آپریشن ضربِ عضب نے امن دیا، عوام نے جشنِ آزادی کے لئے جوش و ولولے کا ثبوت دیا

آپریشن ضربِ عضب نے امن دیا، عوام نے جشنِ آزادی کے لئے جوش و ولولے کا ثبوت دیا

  

اسلام آباد سے ملک الیاس

قوم جشن آزادی منانیکی تیاریوں میں مصروف ہے راولپنڈی اور اسلام آباد میں جا بجا گلی محلوں، مارکیٹوں کاروباری مراکز میں قومی پرچم لہرارہے ہیں ، آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں ملک میں قائم ہونے والے امن نے لوگوں کے دلوں میں جشن آزادی کا جذبہ بھی ایک مرتبہ پھر زندہ کر دیا ہے، دکانوں اور بازاروں میں قومی پرچموں، جھنڈیوں اور جشن آزادی کے حوالے سے بینرز، بیجز اور دیگر اشیاء کی خریداری میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، لوگ جوش وخروش سے اب 69واں یوم آزادی منانے کی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں لوگوں نے اپنے گھروں ، دکانوں اور دیگر عمارات کو یوم آزادی سے کئی دن قبل ہی سبز جھنڈیوں اور دیگر بینرز سے سجا دیا ہے اس مرتبہ قومی پرچموں، جھنڈیوں، بیجز اور دیگر اشیاء کی ریکارڈ خریداری ہوئی ہے اور لوگ اس کا تمام تر کریڈٹ حکومت اور خصوصی طور پر پاک فوج کوپیش کر رہے ہیں جو آپریشن ضرب عضب کے لئے پورے ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔

سرکاری سطح پر بھی یوم آزادی کو شایان شان طریقے سے منانے کی کوشش کی جا رہی ہے، عام سرکاری عمارات کو چراغاں کر دیا گیا گیا ہے اور 13اگست رات کو فیض آباد کے قریب پریڈ گراؤنڈ میںآتش بازی کا مظاہرہ ہو گا،جبکہ اسلام آباد میں مرکزی تقریب کنونشن سنٹر میں منعقد کی جائے گی، سکیورٹی کے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے دستے بھی اسلام آباد میں سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینگے۔یہاں ایک بات کاخاص خیال رکھنا ہوگا کہ جشن آزادی سب جوش و خروش سے ضرورمنائیں مگر 14اگست کی رات کو جو موٹرسائیکل سوار منچلے ویلنگ کرتے ہیں درجنوں کی تعداد میں گرکر نہ صرف خودزخمی ہوتے ہیں بلکہ راہگیروں اور خاص کر فیملیوں کو جو آؤٹنگ پر نکلی ہوتی ہیں کے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں راولپنڈی میں مری روڈ پر 14اگست کی رات کو منچلوں کا مکمل قبضہ ہوتا ہے جبکہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جناح ایونیو پر موٹر سائیکلوں کے کرتب دیکھنے کو ملتے ہیں اوریہ ہرسال ہوتا ہے اور پولیس ایسے مواقع پر ہمیشہ کی طرح غائب ہوتی ہے۔

جشن آزادی سے چند روز قبل ہونیوالے قصور واقعہ نے پوری قوم کوہلا کررکھ دیا ہے قصور میں بچوں سے ہونیوالی بداخلاقی اور پھر انکی ویڈیوز بناکر کی جانیوالی بلیک میلنگ جڑواں شہروں میں جہاں ہرشخص کی زبان پر موضوع بحث بنی ہوئی ہے وہاں قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں میں بھی قصور واقعہ پر کڑی تنقید کی گئی اور اس کے خلا ف قراردادیں منظورکی گئیں ، قومی اسمبلی نے ایوان کی متفقہ قرار داد کے ذریعے سانحہ قصور کی پرزور مذمت کی،ساتھ ہی مطالبہ کیاگیا کہ سانحہ میں ملوث تمام ملزمان سمیت ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ قرار داد ایوان میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کے دستخطوں سے پیش کی گئی متفقہ قرار داد ایوان میں وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے پیش کی، قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایوان قصور میں بچوں کے ساتھ بداخلاقی کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے اور اس انسانت سوز جرم کی پرزور مذمت کرتا ہے، متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہے اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دی جائے، ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت بچوں کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔سانحہ قصور پر بحث میں پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر عارف علوی، شیریں مزاری، ایم کیو ایم کے عبدالرشید گوڈیل، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، پی پی پی کے عبدالستار بچانی، نفیسہ شاہ، (ن) لیگ کے میجر (ر) طاہر اقبال، عبدالغفار ڈوگر، جے یو آئی کی نعیمہ کشور، میر ظفر اللہ خان جمالی و دیگر نے حصہ لیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سانحہ قصورایسا سانحہ ہے جس نے بین الاقومی سطح پر بھی پاکستان کے امیج کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اورخاص کر پنجاب حکومت اس حوالے سے کیا کرتی ہے کہیں یہ سانحہ بھی دیگر سانحات کی طرح چند روز بعد دفن تو نہیں ہو جائے گا؟سینیٹ میں بھی قصور میں بچوں سے بداخلاقی کے سکینڈ ل کے خلاف مذمتی قرار دادمنظورکی گئی، چےئرمین سینیٹ رضا ربانی نے قصورمیں بچوں کے ساتھ بداخلاقی کے سکینڈل کی تحقیقات کیلئے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا ۔ سینیٹر نسرین جلیل نے مذ متی قرار داد پیش کر تے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے کے لئے قصور واقعہ المیے کی حیثیت رکھتا ہے جب تک موثر قانون سازی نہیں کی جاتی اس طرح کے واقعات رونما ہو تے رہیں گے۔ان کاکہنا تھا کہ ہر کام وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نے نہیں کر نا ہوتا،کچھ ذمے داریاں مقامی انتظامیہ کی بھی ہیں۔ قصور واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور اس میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے اور اس طر ح کے واقعات کی مکمل روک تھام کے لئے ایک الگ اد ارہ قائم ہونا چاہیے۔ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے بھی قصوور واقعہ پر انتہائی دکھ کااظہارکیا اور کہااس میں ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔ اے این پی کے سینیٹر الیاس بلور کاکہنا تھا کہ قصور واقع نے ہمارے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں پچھلے سات سال سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور وہاں کی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی،ڈی پی او اور باقی متعلقہ حکام کہاں تھے؟ ملوث ملزمان کا کیس ملٹری کورٹس میں چلایا جائے ۔پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے قصور واقعہ کو انتہائی شر مناک قراردیا غرض یہ کہ سینٹ میں تمام سیاسی جماعتوں نے قصور واقعہ کی نہ صرف مذمت کی، بلکہ ان کا کہنا تھا کہ اس کا اثر ہماری پوری سوسائٹی پر پڑا ہے،اور بیرون ملک پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں، ملزمان کو آئین کے مطابق سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ اس سے عبر ت حاصل کر کے آئندہ کوئی اور اس طرح کا کام کر نے کا سوچے بھی نہ ۔قومی اسمبلی میں تحریک انصاف ‘ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کا سانحہ قصور پر اپوزیشن جماعتوں کی تحاریک التواء زیر بحث لانے کی اجازت نہ دینے پر ایوان سے واک آؤٹ ‘ تحریک انصاف کے ارکان واک آؤٹ کر کے ایوان سے باہر چلے گئے، جبکہ پی پی پی اور جماعت اسلامی کے ارکان علامتی واک آؤ ٹ کے بعد حکومت کے منانے پر ایوان میں واپس آ گئے تاہم پی ٹی آئی کے ارکان کو کوئی منانے نہ گیا اور وہ تھوڑی دیر بعد خو د ہی واپس آگئے ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -