ایران میں خود کشی کے واقعات میں حیران کن حدتک اضافہ

ایران میں خود کشی کے واقعات میں حیران کن حدتک اضافہ
ایران میں خود کشی کے واقعات میں حیران کن حدتک اضافہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں فصلوں کو کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے لیے استعمال ہونیوالی ادویات کے استعمال سے ملک بھر میں خودکشی کے واقعات میں 13 فی صد اضافہ ہو گیا ہے۔

 تہران فورینزک میڈیکل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر خودکشی کے واقعات چاول کی فصل کو کیڑوں سے بچاو¿ کے لیے استعمال ہونے والی گولیوں کے کھانے سے رونما ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے تین ماہ میں کیڑے مار گولیاں کھانے سے 112 مردوں اور 79 خواتین کی موت ہو چکی ہے جن میں مرکزی شہر تہران سب سے آگے ہے جہاں کیڑے مار گولیوں سے 89 افراد نے خودکشی کی۔ اس کے بعد مازندان میں 30 اور گیلان میں 19 واقعات پیش آئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں فصلات کو کیڑے مکوڑوں اور حشرات الارض سے بچاو¿ کی ادویات عام میڈیکل اسٹوروں پر نہ صرف دستیاب ہیں بلکہ نہایت سستی بھی ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے ادویات پر کوئی کنٹرول بھی نہیں۔ فورینزک میڈیکل کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ چھ سال کے دوران کیڑے مار ادویات کی مدد سے 2000 افراد خود کشی کر چکے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی