جاگیرداروں کے اجتماع میں بیٹھ کر جاگیرداروں کے خلاف اعلان

جاگیرداروں کے اجتماع میں بیٹھ کر جاگیرداروں کے خلاف اعلان

  

شوکت اشفاق

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کسانوں کو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے انہیں آسرا دیا ہے کہ ریڑھ کی اس ہڈی کو کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا اور اقتدار میں آکر اس شعبے کے لئے بجلی مفت، کھاد اور بیج ارزاں نرخوں پر فراہم کئے جائیں گے جبکہ ٹریکٹر اور دوسرے زرعی آلات پر سبسڈی فراہم کی جائے گی کیونکہ 80 لاکھ خاندان زراعت سے وابستہ ہیں اور ہم اس اہم ترین شعبہ پر بھر پور توجہ دے کر ملک میں زرعی انقلاب لا سکتے ہیں اور غربت کا خاتمہ کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ہمسایہ ملک چین نے بھی کسانوں کو مراعات دے کر نہ صرف وہاں غربت ختم کی بلکہ ملکی معیشت بھی مستحکم کی عمران خان نے یہ باتیں وہاڑی میں ایک ملک گیر کسان کنونشن سے خطاب کے دوران کہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب اور مختلف وفود کے ساتھ ملاقاتوں میں موجودہ حکومت کی زراعت بارے پالیسیوں کو کسان دشمن بھی قرار دیا اور الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کی ان پالیسیوں کی وجہ سے آج زراعت تباہی کے دھانے پر ہے۔ تحریک انصاف کے چیئر مین جب یہ بات کہہ رہے تھے تو وہ اس وقت جنوبی پنجاب کے ایک بڑے زمیندار اور سابق وفاقی وزیر نواب اسحاق خان خاکوانی کے گھر موجود تھے جبکہ ان کے ہمراہ فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء سابق وفاقی وزیر مخدوم شاہ محمود حسین قریشی، پنجاب کے سب سے بڑے زمیندار اور متعدد شوگر ملوں کے مالک جہانگیر خان ترین، سابق گورنر پنجاب چوہدری غلام سرور سمیت علاقے کے سب سے بڑے زمیندار جن میں کھچی، خاکوانی، بھابھہ، دولتانہ، ارائیں، جٹ وغیرہ شامل تھے جن کی جاگیرداری کسی شک سے بالا ہے جو گزشتہ تمام ادوار کی حکومتوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے ہیں۔ جمہوریت یا آمریت ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی اور اس سیاسی جماعت کے سربراہ یا آمر کو ان ’’بڑوں‘‘ نے یہ ’’ریکارڈ‘‘ پکڑا دیا جو تحریک انصاف کے سربراہ نے وہاڑی میں ’’بجا‘‘ دیا، ان کاریگر ’’سیاسی پنچھیوں‘‘ کو معلوم ہے کہ اپنے اپنے علاقوں کے ان غریب اور بدحال کسانوں اور مزدوروں سے کن خوش سخن نعروں سے ووٹ لیا جا سکتا ہے، جو ’’نغمہ سرائی‘‘ عمران خان سے انہوں نے کروائی ہے وہ گزشتہ 68 سالوں سے ہر اس سے کروا رہے ہیں جو تھوڑا بہت عوام میں مقبولیت حاصل کر لیتا ہے اور پھر اس کے ارد گرد ایسا حصار بنا لیتے ہیں کہ وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے کہے ہوئے الفاظ اور وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا کیونکہ یہ وہ ’’کاریگر‘‘ ہوتے ہیں جو زراعت سے متعلقہ شعبوں کے وزیر مقرر ہو چکے ہوتے ہیں اور ’’نغمہ سرائی‘‘ کے اس ’’ریکارڈ‘‘ کو وہ آئندہ انتخابات یا پھر کسی آنے والے ’’مقبول رہنما‘‘ کے لئے محفوظ کر لیتے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئر مین کے ساتھ بھی ٹھیک اسی طرح ہی ہو رہا ہے جو ماضی میں اس طرح کے مقبول رہنماؤں کے ساتھ ہوتا رہا ہے لیکن انہیں سیاست کے ساتھ ساتھ حقائق پر بھی نظر رکھنی چاہیے محض نعروں اور عوام کا جم غفیر جمع ہونے سے سیاست میں جیتا نہیں جا سکتا۔ البتہ الفاظ پر قائم اور وعدوں کو نبھا کر صحیح حکمرانی کی جا سکتی ہے۔ تحریک انصاف کے قائد کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ پاکستان کی 68 سالہ سیاست کے سیاق و سباق کا مطالعہ کر لیں جو شاید ان کے آئندہ سیاسی سفر میں کوئی رہنمائی کر سکے ورنہ ذوالفقار علی بھٹو مقبول نہیں بلکہ مقبول ترین تھے۔

ایک زمانہ تھا جب ملک میں فلم انڈسٹری کا زور شور تھا اور سینماؤں کا بزنس منافع بخش ہوتا تھا مگر ایک وقت آیا کہ ان سینماؤں میں الو بولنے لگے اور مالکان نے سینما ختم کر کے کمرشل پلازہ اور شاپنگ مال تعمیر کر لئے اور یوں اپنی انکم میں پہلے سے چار گنا اضافہ کر لیا ملک بھر میں سینما تو مارکیٹوں میں تبدیل ہوتے رہے ہیں مگر اب افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ کچھ زیادہ ہی منافع کمانے کے آرزو مند سرکاری اور سیاسی لوگوں نے سرکار کی طرف سے تعلیمی مقصد کے لئے دی گئی عمارت کے اندر کمرشل مارکیٹ تعمیر کر لی ہے اور اس سے بڑھ کر افسوس یہ ہے کہ ابھی تک اس پر کوئی مثبت ایکشن نہیں لیا گیا ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ صوبائی حکومت کے محکمے ’’پنجاب ہاؤسنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی‘‘ کا براہ راست معاملہ ہے جبکہ محکمہ کیونکہ خود اس میں مفاد یافتہ ہے اس لئے وہ اس پر کوئی بھی ایکشن کرنے کو تیار نہیں ہے حالانکہ اس قیمتی سرکاری اراضی کی تعلیمی مقصد کے لئے لیز بھی 1992 میں ختم ہو چکی ہے اور چونکہ یہ زمین شہر کے قیمتی ترین کمرشل علاقے گلگشت گول باغ میں واقع ہے اس لئے اس کی قیمت کا اندازہ اربوں روپے میں ہے مختصر تفصیل کے مطابق آزادی کے بعد ملتان میں رہائش اختیار کرنے والی چند شخصیات نے ایک ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی جنہوں نے انڈیا میں علی گڑھ کالج سے تعلیم حاصل کر رکھی تھی چونکہ متحدہ ہندوستان میں علی گڑھ مسلمانوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں ایک بڑا نام رکھتا تھا اس لئے یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارغ التحصیل ہونے والے اپنے ناموں کے ساتھ ’’علیگ‘‘ کا اضافہ کرتے تھے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ علی گڑھ سے تعلیم یافتہ ہیں انہی شخصیات نے ملتان میں علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور شہر میں تعلیم پر توجہ دینے کے لئے ایک سکول قائم کیا جس کے لئے اراضی حکومت کے محکمہ نے اس شرط پر لیز کی کہ وہ اس میں تعلیمی سرگرمیاں کر سکیں گے 50ء کی دہائی میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے بہترین طریقے سے تعلیم و تدریس کا کام شروع کیا لیکن ان تمام دوستوں کو جنہوں نے یہ تنظیم قائم کی تھی، زندگی نے مہلت نہ دی اور وہ یکے بعد دیگرے اللہ کو پیارے ہوتے گئے اور یوں اس تنظیم کا کوئی والی وارث نہ رہا اور حکومتی اداروں نے بھی خاموشی اختیار کر لی جس پر اس تنظیم کو شروع کرنے والوں کے کچھ عزیزوں نے کام جاری رکھا مگر وہ اصل کی بجائے سب سے پہلے انہوں نے یہاں کمرشل ہوسٹل تعمیر کر لیا اور پھر تین دھائی قبل محکمہ سے مل کر سکول کے اندر کمرشل دکانیں تعمیر کر کے کرایہ پر دے دیں جس پر اس وقت 1990 میں محکمہ نے ان کی لیز ختم کر دی لیکن سیاسی اور سماجی رابطوں سے حکومت کے اس اہم محکمہ کے اس حکم کی تعمیل نہ ہو سکی اور یہ سکول کمرشل مارکیٹ اور ہوسٹل کے ساتھ قائم و دائم مگر طالب علموں کی تعداد کم ہوتی گئی لیکن اب اس کے کرتا دھرتاؤں نے لمبا ہاتھ مار لیا اور سکول کی زمین پر گول باغ چوک کی طرف 25 سے زیادہ دکانوں پر مشتمل مارکیٹ تعمیر کر لی۔ تاہم روز نامہ ’’پاکستان‘‘ میں اس کی خبر شائع ہونے پر ان نو تعمیر دکانوں کو سیل تو کر دیا گیا ہے لیکن قانون کے مطابق انہیں گرایا نہیں گیا اور آج بھی مارکیٹ پنجاب حکومت، ضلعی حکومت اور پھاٹا کا منہ چڑا رہی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -