جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنیوالوں کو کڑی سزا دی جائے‘ خواجہ خاور رشید

جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنیوالوں کو کڑی سزا دی جائے‘ خواجہ خاور رشید

  

لاہور (کامرس رپورٹر)سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن)ٹریڈرز ونگ پنجاب و ایف پی سی سی آئی کی ریجنل سٹینڈنگ کمیٹی برائے امن وامان کے چےئرمین خواجہ خاور رشید نے کہاہے کہ جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنے والوں کو کڑی سزا دی جائے،لائسنس یافتہ مینو فیکچرز کیلئے وہی قوانین بنائے جائیں جو دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہیں۔جس سے پنجاب میں فارما انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور عوام الناس کو سستی اور معیاری ادویات میسر ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فارما انڈسٹری 50سے زائد ممالک میں ادویات ایکسپورٹ کرتی ہے جو کوالٹی میں بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونے کا واصخ ثبوت ہے اور پاکستان کی 90فی صد ادویات کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔خاور رشید نے مزید کہا کہ جعلی ادویات کے خلاف کاروائی بھی عوام کے بہترین مفاد میں ایک مستحسن اقدام ہے لیکن اس ضمن میں کی گئی ترمیم کی وجہ سے لائسنس یافتہ مینوفیکچرز،ہول سیلرز و ڈسٹری بیوٹرزاور ریٹیلرز کیلئے اپنے جائز اور قانونی کاروبار کو جاری رکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔ان ترمیم کی وجہ سے جعلی ادویات کے خلاف آپکی چلائی گئی مہم متاثر ہوئی ہے اورمزموم عناصر اپنے عزائم میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

یہ پاکستان کی لائسنس یافتہ انڈسٹری کے خلاف ایک گہری سازش ہے اور غیر لائسنس یافتہ اور لائسنس یافتہ مینوفیکچرز کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔اس قانون کے تحت پنجاب میں فارما انڈسٹری مکمل طور پر بند ہو جائے گی اور ادویات کی شدیدقلت ہو گی ،دوسرے صوبوں سے بھی پنجاب میں دوائی آنا بند ہو جائے گی بلاآخر ہم بیرون ممالک سے ادویات منگوانے پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا اپنا کوئی فارما کوپیا نہیں ہے اور ایلوپیتھک ادویات کی تیاری یو ایس پی اور برٹش کو پیا کے تحت ہوتی ہے اس لئے جعلی اور غیر معیاری ادویات کا قانون بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔

مزید :

کامرس -