10اگست ، عمران کی کور کمیٹی، طاہر القادری کا یوم شہدا اور پرویز مشرف کا کنونشن!

10اگست ، عمران کی کور کمیٹی، طاہر القادری کا یوم شہدا اور پرویز مشرف کا کنونشن!
10اگست ، عمران کی کور کمیٹی، طاہر القادری کا یوم شہدا اور پرویز مشرف کا کنونشن!

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

آل پاکستان مسلم لیگ کا کنونشن جس سے جنرل (ر)پرویز مشرف نے ٹیلی فونک خطاب کیا،10اگست کو ہوا، تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس بنی گالہ اسلام آباد میں چیئرمین عمران خان کی صدارت میں ہوا، یہ بھی 10اگست کو اور ایم بلاک ماڈل ٹاﺅن میں منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے سامنے پارک میں یوم شہدا کا جو اجتماع ہوا وہ بھی تو 10اگست ہی کو ہوا، کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟ یا کسی سکرپٹ کا کوئی حصہ ہے۔پھر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی ہدائت پر رشید گوڈیل کی قیادت میں حاضرین کے لئے کھانا یہ بھی اتفاق ہے؟

یہ جو بھی ہوا، اس کے لئے صرف تاریخ ہی ایک نہیں تھی، بلکہ ان اجلاسوں اور اجتماعات کا نتیجہ بھی سو فیصد یکساں، کیا یہ بھی اتفاق ہے؟ کئی روز پہلے انہی سطور میں گزارش کی تھی کہ یہ سب کچھ جنرل(ر) پرویز مشرف کی پرچھائیں ہیں جو فضا کو گھیرے ہوئے ہیں اور عمران خان، طاہر القادری، مسلم لیگ(ق) کے چودھری، فرزند راولپنڈی شیخ رشید اور عمران خان مستند حوالوں سے جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھی اور ان کے حمائتی تھے اور ہیں،اس لئے ان کی سیاست میں بھی یکسانیت ہوگی، ہم نے تو چار روز قبل یہ عرض کیا تھا کہ دھکا دینے والے کو تلاش کرو کہ یہ تو سب ہم خیال ہیں حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کو بھی حمائت پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری اور تحریک انصاف کے عمران خان نے اپنے پتے بہت ہی احتیاط سے کھیلے ہیں۔عمران کہتے ہیں آزادی مارچ ہوگا اور ملتوی نہیں کیا جا سکتا، طاہر القادری کا یوم انقلاب اب انقلاب مارچ ہوگیا وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ لازمی ہے۔عمران خان نے کہا ”اگر مجھے کچھ ہوگیا تو اس کے ذمہ دار شریف برادران ہوں گے، میں کارکنوں سے کہتا ہوں، اگر میں قتل ہوگیا تو شریفوں کو نہ چھوڑنا“۔ یوم شہدا کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری کہتے ہیں ،”میں شہادت کے لئے تیار ہوں اور اگر مجھے شہید کر دیا گیا تو کارکن ساتھیو! نوازشریف ، شہباز شریف اور ان کے خاندان کو نہ چھوڑنا سب کو ختم کر دینا“۔

