ایم کیو ایم کو سیاسی خود کشی سے بچنا چاہئے

ایم کیو ایم کو سیاسی خود کشی سے بچنا چاہئے

  

سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف قرارداد مذمت کا پاس ہونا سندھ کے سیاسی منظر میں ایک اہم بات ہے جس کے جواب میں ایم کیو ایم اپنے مخالفوں کے خلاف قرارداد پیش کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے پیر کے دن سندھ اسمبلی میں بڑی ہنگامہ آرائی ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کر دیا ہے کہ گیلری سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے پیر 10 اگست کی ہڑتال کی کال واپس لے کر دانش مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ سے ان کے کارکنوں کی مشکلات کم ہوئی ہیں، کیونکہ ڈی جی رینجرز، میجر جنرل بلال اکبر نے تنبیہ اور تاجروں و تحفظ کی یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کے بعد ہڑتال کی کامیابی کی کوئی امید نہیں تھی۔ میجر جنرل نے کہا کہ کسی کو زور زبردستی سے شہر بند کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہری کسی خوف و خطر کے بغیر اپنے کاروبار اور معمولات زندگی جاری رکھیں۔ رینجرز ان کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔ زور زبردستی کرنے والوں کو اس کے سخت ترین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے گڑبڑ کرنے والوں کی اطلاع کے لئے فون نمبرز بھی فراہم کر دیئے ہیں، جس کے بعد رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ڈی جی رینجرز نے ہمارے کارکن ہاشم کے قتل کی تحقیقات کرنے کی یقین دھانی کرائی ہے۔ ان کی یقین دہانی پر ہم نے ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 10 اگست پیر کے دن کے تمام اخبارات ہڑتال کی کال واپس لینے کی خبر سے خالی تھے، جس کا سیاسی اور صحافتی حلقوں میں واضح مطلب یہ بھی لیا جا رہا ہے کہ شہری ڈی جی رینجرز کی طرف سے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال کی کال کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ڈی جی رینجرز اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی طرف سے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان کے بعد آنے والے دنوں کا منظر واضح ہے کہ آپریشن کا دوسرا مرحلہ کسی رُو رعایت کے بغیر جاری رہے گا۔ جس کے بارے میں کہا جا رہا ے کہ وہ 14اگست کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ دوسرے مرحلے کے آپریشن میں ایم کیو ایم کے کتنے ذمہ داران اپنے قائد الطاف حسین کے ساتھ کھڑے رہیں گے؟ اس کا پتہ چل جائے گا۔ اس کا عندیہ خود الطاف حسین اپنے چند روز قبل کے خطاب میں یہ کہہ کر دے چکے ہیں کہ ’’رابطہ کمیٹی اور وزارتوں پر متعین رہنے والے 1992ء کی طرح ایک بار پھر چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔‘‘ 1992ء میں تمام منتخب ارکان بھاگ گئے تھے۔ ابھی یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اس بار الطاف حسین کو کون کون چھوڑ چکا ہے؟ مگر یہ امر واضح ہے وہ سارے لوگ جو ایم کیو ایم کی سیاست کے ذریعہ ’’سائیکل‘‘ کی سواری سے اُتر کر دنیا کی مہنگی ترین لینڈ کروزر پر سوار ہونے اور کچی بستیوں سے نکل کر کراچی کے پوش علاقوں میں شفٹ ہوئے تھے۔ وہ ’’نائین زیرو‘‘ پر چھاپے کے بعد سے یا تو بیرون ملک پناہ لے چکے ہیں یا کراچی میں زیر زمین محفوظ پناہ گاہوں میں جا چکے ہیں قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر رشید گوڈیل بھی منظر سے غائب ہیں، جن کو الطاف حسین نے فاروق ستار کو ہٹا کر پارلیمانی لیڈر بنایا تھا۔ واضح رہے کہ ان کے زیر زمین چلے جانے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کو دوبارہ قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مقرر کیا گیا اب میڈیا کے سامنے آ کر بات کرنے والے ڈاکٹر فاروق ستار ہیں یا وسیم اختر اور سلمان مجاہد بلوچ ان کے علاوہ کم ہی لوگ رہ گئے ہیں۔ جو ان کے دفاع میں آنے کو تیار ہوں۔ تاریخ ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے،جو میڈیا میں دفاع کے لئے آتے ہیں ان کے پاس بھی دلیل کوئی نہیں بس بلیم گیم سے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں اب کسی کے لئے الطاف حسین کے پاکستان دشمن بیانات کا دفاع کرنا ممکن ہی نہیں رہا ہے۔ نہ ہی جرائم پیشہ عناصر کا کسی طور پر کوئی دفاع کیا جا سکتا ہے۔

