اندرونی دھماکے (Implosion)کا خطرہ!

اندرونی دھماکے (Implosion)کا خطرہ!
اندرونی دھماکے (Implosion)کا خطرہ!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہ شب و روز جو گزر رہے ہیں، پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے بڑے Definingہیں۔ شائد میری طرح آپ بھی ایک ایسی کیفیت سے گزر رہے ہوں گے، جس کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔امید و بیم کا سہارا لینا چاہتا ہوں تو امید کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور بیم (خوف) کی تشریح یا توضیح بھی نہیں کرسکتا۔میڈیا نے ہماری معلومات کی جوئے رواں کو ایک سمندر بنا دیا ہے۔نہر کا کنارا تو سامنے نظر آتا تھا، اس سمندر کا کوئی کنارا، کوئی ساحل نظر نہیں آتا۔جہاں تک نظر پھیل سکتی ہے، پھیلتی ہے،لیکن افق اور سمندر جہاں گلے ملتے ہیں، اس کو سمندر کا دوسرا کنارا نہیں کہا جا سکتا۔

ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ تازہ ترین بریکنگ نیوز کیا ہوگی۔ بین الاقوامی میڈیا کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تو پاکستان کے اس ”ابتلائی دور“ کی کوریج خال خال ہی نظر آتی ہے۔بی بی سی، وائس آف امریکہ، سی این این، آل انڈیا ریڈیو، افغان ٹی وی، پرشین ٹی وی اور رشین ٹی وی کی ایپلی کیشنز سمارٹ فون پر موجود ہیں۔لیکن ان کی ”ٹاپ سٹوریاں“ دوسری قسم کی ہیں۔ان کے موضوعات دوسرے ہیں۔مثلاً فلسطین، یو کرائن ،عراق، عراقی یزیدیوں(کرسچین) کے لئے امریکن ائر فورس کے فضائی حملے، برطانوی C-130کی پروازیں جو اپنے عیسائی بھائیوں کو ”دیارِ پیر سنجر“ کے قرب و جوار میں پھنسے ہم مذہبوں کو امدادی سامان کی فضائی ترسیل کررہی ہیں۔سنجر،شام اور عراق کی سرحد پر وہ علاقہ /شہر ہے جہاں داتا گنج بخش علیہ الرحمتہ نے جنم لیا تھا۔آج وہاں داعش (دولتِ اسلامیہ عراق و شام) کی یلغار ہے جس سے نوری المالکی کا عراق، بشار الاسد کا شام اور برزانی کا کردستان لرزہ براندام ہے۔یہ آئی ایس آئی ایس والے نہ شیعہ ہیں، نہ سنی۔کہتے ہیں ان کا تعلق سلافیا سے ہے جوسنیوں کی انتہا پسند شاخ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس آئی ایس آئی ایس کی ترک تازیوں کا دائرہ سعودی عرب تک پھیل رہا ہے اور کئی پاکستانی تجزیہ نگاروں نے تو اس نئی آفت کو پاکستان کے لئے، القاعدہ اور طالبان سے بھی بدتر آفت قرار دیا ہے۔

میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ فارن میڈیا میں یہ موضوعات تو ہر روز بلکہ ہر لمحہ Projectکئے جا رہے ہیں، خدا جانے پاکستان کے ضربِ عضب اور 14اگست کے لانگ مارچ کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔کل کلاں اگر پاکستان کا حکومتی ڈھانچہ درہم برہم ہوتا ہے تو کیا اس کے اثرات اردگرد کے خطے یا دنیا کے دوسرے ممالک پر نہیں پڑیں گے؟ اگر پڑیں گے تو غیر ملکی میڈیا اس افراتفری ، بے یقینی اور اضطرابی کیفیت کا نوٹس کیوں نہیں لے رہا؟ میڈیا کے اس انداز سے مجھے نجانے کیوں اندازہ ہو رہا ہے کہ پاکستان میں اگلے چند دنوں میں خاصی اکھاڑ پچھاڑ ہونے جا رہی ہے!

اتوار (10اگست 2014ئ) کی شب ساڑھے سات یا پونے آٹھ بجے ایک عزیز کے ہاں ملنے گیا تو اس نے ٹیلی ویژن کھولا ہوا تھا اور علامہ طاہر القادری تقریر کررہے تھے۔علامہ کی آواز بھرائی ہوئی تھی، سامنے مردوں اور خواتین کا ایک جم غفیر تھا جو اپنے لیڈر کے ایک ایک لفظ کو انہماک سے سن رہے تھے۔میرا خیال تھا، دس پندرہ منٹ میں یہ خطاب ختم ہو جائے گا اور پھر میزبان اور مہمان کی یہ بحث شروع ہو جائے گی کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ یہ بحث و مباحثہ بھی ایک قسم کا اندرونی خلفشار کے سیلِ بلاخیز کے سامنے بند باندھنے کی ایک صورت ہوتی ہے۔لیکن ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا اور علامہ صاحب کا خطاب ختم نہ ہوا۔

انہوں نے دوران تقریر کہیں یہ جملہ بھی کہا کہ انہوں نے دوپہر کا کھانا نہیں کھایا۔ان کی بیگم صاحبہ نے کھانا بھیجا تھا لیکن انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کے بھوکا رہنے کے کلچر کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے وہ کھانا واپس بھجوا دیا۔

علامہ طاہر القادری غضب کے مقرر ہیں۔ان کی تقریباً دو گھنٹے کی تقریر کا پہلا جملہ بھی اتنا ہی زور دار اور اثر آفریں تھا جتنا آخری جملہ ....اور میں حیران تھا کہ اگر ایک ایسا شخص جس نے دوپہر کا کھانا نہ کھایا ہو، وہ جب اتنے عرصے تک تقریری گھن گرج اور اس کے نشیب و فراز سے آسان گزر جاتا ہے تو اس کی اپنے مشن کے ساتھ Commitmentکا عالم کیا ہوگا!

میں، ان کی تقریر کے متن کا خلاصہ پیش نہیں کروں گا کہ یہ سب کچھ اول تو آپ نے سن لیا ہوگا اور اگر نہیں تو کسی خبرنامے میں دیکھ لیا ہوگا۔ مَیں تو آپ کی توجہ حکومت کی اس کوتاہ اندیشی کی طرف دلانا چاہوں گا کہ ایک طرف تو کہنے کو لاہور کی انتظامیہ نے باہر سے لاہور میں داخل ہونے کے تمام راستے بند کر دیئے تھے(اور اب بھی شائد بند ہوں گے) ماڈل ٹاﺅن لاہور میں کہ جہاں علامہ صاحب تقریر کررہے تھے اور یوم شہداءکی تقریب کے حاضرین سے مخاطب تھے، اس کے آس پاس بھی کنٹینرز کھڑے کرکے تمام داخلہ /خارجہ راستوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔لیکن دوسری طرف تمام بڑے بڑے اور معروف ٹی وی چینلوں کی کوریج کا سارا عملہ اپنے سازوسامان کے ساتھ موجود تھا اور پورے ڈیڑھ دو گھنٹے تک اس تقریب کی کوریج کرتا رہا۔

کیا حکومت کو یہ خیال نہیں آیا کہ اس نے علامہ صاحب کے مقامِ تقریب کو تو چاروں طرف سے بند کر دیا، لیکن ٹی وی کیمروں نے ان کے خطاب کے ایک ایک جملے کو سارے پاکستان اور ساری دنیا میں جو نشر کیا تو کیا اس کی روک تھام بھی کی گئی؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ اشرفیاں لٹائی گئیں اور کوئلوں پر مہر لگا دی گئی!

