عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہزاروں موٹر سائیکل واپس نہیں کی گئیں شہری تھانوں کے چکر لگانے پر مجبور

عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہزاروں موٹر سائیکل واپس نہیں کی گئیں شہری تھانوں کے ...
 عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہزاروں موٹر سائیکل واپس نہیں کی گئیں شہری تھانوں کے چکر لگانے پر مجبور

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(کرائم سیل) عدالتی حکم کی خلاف ورزی،شہر کے تمام تھانوں میں ہزاروں شہریوں کی موٹر سائیکلیں واپس نہ دی گئیں،شہری تھانوں کے چکر لگانے پر مجبور ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے انقلاب اور آزادی مارچ کے حوالے سے پولیس نے دوہفتوں سے شہر بھر میں موٹر سائیکلوں کی پکڑ د ھکڑ شروع کر رکھی ہے اور ہزاروں موٹر سائیکلیں تھانوں میں بند ہو کر کھڑی ہوئی ہیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے جن شہریوں کے پاس کاغذات مکمل ہیں ان کی موٹر سائیکلیں واپس کرنے کا حکم صادر بھی فرمایا تھا لیکن لاہور پولیس نے دیدہ دلیری دکھاتے ہوئے عدالتی حکم کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔یہاں تک کہ جن لوگوں کی چوری کی موٹر سائیکلیں پولیس نے بازیاب کروائی ہیں ان کو بھی واپس کرنے میں پس و پیش سے کام لیا جا رہا ہے، پولیس کے اس رویہ کی وجہ سے شہری تھانوں کے چکر لگانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔شہری نعمان مجتبٰی نے نمائندہ \"پاکستان\" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل تھانہ مغلپورہ کے پولیس اہلکاروں نے 2اگست کو پکڑی تھی لیکن اس کو کاغذات مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک واپس نہیں کیا جا رہا اور مختلف حیلے بہانے کر کے ہمیں ہر روز ٹرخا دیا جاتا ہے ۔محمد اجمل نے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل 30جولائی کو تھانہ باغبانپورہ میں پکڑی گئی تھی، تمام ضروری کارروائی مکمل ہونے کے باوجود کئی دنوں سے متعلقہ افسر کے نہ ہونے یا کوئی اور بہانہ بنا کر ہمیں اگلے دن آنے کا کہا جاتا ہے اور چکر لگوائے جا رہے ہیں۔راج گڑھ کے رہائشی محمد بوٹا نے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل کو 22جولائی کو انارکلی سے چوری کر لیا گیا تھا اور پولیس نے اس کو ریکور کروا لیا اور مجھے 3اگست کو اس حوالے سے اطلاع دی گئی، سپرداری کروانے کے لیئے میں لگاتار تھانہ کے چکر لگا رہا ہوں لیکن پولیس اہلکار کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کر رہے ہیں اور ہر روز مختلف قسم کے بہانے کر کے اگلے روز آنے کا کہہ دیتے ہیں۔اس حوالے سے تھانہ باغبانپورہ اور مغلپورہ میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جن لوگوں کے کاغذات مکمل ہوتے ہیں ان کی موٹر سائیکلیں واپس کی جا رہی ہیں جبکہ ڈی آئی جی آپریشن کے دفتر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

مزید : علاقائی