الزامات درست نہیں ،خلیل الرحمان رمدے کا عمران خان کیخلاف ہتک عزت کا دعوی کرنیکا فیصلہ

الزامات درست نہیں ،خلیل الرحمان رمدے کا عمران خان کیخلاف ہتک عزت کا دعوی ...

              لاہور(سعید چودھری )پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس خلیل الرحمن رمدے پر عام انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے لگائے گئے الزامات واقعاتی طور پر درست نہیں ،اس بناءپرسابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی طرح خلیل الرحمن رمدے نے بھی عمران خان پرہتک عزت کا دعوی ٰ کرنے کافیصلہ کرلیا ہے،اس سلسلے میں جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن رمدے کے لاءفرم نے عمران خان کو ہتک عزت کا لیگل نوٹس بھجوانے کی تیاری بھی شروع کردی ہے جوجسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن رمدے کی وطن واپسی کے بعد جاری کیا جائے گا۔جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن رمدے کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے خلیل الرحمن رمدے کے جی او آر والے جس گھر میں الیکشن سیل قائم ہونے کا دعوی ٰ کیا ہے وہ انہوںنے الیکشن سے کئی ماہ قبل7جنوری2013کو چھوڑ دیا تھا اور اپنے نجی گھر میں منتقل ہوچکے تھے۔الیکشن کے دوران خلیل الرحمن رمدے نے اپنا زیادہ تر وقت کمالیہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ جہاں سے ان کے بھائی اسد الرحمن قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے تھے ۔پولنگ کے روز خلیل الرحمن رمدے لاہور میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ وہ اپنے بھائی کے الیکشن میں مصروف تھے ۔خلیل الرحمن رمدے کی "خدمات "کے عوض ان کے بھائی کومسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑوانے اور ان کی بھتیجی کو خواتین کی مخصوص نشستوں پر ایم این اے بنوانے سے متعلق عمران خان کے بیان بھی واقعاتی طور پر غلط ہے ۔اسد الرحمن 1970سے سیاست کررہے ہیں وہ 1985، 1988،1990اور1997میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ۔وہ نواز شریف کے وزارت عظمی ٰ کے دور میں وفاقی وزیر مملکت بھی رہ چکے ہیں اور پرانے مسلم لیگی ہیں اور انہیں ہر بار اس حلقہ سے نون لیگ کا ٹکٹ دیا جاتا رہا ہے ۔خلیل الرحمن رمدے کی کوئی بھتیجی ایم این اے نہیں ہے بلکہ ان کے مرحوم بھتیجے رضا فاروق کی بیوہ ایم این اے ہے۔رضا فاروق کے والد چودھری محمد فاروق کا شریف فیملی سے پرانا تعلق ہے وہ شریف فیملی کے خاندانی وکیل بلکہ اس سے بھی بڑھ کر تھے اوروہ شریف فیملی کے مقدمات میں اعلی ٰ عدالتوں کے ججوں سے جھگڑا کرنے سے بھی نہیں ہچکتاتے تھے ۔اس بناءپر انہیں توہین عدالت کے مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔شریف فیملی ان پر بہت اعتماد کرتی تھی اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہ نواز شریف کے گزشتہ دونوں ادوار میں اٹارنی جنرل پاکستان رہے ۔چودھری فاروق فیملی اور نواز شریف فیملی کے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2009میں میاں شہباز شریف نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران 23جون 2009کو رضا فاروق کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مقرر کردیا تھا تاہم 18ویں آئینی ترمیم کے بعد 3اگست2009کو رضا فاروق نے خود ہی اپنے عہدہ سے استعفا دے دیا تھا بعد میں ان کا انتقال ہوگیا اور شریف فیملی نے چودھری فاروق فیملی سے اپنے سابق تعلقات اور ان کے نوجوان مرحوم بیٹے کی بیوہ کی دلجوئی کے لئے انہیں مخصوص نشست پر ایم این اے منتخب کیا جس میں خلیل الرحمن رمدے کا کوئی کردار نہیں ۔خلیل الرحمن رمدے کے خاندانی ذرائع نے حلفاً کہا ہے کہ ملاقات تو درکنار گزشتہ کئی سال سے خلیل الرحمن رمدے اور میاں نواز شریف کے درمیان کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ، چہ جائےکہ وہ پولنگ کے روز نواز شریف سے تقریر کرواتے ۔عمران خان کی اس بات میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے کہ مصطفی رمدے کو ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا ،مصطفی رمدے نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر چند ماہ ذمہ داریاں نبھائیں تاہم اس دوران انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے انچارج کے طور پر بھی کام کیا۔عمران خان کی اس بات میں بھی صداقت نہیں کہ خلیل الرحمن رمدے نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو دعوت دے کر ریٹرننگ افسروں سے ملوایا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے عام انتخابات سے قبل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں صوبہ بھر کے ریٹرننگ افسروں سے ملاقات کی تھی اور ان سے خطاب کیا تھا ۔اس تقریب میں الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا کے نمائندے بھی مدعو تھے اور یہ پوری تقریب میڈیا نمائندوں کی موجودگی میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں جن کا چند روز میں واپسی کے بعد جسٹس ریٹائرڈخلیل الرحمن رمدے بھرپور جواب دیں گے۔

مزید : صفحہ اول