ہمارے وزیر اطلاعات و نشریات کو نجانے کسی نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ آپ تالاب کو بند کرکے سمندر کو کھول رہے ہیں۔علامہ صاحب نے اپنی تقریر میں فارن میڈیا کی Consumptionکے لئے انگریزی کا جو سہارا لیا اور جس فصاحت، روانی، برجستگی سے موضوع پر اپنی گرفت کا مظاہرہ کیا، وہ یادگار تھا۔انہوں نے ثابت کیا کہ وہ جس سطح کے مولانا ہیں، اسی کینڈے کے منسٹر بھی ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے بعد علامہ طاہرالقادری تیسرے مقرر تھے، جنہوں نے اردو اور انگریزی زبان میں یکساں روانی سے زورِ خطابت دکھایا اور فارن میڈیا کو براہ راست اپنے مشن اور اپنے مقصود سے آگاہی دی۔

علامہ قادری صاحب نے ایک اور کام بھی ایسا کیا،جس کی مثال پہلے کسی میڈیا مقرر کے ہاں نہیں ملتی۔انہوں نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی ان تمام ٹیموں کو کہ جو ان کے خطاب کی کوریج کررہی تھیں، بھرپور خراج تحسین پیش کیا اور کوئی ایسا گوشہ، تشنہ ءاظہار نہ چھوڑا، جس کی ضرورت تھی۔میڈیا مالکان، اینکرز ، ڈرائیورز، کیمروں والے، پروڈیوسرز اور تکنیکی فنکاروں کا تفصیل سے ذکر کیا۔یہ بھی کہا کہ میڈیا مالکان نے کروڑوں کے کمرشل اشتہارات کو روک کر اس طویل تقریب کی مسلسل کوریج جاری رکھی اور یہ تک کہا کہ آپ لوگوں نے دن رات یہاں کھڑے رہ کر اپنی بھوک پیاس کی پروا نہ کی اور بارہ بارہ گھنٹوں کی شفٹوں میں اپنے فرائض کی ادائیگی کو اولیت دی.... میڈیا کواس طرح کا جامع اور تفصیلی خراج توصیف شائد ہی کسی اور مقرر نے پیش کیا ہوگا!

لیکن آخر میں علامہ صاحب نے جو دو اعلانات کئے، وہ ملک میں خانہ جنگی کے نقیب تھے۔ایک تو انہوں نے یہ کہا کہ اگر میں ”شہید“ کر دیا جاﺅں تو میرا انتقام شریف برادران سے لیا جائے اور ان کو زندہ نہ چھوڑا جائے اور دوسرے یہ کہ 14اگست کو ان کی پارٹی بھی آزادی مارچ میں شریک ہوگی۔

جب دس بجے شب کے قریب گھر پہنچا تو ایک چینل پر عمران خان اپنے ان مطالبات کے اظہار کو فائن ٹیون کررہے تھے جو وہ بہت دنوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو حکومت کا وہ بھاری مینڈیٹ جو پہلے ہی ڈگمگاتا معلوم ہوتا ہے، مزید لڑکھڑانے لگے گا۔وہ ”حقائق“ جھوٹ ہوں گے یا ”سچ“ ہوں گے، ان کے بارے میں حکم نہیں لگایا جا سکے گا، لیکن یہ ضرور ہوگا کہ اس سے بادشاہت اور خاندانی/موروثی جمہوریت کا چل چلاﺅ مزید قریب آ جائے گا،جس طرح ہمارے ہمسائے بھارت میں حالیہ انتخابات میں موروثی حکومت کا خاتمہ ہوا، اسی طرح شائد ہمارے ہاں بھی ہو۔لیکن وہاں اور یہاں میں فرق یہ ہوگا کہ وہاں جو کچھ ہوا، نئے انتخابات کے بعد ایک معروف طریقے سے ہوا،جبکہ یہاں جو کچھ ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، وہ غیر معروف طریقے سے ہوگا۔یہ ایک قسم کا اندرونی دھماکہ (Implosion) ہوگا! ایسے دھماکوں میں خون بہنا اور انسانی جسموں کے چیتھڑے اڑنا کو ئی انوکھی خبر نہیں ہوگی!! اس لئے تو میں نے گزشتہ کالم میں ”خاصہ ءخاصانِ رسل“ کے حضور فریاد کی تھی!!!

مزید : کالم