اگر اقبالیت کو اپنا لیا جائے تو پاکستان جنت سے کم نہیں ہے ،عطاء الحق قاسمی

اگر اقبالیت کو اپنا لیا جائے تو پاکستان جنت سے کم نہیں ہے ،عطاء الحق قاسمی

  

لاہور(خبر نگار خصوصی)سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور لبرل ہیومن فورم کے زیر اہتمام ٹاؤن ہال میں ایک سیمینار منعقد ہوا جس کا عنوان ’’قائد کا پاکستان‘‘ تھا جس کی صدارت الحمراء آر ٹ کونسل کے چئیرمین معروف دانشور عطاالحق قاسمی نے کی جبکہ مہما نان گرامی میں روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹرمجیب الرحمٰن شامی،سیفما پاکستان کے صدر امتیاز عالم،مسلم لیگ(ن )لاہور کے سیکرٹری جنرل خواجہ عمران نذیر، لبرل ہیومن فورم کے چئیرمین فیضان خالد،معروف کالم نگار وجاہت مسعود،حفیظ اللہ نیازی،نویدچوہدری،افضال ریحان،اشتیاق چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ بشیر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔نظامت کے فرائض ڈی او سی او افضال ریحان نے دیئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الحمرء آرٹ کونسل کے چئیرمین عطاالحق قاسمی نے کہا کہ اسلام بذات خود ایک سیکولر نظام ہے ملاعیت نے اسلام کا غلط تصور پیش کیا ہے۔اسلام کی صحیح تعبیر علامہ اقبال نے کی اگر اقبالیت کو اپنا لیا جائے تو پاکستان جنت سے کم نہیں ہے ۔آج صرف نماز پڑھنے کی تلقین کی جا رہی لیکن حقوق العباد اور انصاف کی بات نہیں کی جاتی۔جب تک اصلی اسلام کا چہرہ پیش نہیں کیا جائے گا مسائل حل نہیں ہونگے۔روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمٰن شامی نے قائد اعظم کی11اگست 1947کی تقریر کے حوالے سے کہا کہ مشکوک اصلاحات استعمال نہیں کرنی چاہیں ،قائد اعظم نے پوری زندگی اپنے خیالات کے بارے میں سیکولرازم کا ذکر نہیں کیا،مذہب صرف نہرو اور گاندھی کا معاملہ تھا۔قائد اعظم نے کہا تھا کہ تمام کام اسلامی اصولوں کی بنیاد پر کیے جائیں ،ہمیں مملکت کی تعبیر پر دھیان دینے کی ضرورت ہے کوئی بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام نہیں بدل سکتا۔پاکستان میں مساجد اور مدرسے حکومت کو بنانے چاہیں۔پاکستان میں اقلیتوں کو جتنے حقوق حاصل ہیں دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہیں۔قائد اعظم اور علامہ اقبال امید کی کرن تھے ،پاکستان نے عوام کو بہت نواز ا لوگوں کو اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو ووٹ سے بدلنا چاہئے،جمہوریت مضبوط ہو گی تو قانون کی حاکمیت آئے گی۔سنئیر صحافی امتیاز عالم نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان میں اقلیتوں کو تحفظ نہیں ملا،پاکستان ،بنگلہ دیش اور ہندوستان میں اقلتیں مشکلات سے دوچار ہیں ۔اگر پاکستان صرف مسلمانوں کیلئے بنا ہوتا تو آج پاکستان سے زیادہ ہندوستان میں مسلمان نہ ہوتے،قائد اعظم ریٹائرڈ ہو کر بمبئی میں رہنا چاہتے تھے اور نہرو کو بھی لاہور بہت یاد آتاتھا،پاکستان کے بانیوں کے ذہن میں فساد اور جنگیں نہیں تھیں۔جناح کے پاکستان میں مسلمان،ہندو،عیسائی،سکھ،شیعہ،سنی،امیر غریب سب برابر ہیں ۔قائد اعظم کے پاکستان میں فوجی حکمرانی،ملاعیت اور فرقہ واریت کی اہمیت نہیں ہے۔ممبر صوبائی اسمبلی خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ پاکستانی قوم کو ملک کو صحیح معنوں میں چلانے کیلئے آزادی کی اصل روح کو سمجھنا چاہیے،تمام لوگوں کو پاکستان کیلئے روزانہ کی بنیاد پر ایک اچھا کام کرنا چاہیے۔پاکستان نے بہت کچھ دیا قوم نے کچھ نہیں دیا،مایوسی نے ملک کو مشکلات سے دوچار کیا،ملک کی بہتری کیلئے سب سے پہلے اپنا احتساب کرنا چاہیے۔حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ پاکستانی قوم آج تک اپنی منزل کا تعین نہیں کر سکی اور نہ ہی رہنما اصولوں پر عمل پیر ا ہو سکی ہے۔قائد اعظم اسلامی نظریاتی پاکستان چاہتے تھے،ملک میں ذلت و رسوائی قائد اعظم کے بتائے ہوئے راستے سے ہٹ جانے کیوجہ سے ہیں ،قوم صرف نظریے کی بنیاد پر زند ہ رہ سکتی ہے اس وقت ملک کو دیانتدار قیاد ت کی ضرورت ہے۔ سٹی 42کے ایڈیٹرنوید چوہدری نے کہا کہ علامہ اقبال نے قائد اعظم کے پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا ،بزرگوں نے قربانیاں دے کر پاکستان بنایاقانون اورآئین کو روندنے سے معاشرہ ترقی نہیں کر رہا قوم کو خود کو قانون کے تابع کرنا چاہیے۔خرم روحیل اصغر نے کہا کہ بزرگوں نے قربانیاں دے کر ملک بنایا معاشرہ بنانا قوم کی ذمہ داری ہے کو کہ بدقسمی سے 68سالوں میں نہیں بن سکا۔ ممتاز دانشور فیضان خالد نے کہا کہ 11اگست ہمیں قائد اعظم کے اس اولین خطاب کی یاد دلاتا ہے جوانہوں نے پہلی دوستور ساز اسمبلی سے کیا تھاکہ آج کے بعد پاکستان میں نہ کوئی ہندو ہو گا نہ مسلمان،مذہبی لحاظ سے نہیں کہ وہ ہر شہری کا ذاتی معاملہ ہے پاکستان کے شہری کی حیثیت سے اس خطاب کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے درمیان مذہبی منافرتوں کو ختم کر دیں اس سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا اور پاکستان میں امن ہو گا۔ڈی او سی او افضال ریحان نے کہا کہ ہر سال 11اگست کو اسی ’’قائد کا پاکستان‘‘کے تحت سیمینار کراتا ہوں اس کی غرض و غایت یہ ہے کہ پاکستان ایک روشن خیال اور ماڈرن ریاست کی حیثیت سے ترقی کرے،مذہبی منافرتوں کو ختم کرتے ہوئے طے کر لیں کہ ہم سب نے مل کر وطن عزیز کو پر امن بنانا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -