالا ہو، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی ہو، ملک میں میں بنیادی انسانی حقوق ملیں، دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور پاکستان دنیا میں اپنا ایک مقام بنائے، جس کا یہ ایجنڈا ہے اس کا میری جماعت اور میرا اس کی جماعت سے تعلق ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ، جرمنی، فرانس اور دیگر ممالک اس لئے ترقی کر رہے ہیں کہ وہاں جمہوریت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوریا 1960ء میں پاکستان سے پیچھے تھا لیکن آج پاکستان کی برآمدات محض 25 ارب ڈالر اور اس کی 560 ارب ڈالر کے قریب ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں حکومتوں کو عوام کیلئے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گذشتہ 65 سال کی تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، ملک میں کتنی بار آمریت آئی، قانون کی حکمرانی ختم ہوئی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ملک میں یہ دہشت گردی کا بیج کس نے بویا تھا ؟ قوم ان سے حساب لے گی یا نہیں؟ یہ قوم کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے جبکہ ملک کو دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ، معیشت کی بہتری سمیت دیگر چیلنج درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ1991ء میں بھی ہم نے چیلنج قبول کیا تھا، یہ مثالی دور تھا جس میں موٹروے اور ٹیلی مواصلات کا انقلاب آیا، اگر ترقی کرنی ہے تو ملک اور خطے میں امن چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 1997ء میں دوسری بار اقتدار میں آئے تو اپنا ایجنڈا پوری قوت سے دوبارہ شروع کیا، ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، بھارتی وزیراعظم پاکستان آئے، پاکستانی سرمایہ کار بیرون ملک سے اپنا سرمایہ واپس لائے، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا، یہ ایک مثالی دور تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے لاہور آ کر دوستی کی بات کی جس کا ہم نے خیر مقدم کیا، تاہم آمر کے دور میں پاکستان اور بھارت کی افواج ایک دوسرے کے سامنے آئیں، بھارت نے ہمارے دور میں مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک اور جمہوریت کے لئے قوم متحد ہے، ٹی وی پر یہ جذبہ نظر نہیں آتا، وہاں پر کوئی اور ہی دنیا بستی ہے۔ انہوں نے ویژن 2025ء پر احسن اقبال کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل ویژن 2010ء بھی ان کی کاوشوں سے بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ملک کو اندھیروں سے نکالنے، روزگار کی فراہمی، توانائی بحران، غربت کے خاتمے کی بات ہو رہی ہے، ملک کو باوقار بنانے کے لئے اقدامات تجویز کئے جا رہے ہیں تاہم انقلاب والے اپنے کارکنوں کو بتا رہے ہیں کہ کس طرح ڈنڈوں پر کیلیں لگانی ہیں اور جتھے بنا کر پولیس پر حملے کرتے ہیں، انقلاب اور آزادی مارچ کرنے والے ہمیں بتائیں کہ حکومت کا قصور کیا ہے جو اس طرح یلغار پر اتر آئے ہیں، اس انقلاب کے پیچھے ایجنڈا اور دلیل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور ووٹ کے ذریعے حکومتیں بنتی اور ختم ہوتی ہیں، ووٹ کے ذریعے ہی سابقہ حکومت گئی اور ہمیں عوام کے ووٹوں کے ذریعے اقتدار ملا، یہی انقلاب ہے، ایک صدر مملکت رخصت ہوا اور دوسرا آیا، جانے والوں کو عزت سے رخصت کیا اور انہوں نے آنے والوں کا خیر مقدم کیا، یہ اصل انقلاب ہے، اس انقلاب کے ہوتے ہوئے کوئی مشکل درپیش نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ واضح وژن نہ ہونے کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے، حکومتیں گرائے جانے اور بار بار نئے سرے سے آغاز کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔ انہوں نے دو ٹوک طور پر کہا کہ جمہوریت اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی ہی آئینی ہے، کوئی آمریت اس کا نعم البدل نہیں، جمہوریت کی وجہ سے آج ترقی یافتہ ملکوں نے ترقی کی، ہمیں دنیا سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جمہوریت کے سوا کوئی راہ نجات نہیں، لوگوں کے مسائل حل کرنا ہی جمہوریت کا اصل ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بجلی کی کمی کو پورا کیا جاتا تو آج صنعتوں کو بجلی مل رہی ہوتی، ماضی میں پاکستان میں صرف دو ڈیم بنائے گئے، ہم اپنے دور میں بہت بڑا بھاشا ڈیم بنائیں گے، داسو ڈیم شروع کریں گے، 10 ہزار 400 میگاواٹ کے نئے منصوبے آئندہ چار سال میں لگیں گے، 15 سال کی ناکامیوں کا ملبہ ہمارے اوپر ڈالنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے ہم نے قوم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا، موجودہ دور میں لوڈشیڈنگ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے، ہمیں بتایا جائے کہ وہاں کتنی ترقی ہوئی ہے، کتنے بجلی گھر لگے ہیں، قوم کے سامنے جو ایجنڈا وہ پیش کر رہے تھے وہ کہاں ہے، ہمارے دور میں روپے کی قدر مستحکم ہوئی، اقتصادی اشاریئے بہتر ہوئے، پاکستان کی ریٹنگ مستحکم قرار دی گئی، سٹاک ایکس چینج 30 ہزار کی حد عبور کر گئی، تاہم دھرنوں کی وجہ سے تین دن میں اس میں کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر قوم کی بہتری کے لئے لانگ مارچ کئے جاتے تو بہتر تھا، پاکستان کے مفاد میں اگر ہماری کوئی پالیسی درست نہیں تو ہمیں بتایا جائے، عمران خان نے ایک فون کیا میں ان کے گھر چل کر گیا، ان کے پاس پارلیمنٹ کا فلور ہے، وہاں پر آ کر بات کریں، بتائیں کہ کیا گوادر سے خنجراب تک اقتصادی راہداری، کراچی لاہور موٹروے منصوبے درست نہیں، ہم دوبارہ بھی ان کے پاس جانے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک قائم و دائم رہے گا، پاکستان کی ترقی اور جمہوریت کے لئے ہمارا ساتھ دیا جائے۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے پوسٹل سروسز مولانا عبدالغفور حیدری نے وزیراعظم کو وژن 2025ء کے موقع پر جاری کردہ یادگاری ڈاک ٹکٹ کا سوینیئر پیش کیا۔ قبل ازیں وزیراعظم نے 10 ارب روپے کے قومی انسانی ترقی کے انڈوومنٹ فنڈ جو 50 ہزار طالب علموں کو وظائف کی فراہمی کیلئے استعمال کیا جائے گا، 8 ہزار پی ایچ ڈیز کیلئے 5 ارب روپے ٹیکنالوجی انوویشن فنڈ، طالب علموں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے ایک ارب روپے کی سائنس ٹیلنٹ فارمنگ سکیم، سرکاری شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے یو این ڈی پی کے تعاون سے 14 ارب روپے کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا۔ تقریب میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزراء، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، ارکان پارلیمان اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔

مزید : صفحہ اول