15اگست کو مقبو ضہ کشمیر میں یوم سیاہ منایا جائے گا ،ریاست بھر میں ہڑتال ہو گی

15اگست کو مقبو ضہ کشمیر میں یوم سیاہ منایا جائے گا ،ریاست بھر میں ہڑتال ہو گی

  

سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیئر مین سید علی گیلانی اور فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے بھارتی یوم آزادی کے موقع پر 15اگست کو ریاست میں یوم سیاہ منانے کے علاوہ مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی اپیل کر دی ہے ۔ حریت قائدین نے کہا ہے کہ ہم بھارت سمیت کسی بھی ملک کی آزادی کے مخالف نہیں ہیں، البتہ جب تک یہ ملک کشمیری عوام کے حقِ آزادی کو تسلیم نہیں کرتا اس کو جموں کشمیر کی سرزمین پر جشنِ آزادی کی تقریبات منعقد کرنے کا کوئی آئینی اور اخلاقی حق نہیں پہنچتا ہے۔ گیلانی نے لوگوں خاص کر اساتذہ، زیرِ تعلیم بچوں اور ان کے والدین کو 15اگست کی تقریبات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے حکومتی مشینری کو خبردار کیا کہ وہ اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلباوطالبات کو ان تقریبات میں شرکت کرنے کے لئے مجبور نہ کریں اور انہیں اس کے لیے مکلف نہ ٹھہرائیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم پچھلے 68سال سے یہ مطالبہ کرتی آرہی ہے کہ بھارت اپنی افواج کو واپس بلائے اور ہمیں اپنے مستقبل کے تعین کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا موقعہ فراہم کرے، یہ خالصتا ایک جمہوری ڈیمانڈ ہے اور بھارت نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس کو پورا کرنے کے وعدے بھی کئے ہیں، البتہ بھارت اپنے وعدوں سے مکر گیا ہے اور وہ کشمیری قوم کی جائیز آواز کو طاقت کے ذریعے سے دبانے کی کوششیں بروئے کار لارہا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ ایسی صورتحال میں بھارت 15اگست کے دن کشمیر کی سرزمین پر جشن کی تقریبات منعقد کرتا ہے تو یہ کشمیری قوم کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کرتی ہیں اور انہیں اپنی آزادی کی یاد بہت ستاتی ہے، بھارت کو ہماری سرزمین پر جشن آزادی منانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ہے اور اس ملک کی قیادت میں ضمیر نام کی کوئی چیز موجود ہے تو انہیں اس سلسلے کو بند کرنا چاہیے اور ایسی تقریبات کے انعقاد کو اپنے ملک تک محدود رکھنا چاہیے۔ادھرفریڈم پارٹی سربراہ نے 15اگست کو ہمہ گیر ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے کہا اگرچہ یہ دن بھارت کے لوگوں کے لئے خوشی کا دن ہے تاہم یہ دن ہمارے لئے کسی غم انگیز سانحہ سے کم نہیں کہ ہمیں یہ دن منانے والوں نے ہماری مرضی اور خواہش کے برعکس اور جبر کی قوت کے ذریعہ اپنے زیر نگین رکھا ہے ۔شبیر شاہ نے اپنے اس موقف کو دہرایا ہمیں بھارتی عوام سے کوئی پرخاش نہیں اور ہم برصغیر کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ بھارتی عوام کی ترقی کے بھی خواہاں ہیں لیکن بھارت نے طاقت کے بل پر وادی میں جسطرح ظلم و ستم کو بڑھاوا دیا ہے اس کی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ انھوں نے کہاکہ جہاں بھارت کے لوگ یوم آزادی کے آمد کے ساتھ خوشیاں منانے کی تیاریاں کرتے ہیں، و ہیں دوسری طرف ریاست کے لوگوں کے لئے یہ دن غم و الم کی سوغات لے کر آتا ہے ۔

شاہراہوں اور جموں کشمیر کے قریہ قریہ میں تلاشی کاروائیوں کے دوران عام شہریوں کو ستانے کا سلسلہ دراز ہونے کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر ہوجاتی ہے،گرفتاریوں کا چکر چلایا جاتا ہے ،نوجوانوں کو پولیس تھانے بلاکر ان سے تذلیل آمیز رویہ روا رکھا جارہا ہے ۔شبیر احمد شاہ نے بھارتی حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا ادراک کرنا چاہئے کہ جموں کشمیر کے حدود میں ان کی کوئی سیاسی رٹ نہیں چلتی، البتہ 8 لاکھ فوجیوں اور جبر کے سائے میں جموں کشمیر کے حدود میںیوم آزادی منانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں لوگوں کے دلوں میں 68 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود آزادی کی تڑپ انگڑایاں لے رہی ہے اور اس کے حصول کے لئے ہر پیر و جوان استقامت اور جرا4132 رندانہ کا مظاہرہ کررہا ہے ۔ شبیر احمد شاہ نے ہڑتال کی کال کامیاب بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہم اس دن کو اس وقت تک یوم سیاہ کے طور مناتے رہیں گے، جب تک بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرکے یا سہ فریقی نتیجہ خیز مذاکرات کے نتیجے میں ہمارے گم گشتہ حقوق کو بحال کرنے کی جانب اقدامات نہیں اٹھاتا ۔

مزید :

عالمی منظر -