یہ بات بعد میں کہ حکمران کس حد تک حالات پر قابو پانے کے اہل ہیں؟ پہلے یہ تو بتا دیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی بلاغت ثابت شدہ ہے انہوں نے دو سے ڈھائی گھنٹے کے خطاب میں ایک ہی موضوع کو تین حصوں میں تقسیم کیا اور اتنی طویل تقریر کر ڈالی جس میں احادیث نبوی کے حوالوں سے حاضرین کو خوش خبری سنا دی کہ انہوں نے جو نیت کر لی اس کا اجر برکتوں والی رات سے بھی زیادہ اور ایک کروڑ سال کے برابر ہوگا اور وہ بخشے جا چکے“۔ ڈاکٹرطاہر القادری ذہین شخص ہیں، انہوں نے سابقہ بڑھکوں کے حوالے سے تنقید کا سامنا کیا اور ان کے بعض بیانات کی فوٹیج ان کے خلاف مقدمات میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان الفاظ کا تاثر اچھا نہیں بنا تھا اور بیرونی دنیا میں بھی تنقید ہوئی تو یوم شہدا کے موقع پر انہوں نے امن، جمہوریت، آئین اور قانون کے دائرہ میں رہنے کی مکمل کوشش کی مگر پھر بھی مجمع کے لئے تو کچھ چاہیے تھا، انہوں نے کہا ”چوڑیاں پہن کر نہ آنا، کسی پر خود وار نہ کرنا اور اگر کوئی تم پر حملہ کرنے کی کوشش کرے تو اسے نہ چھوڑنا، اس کے بازو توڑ دینا“ یہ تو انہوں نے اپنے کارکنوں سے کہا ہی تھا۔پھر یہ بھی کہا”انقلاب مارچ میں شرکت کرنے والو! انقلاب کے بغیر واپس نہیں آنا، انقلاب یا شہادت، اور اگر کوئی واپس آ جائے تو اسے تم شہید کر دینا“ اب اس سے ان کا اشارہ کس طرف ہے اس کے بارے میں کیا کہاجا سکتا ہے، کیونکہ اتنا تو اندازہ ہے کہ وہ خود اپنی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے حوالے سے تو مکمل طور پر مطمئن اور یقین کے حامل ہیں، یقینا یہ ہدایت اپنے کارکنوں کو دی ہے تو دوسروں کے لئے ہوگی اس لئے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ق) والوں کو خبردار اور مضبوط رہنا ہوگا۔

ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان بتدریج آگے بڑھے ہیں تاحامل مفاہمتی کوشش کی کامیابی کے حوالے سے کوئی خوش کن اطلاع نہیں ہے۔اس سے ملکی سیاست دان پریشان ہیں۔قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے درست کہا کہ پیپلزپارٹی نے تو جمہوریت کے لئے اپنے لیڈر قربان کئے ہیں۔محترمہ کی شہادت کے بعد بھی جمہوریت پر یقین رکھا اور انتخابات میں حصہ لیا۔حالات حاضرہ تشویش ناک ہیں انہوں نے عمران خان سے کہا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو قابو میں رکھیں۔

ابھی تک حکمران جماعت کی طرف سے ایسے مثبت اشارے دیئے جا رہے ہیں کہ بات مفاہمت سے بن جائے، پہلے ہی انسانی جانوں کا ضیاع ہو چکا۔مزید برداشت نہیں ہو سکتا۔ابھی سے انارکی کی صورت نظر آ رہی ہے تو آگے کیا ہوگا، حالات کو اس حد تک خراب نہ کیا جائے کہ مسلح افواج کی توجہ ضرب عضب آپریشن کے ساتھ ادھر بھی ہو۔یار لوگوں نے کور کمانڈروں کی معمول والی میٹنگ کو بھی کچھ کا کچھ بنا دیا ہے،ہمارے نزدیک یہ معمول والی میٹنگ ہے جس کا اپنا ایجنڈا ہے البتہ یہ لازمی ہے کہ ملک کے اندر جو حالات ہیں ان پر بھی غور ہو کہ الگ تھلگ نہیں رہا جا سکتا لیکن قصے بنانے والوں کوجنرل (ر) حمید گل کے بیان اور تجزیئے پر غور کرنا چاہیے۔

ہمارے سمیت عوام کی دلی خواہش ہے کہ معاملات آئین اور قانون کے دائرہ کار میں پرامن رہیں، اس کے لئے تمام فریقوں کو تحمل اور برداشت، برداشت اور برداشت کا مظاہرہ کرنا اور عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا، ملک کسی بڑے خلفشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہر صاحب فکر اور ہر سوچنے والا یہی کہتا ہے کہ افہام و تفہیم اور امن سے معاملات طے پا جائیں۔تصادم ملک و قوم کے لئے بہتر نہیں۔حکومت مصالحت کی جو کوشش کررہی ہے اسے جاری رہنا چاہیے۔اس وقت مسلم ممالک جس خلفشار میں مبتلا ہیں اللہ پاکستان کو اس سے بچائے۔

مزید : تجزیہ