سکیورٹی رسک،گاڑیوں کو ہیک کرنا آسان ہوگیا

سکیورٹی رسک،گاڑیوں کو ہیک کرنا آسان ہوگیا

لاس ویگاس (نیوزڈیسک ) سکیورٹی ماہرین کئی مہینوں سے سمارٹ کاروں کے بارے تنبیہ کرتے آرہے ہیں کہ یہ ہیکرز کے لئے نہایت آسان ہدف ثابت ہو سکتی ہے، لیکن ان کی باتوں پر کان نہیں دھرے گئے، تو اب لاس ویگاس سے تعلق رکھنے والے دو معروف محققین نے ان گاڑیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سکیورٹی رسک قرار دے دیا ہے۔ کرس ویلاسک اور چارلی ملر نے 2006ءمیں بننے والی رینج روور سے لے کر رواں سال بی ایم ڈبیلو تھری سیریز تک تمام گاڑیوں کے سسٹم کا مکمل جائزہ لیا ہے، جس کے بعد 14ایسی گاڑیوں کو نامزد کیا گیا ہے، جن کا سکیورٹی سسٹم ناقص ہے اور وہ باآسانی ہیک ہو سکتی ہیں۔ مسٹر ملر ٹوئٹر کے سکیورٹی انجینئر ہیں اور مسٹرویلاسک کمپیوٹرز کی سکیورٹی کے حوالے سے قائم کمپنی آئی او ایکٹو میں بطور ڈائریکٹر سکیورٹی انٹیلی جنس فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی تحقیق میں چیروک نامی جیپ (2014ء) اور کیڈیلیک ایسکلیڈ(2015ء) کو ہیکرز کا سب سے آسان ہدف قرار دیا گیا ہے، تاہم فورڈ فیوڑن (2006ئ) اور رینج روور سپورٹس کو قدرے محفوظ گاڑی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2010ءاور 2014ءمیں بنائی جانے والی ٹویوٹا پرس بھی سکیورٹی معائنہ کے دوران انتہائی ابتر حالت میں پائی گئیں۔ تحقیق کے دوران سکیورٹی کے اعتبار سے ہر گاڑی کی تین طرح سے درجہ بندی کی گئی ہے، جس میں گاڑی کی بالائی سطح پر حملہ (attack surface) نیٹ ورک کا طبعی ڈھانچہ اور سائبر فزیکل تک رسائی شامل ہے۔ وائرلیس گاڑی کے فیچرز کو بلیوٹوتھ، وائی فائی اور موبائل نیٹ ورک کنکشن کے ساتھ ہیک کیا جا سکتا ہے۔ نیٹ ورک کے طبعی ڈھانچہ کے ذریعے گاڑی کے حساس سسٹم تک آسانی سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور سائبر فزیکل کے ذریعے خود کار بریک اور پارکنگ کے نظام کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس تحقیق کے لئے امریکن ایڈوانس ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی نے فنڈز مہیا کئے تھے تاکہ سمارٹ کاروں کی سکیورٹی کے نقائص کو سامنے لایا جا سکے۔دوسری طرف سمارٹ گاڑیاں بنانے والی ایک کمپنی نے اس تحقیق پر سوالات اٹھائیں ہیں کہ محققین عملی طور پر گاڑیوں کو ہیک کرکے نہیں دکھا سکے، صرف زبانی کلامی ان گاڑیوں کو ہیک کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ کرس ویلاسک اور چارلی ملر کی 92 صفحات پر مشتمل یہ تحقیق لاس ویگاس میں منعقدہ ایک عالمی کانفرنس (Black Hat) میں پیش کی گئی ہے۔

مزید : علاقائی