سبحان اللہ ، اس پروفیسر کی کہانی جس نے قرآن پاک کو چیلنج کیا اور خود مسلمان ہو گیا

سبحان اللہ ، اس پروفیسر کی کہانی جس نے قرآن پاک کو چیلنج کیا اور خود مسلمان ہو ...
سبحان اللہ ، اس پروفیسر کی کہانی جس نے قرآن پاک کو چیلنج کیا اور خود مسلمان ہو گیا

ٹورنٹو (مانیٹرنگ ڈیسک) قرآن حکیم کے خلاف کفار کے مذہبی رہنماﺅں کی طرف سے تو بے بنیاد الزامات ہمیشہ سے لگائے جاتے رہے ہیں اور یہ لوگ اپنی بدنیتی کی وجہ سے سچ سامنے آنے پر بھی تسلیم نہیں کرتے لیکن جب عالمی شہرت یافتہ ماہر ریاضی و منطق پروفیسر گیری ملر نے اس مقدس کتاب کے کلام خدا ہونے کے دعویٰ پر تحقیق شروع کی تو نتائج نے پروفیسر گیری کیساتھ ساتھ مسلم مفکرین کو بھی حیران کر دیا۔

یہ تحقیق اس لحاظ سے انتہائی منفرد تھی کہ اسے کرنے والا کوئی عام مذہبی عالم نہیں بلکہ دنیا کی مشہور اور نمایاں ٹورنٹو یونیورسٹی کا تجربہ کار پروفیسر اور ریاضی و منطق سمیت سائنسی طرز فکر پر عبور رکھنے والا انتہائی قابل مفکر تھا اور یہی وجہ تھی کہ جب اس کے وسیع علم اور سائنسی تدبر نے اس کے سامنے یہ بات واضح کر دی کہ یہ مقدس کلام کسی انسان کی تخلیق نہیں ہو سکتا تو اس نے بلا حیل و حجت یہ اعلان کر دیا کہ وہ اس کے عظیم خالق کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے۔

پروفیسر گیری نہ صرف عیسائی مذہب کا پیروکار تھا بلکہ وہ اس کی تعلیم و تبلیغ میں بھی گہری دلچسپی رکھتا تھا اور 1977ءمیں اس نے قرآن پر اٹھائے جانے والے اعتراضات پر اس لئے تحقیق شروع کی کہ انہیں سچ ثابت کر کے معاذ اللہ قرآن مقدس کو جھوٹ ثابت کر دے۔طویل تحقیق میں پروفیسر نے یہ نتائج اخذ کئے کہ قرآن مجید میں ان سائنسی اور تاریخی غلطیوں کا کہیں نام ونشان تک نہ تھا جن کی تلاش میں وہ نکلا تھا۔

یہ بات بھی ازروئے علم منطق غلط ثابت ہو گئی کہ یہ کلام نبی آخر الزمان ﷺ نے خود اپنی ذات اور مقاصد کو مدنظر رکھ کر تخلیق کیا۔ پروفیسر گیری کا کہنا ہے کہ قرآن کا طرز تکلم خصوصاً نبی ﷺ کو فتوحات اور کامیابیوں پر شکر و صبر اور انکساری کی تلقین اور آپ ﷺ کے عزیز و اقارب اور ان کے اوصاف کا تفصیلی تذکرہ نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ کلام آپ ﷺ نے اپنی ذات اور مقاصد کے متعلق تخلیق نہیں کیا کیونکہ اگر کوئی شخص خود کوئی کتاب تخلیق کرے تو یہ ممکن نہیں کہ وہ اس میں اپنے اغراض و مقاصد اور مفاد کو بنیادی مقام نہ دے۔ قرآن کے موضوعات اور ان کے متعلق دی گئی ہدایات سے بھی یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ظہور اسلام کے زمانہ تک محدود نہیں بلکہ تمام کائنات اور تمام زمانوں کیلئے ہدایت ہے۔ اس عظیم مفکر ، دانشور اور استاد نے جب اپنی تحقیقات مکمل کر لیں تو دو ایسے اعلانات کئے کہ جن کو سن اور پڑھ کر قرآن حکیم پر اعتراضات اٹھانے والوں کو ہمیشہ کیلئے خاموش ہو جانا چاہئے تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ عیسائیت کی خدمت کیلئے جو الزامات ثابت کرنا چاہ رہے تھے وہ سب بے بنیاد اور جھوٹے ثابت ہوئے ہیں اور سائنس، منطق اور تاریخ کی روشنی میں غیر جانبدار اور دیانت پر مبنی تحقیق کا صرف ایک نتیجہ ہے کہ یہ کلام کسی انسان کی تخلیق نہیں۔

ان کا دوسرا اعلان یہ تھا کہ وہ اس مقدس کلام کے خالق کے حضور اپنا سر تسلیم ختم کرتے ہیں اور اسلام قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے 1978ءمیں قبول اسلام کے بعد اپنا نام عبدالاحد رکھا اور کئی سال تک سعودی آئل اینڈ منرلز یونیورسٹی میں بحیثیت استاد فرائض سرانجام دینے کے بعد اپنی زندگی مکمل طور پر تبلیغ اسلام کے وقف کر دی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...