غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث کراچی سٹاک ایکسچینج میں تاریخ کی بد ترین مندی

غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث کراچی سٹاک ایکسچینج میں تاریخ کی بد ترین ...

                   لاہور،کراچی(کامرس رپورٹر،اکنامک رپور) ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے باعث ملکی سٹاک مارکیٹ کا بھٹہ بیٹھ گیا ۔ درجنوں چھوٹے سرمایہ کار مکمل کنگال اور دیوالیہ ہو گئے ۔ کئی چھوٹے سرمایہ کاروں کی ساری زندگی کی جمع پونچی لوٹ گئی گزشتہ روز کراچی سٹاک مارکیٹ میں ملکی تاریخ کی ریکارڈ مندی رہی ۔ کراچی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے تقریبا ڈھائی کھرب روپے ڈوب گئے ۔ ان میں سے کئی کنگال ہونے پر دھاڑیں مار مار کر روپے رہے ۔ مارکیٹ انڈیکس میں 1309.09 پوائنٹس کی کمی ہوئی اس سے قبل مارکیٹ میں ایک دن میں انڈیکس میں کبھی بھی اتنی کمی نہیں ہوئی اس سے قبل ایک دن میں زیادہ سے زیادہ سے کمی 725 پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی ۔ اگر مارکیٹ انڈیکس مزید 165 گر جاتا تو مارکیٹ کریش کر جاتی ۔ مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا آغاز ہوتے ہی مارکیٹ بارہ سو پوائنٹس گر گئی جس کے باعث سرمایہ کاروں کو سرمایہ نکالنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔ جب مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر مندے کا رجحان دیکھنے میں آیا تو بڑے سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیا جس سے مارکیٹ میں مزید مندا ہو گیا ایک موقع پر مارکیٹ کا انڈیکس کم ہو کر 2800 پوانئٹس تک آ گیا اس موقع پر مارکیٹ کا کریش ہونا یقینی نظر آنے لگا ۔ تاہم سرمایہ کاروں کی دعائیں رنگ لے آئیں اور مارکیٹ میں معمولی تیزی ہوئی جس پر سرمایہ کاروں نے سکھ کا سانس لیا ۔ ٹریڈنگ کے اختتام انڈیکس 28071.41 پوائنٹس پر بند ہوا مارکیٹ میں مجموعی طورپ ر 16 کروڑ 33 لاکھ 96 ہزار حصص کا کاروبار ہوا ۔ اس طرح ہی ملک کی دیگر دو مارکیٹوں میں بھی مندے کا رجحان رہا ۔لاہور سٹاک مارکےٹ میں مجموعی طور پر91کمپنیوں کا کاروبارہوا۔ 2کمپنیوں کے حصص میں اضافہ28کمپنیوں کے حصص میں کمی جبکہ61کمپنیوں کے حصص میں استحکام رہا ۔ ایل ایس ای 25انڈیکس 309.53پوائینٹس کی کمی کے ساتھ4941.27 پربندہوا ۔ مارکیٹ میں کل10لاکھ25ہزار حصص کا کاروبار ہو ا ۔ جبکہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروبار ر وز مارکیٹ میں 13لاکھ52 ہزار800 حصص کا لین دین ہوا تھا ۔ مارکیٹ میں جن کمپنیوں کے سودے سرفہرست رہے ا ن میں بنک آف پنجاب لمیٹڈکے3 لاکھ56 ہزار حصص۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ کے2 لاکھ8 ہزار حِصص۔ جبکہ پاک الیکٹران لمیٹڈ کے1 لاکھ حِصص فروخت ہوئے۔ گزشتہ روز سب سے زیاد ہ اضافہ ایکسائیڈ پاکستان لمیٹڈ کے حصص میں ہوا جس کی قیمت7.43روپے بڑھ گئی ۔ سب سے زیادہ کمی یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ کے حصص میں ہوئی جس کی قیمت9.10روپے کم ہو گئی۔ اسلام آباد کے ائی ایس ای 10 انڈیکس میں 203 پوائنٹس کی کمی ہوئی ۔ ٹریڈنگ کے اختتام پر انڈیکس 4394.09 پوائنٹس پر بند ہوا ۔۔تفصیلات کے مطابق پیر کراچی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 3کھرب روپے سے زائد ڈوب گئے ۔کاروباری حجم گزشتہ روز کی نسبت199.70فیصدزائد جبکہ93.88 فیصد حصص کی قیمتوں میںکمی ریکارڈ کی گئی ۔کراچی اسٹاک مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت دیکھی گئی۔مجموعی طور پر376کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا ،جن میں سے14 کمپنیوں حصص کے بھاو¿ میں اضافہ،353کمپنیوں کے حصص کے بھاو¿ میں کمی جبکہ9کمپنیوںکے حصص کے بھاﺅ میں استحکام رہا۔ سرمایہ کاری مالیت میں3کھرب1ارب4 کروڑ80 لاکھ59ہزار985 روپے کی کمی ریکارڈکی گئی جبکہ سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر66کھرب5ارب92کروڑ62لاکھ44 ہزار585 روپے ہوگئی۔پیرکو کاروباری سرگرمیاں21کروڑ56لاکھ26ہزار550شیئرز رہیں جوجمعہ کے مقابلے میں14کروڑ36لاکھ80ہزار140 شیئرززائد ہیں ۔قیمتوں کے اتار چڑھاو¿ کے حساب سے انڈس ڈائنگ کے حصص سرفہرست رہے ،جس کے حصص کی قیمت19.70روپے اضافے سے698.00 روپے،خیبر ٹوبیکو کے حصص کی قیمت8.75روپے اضافے سے377.90روپے پر بند ہوئی۔نمایاں کمی رفحان میظ کے حصص میں ریکارڈ کی گئی جس کے حصص کی قیمت540.00روپے کمی سے10260.00روپے جبکہ نیسلے پاک کے حصص کی قیمت380.00روپے کمی سے7220.00روپے پر بند ہوئی۔پیر کولافارج پاک کی سرگرمیاں1کروڑ 97لاکھ6ہزار500شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں جس کے شیئرز کی قیمت53پیسے کمی سے 15.07 جبکہ بینک آف پنجاب کی سرگرمیاں1کروڑ 83لاکھ6ہزارشیئرزکے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں جس کے شیئرز کی قیمت1روپے کمی سے7.57روپے ہوگئی ۔کے ایس ای 30 انڈیکس892.02پوائنٹس کمی سے19537.67پوائنٹس ،کے ایم آئی 30انڈیکس1998.93پوائنٹس کمی سے45461.10جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس935.64پوائنٹس کمی سے 20626.10پوائنٹس پر بند ہوا ۔کراچی سٹاک مارکیٹ کے بروکر علی ناصر ، محمد جنید اور اشتیاق نے روز نامہ”پاکستان“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مارکیٹ کا یہ حشر ہونا ہی تھا کیونکہ نا معلوم ہاتھوں نے رمضان سے قبل ہی مارکیٹ میں مصنوعی اضافہ شروع کر دیا تھا اور معیشت کے متعلق غلط اعداد و شمار ظاہر کرکے یہ ثابت کیا جا رہا تھا کہ ملکی معیشت انتہائی تیزی سے ترقی کر رہی ہے جبکہ ایسا کچھ نہیں تھا سب کچھ ڈرامہ تھا ۔ جس کا نتیجہ اب ہزاروں سرمایہ کاروں کے دیوالیہ کی صورت میں سامنے آ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیران کن بات ہے کہ گزشتہ جمعہ کہ جب ملک کے سب سے بڑے صوبے کا دارالحکومت مکمل سیل پڑا تھا اس وقت بھی نا معلوم و بڑے بروکرز حضرات مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تو گورے سرمایہ کار نظر نہیں آتے ان بڑے بروکرز کے پاس نہ معلوم کون سی عینک ہے کہ صرف ان کہ ہی یہ گورے سرمایہ کار نظر آتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سٹاک مارکیٹ ملکی معیشت کی آئینہ ہوتی ہے جب جی ڈی پی بڑھ رہا ہوتا ہے سرمایہ کاروں کو کریڈٹ مل رہا ہو تو ملکی سٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ ایک طرف ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے قبائلی علاقوں میں جنگ جاری ہے ایسی صورت حال میں وہ کون سے پاگل غیر ملکی سرمایہ کار ہوں گے جو رسک والی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کریں گے ان کے لئے دیگر ملکوں کی سٹاک مارکیٹ کے دروازے کیا بند ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کا وزیر خزانہ پہلے جی ڈی پی میں اضافہ کے اعداد و شمار پیش کرے اور بعد میں کہے کہ ٹائپنگ کی غلطی ہو گئی کیا اس ملک کی سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی ایک کھیل کے تحت بڑے بروکرز نے چھوٹے سرمایہ کاروں کے کھربوں روپے لوٹ لئے ہیں اور ان کو کنگال کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہونے والی مندی کو ریکور ہونے میں کئی ماہ لگیں گے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...