پیپلز پارٹی کے اجلاس ،یا انتہائی اہم فیصلے رویے میں تبدیلی کا عندیہ

پیپلز پارٹی کے اجلاس ،یا انتہائی اہم فیصلے رویے میں تبدیلی کا عندیہ

                                    ملتان (شوکت اشفاق) مسلم لیگ (ن) کی حکومت کےخلاف عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے آزادی اور انقلاب مارچ کے حوالے سے دن بدن بگڑتی ہوئی صورتحال اور عوام کو پیش آنے والی مشکلات کے بعد پیپلز پارٹی نے بھی اپنا رویہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ لیکن فوری طور پر اس کا رد عمل سامنے نہیں لایا جائے گا اور نہ ہی حکومت کے خلاف فوری طور پر کسی کی حمایت میں کوئی بیان جاری ہو گا بلکہ تیزی سے تبدیل ہوتے سیاسی حالات کا بغور جائزہ لے کر پھر اپنی پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق اس لائحہ عمل کی توثیق کراچی میں پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنماءفریال تالپور کی زیر صدارت ہونے والے ایک انتہائی اہم اجلاس میں کیا گیا جو بلاول ہاﺅس میں ہوا اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف سمیت پارٹی کی کور کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی ،اس اجلاس اور اس میں ہونے والی گفتگو اور فیصلوں کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ پارٹی کی حکمت عملی قبل از وقت سامنے نہ آجائے۔ اجلاس میں مختلف نکات اٹھائے گئے جس میں ایک اہم ایشو یہ تھا کہ پارٹی کی طرف سے جمہوریت کو بچانے کیلئے کھڑی رہنے کے بیانات سے عوام کو یہ تاثر مل رہا ہے کہ پارٹی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی در پردہ مکمل حمایت کر رہی ہے جس سے پارٹی کی ساکھ پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ اس وقت ملک کی قابل ذکر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مقتدر قوتیں بھی نواز حکومت کے خلاف ہو چکی ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے جاری صورتحال کو صحیح طور پر کنٹرول نہ کر سکنے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جس پر اس بات کی توثیق کی گئی کہ آئندہ دو دن میں ہونے والے سیاسی حالات کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا تاہم کچھ پارٹی رہنماﺅں نے سخت موقف اپنانے کی بھی بات کی ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...