جن کو رینجرز نے نائن زیرو کے قرب و جوار سے چھاپے کے دوران گرفتار کیا یا دیگر علاقوں میں کارروائی کر کے تحویل میں لیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ پیر کے دن قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ نثار علی خان نے پالیسی بیان کے ذریعہ جہاں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کی اس فہرست کو غلط اور حقائق کے منافی قرار دے کر مسترد کر دیا جو انہوں نے رینجرز کے ہاتھوں اپنے کارکنوں کی ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریوں کے حوالے سے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔ دو ٹوک بیان میں ایک بار پھر حکومت کی اس پالیسی کا اعادہ کر دیا ہے رینجرز یا کوئی دوسری ایجنسی کسی صورت کسی کے اغوا یا ماورائے عدالت قتل میں ملوث نہیں ہو گی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایم کیو ایم بھی ہر وقت رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ریاستی اداروں کے خلاف الزامات کی روش ترک کر کے آگے بڑھنے کے لئے ’’بدلتے زمینی حقائق‘‘ کا ادراک کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔

ان دنوں پھر ایک سہ رکنی وفد نے کور کمانڈر کراچی سے ملاقات کر کے معافی تلافی کی بات کی اور ان کے توسط سے جنرل آصف جنجوعہ سے بات ہوئی اور ایم کیو ایم کو ریلیف ملی۔ الطاف حسین نے قیادت سے دستبرداری کا اعلان کیا تو زیر زمین اراکین کو سر فیں ہونے کا موقع ملا، ایم کیو ایم کے قائد نے پاکستان دشمن بیانات کا اعادہ کر کے اُردو بولنے والوں کی بھاری اکثریت کو بھی ذہنی صدمہ سے دوچار کیا ہے۔ اپنی پارٹی اور خود اپنے آپ کو اور اپنے وفادار ساتھیوں کو بھی ایسی مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ کے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان کے بعد تو یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے۔ آپریشن کا دوسرا مرحلہ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔ ایم کیو ایم کی بقا کا واحد راستہ ایک ہی رہ گیا ہے کہ اپنی صفوں سے جرائم پیشہ عناصر اور اسلحہ کی سیاست کرنے والوں کو باہر کرے دوسری انتہا پسند سیاسی و مذہبی قوتوں کے پاس بھی اب کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔ وہ زبان، نسل اور مسلک کے نام فرقہ واریت کی سیاست کو خیرباد کہہ کر ریاست پاکستان کے آئین نے اپنے شہریوں کے لئے سیاست کرنے کا جن حدود قیود کا پابند کر رکھا ہے، اس کی پابندی کریں ۔ آئین کے دائرے سے باہر نکل کر جوسیاست کرے گا، وہ خسارہ میں رہے گا، اس کا ادراک ایم کیو ایم کے ذمہ داران کو بھی ہونا چاہئے اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو بھی جو اپنے ذومعنی ارشادات کے ذریعے بگاڑ پیدا کر رہے ہیں۔ اب کسی کے پاس کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ ہم نے سیاسی مصلحتوں کی خاطر آئین پاکستان کی مقرر کردہ حدود قیود سے انحراف کر کے ماضی میں بھی راہ کھوٹی کی ہے اور آئندہ بھی جواس سے انحراف کرے گا وہ ہمارے داخلی اور خارجی دشمنوں کے گماشتوں کا کام آسان کرے گا۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے بھی طے کر دیا ہے کہ ریاست کو دہشت گردی اور دہشت گردوں سے پاک کرنے کی راہ میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اب ایم کیو ایم اور باقی تمام سیاسی جماعتوں کو قانون کی عمل داری قائم کرنے میں اپنا اپنا رول ادا کرنا ہو گا۔ تب ہی کراچی میں بھی بدامنی کا خاتمہ ممکن ہو گا اور سیاسی عمل کے ذریعے سیاسی مشکلات پر قابو پانے کی راہیں بھی وا ہوں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست کے تمام ادارے اور تمام سیاسی قوتیں اپنے ماضی کے طرز عمل اور سیاسی اور وقتی ضرورتوں کے تحت کئے جانے والے فیصلوں کا خود احتسابی کے ساتھ جائزہ لے کر مستقبل میں ان سے باز رہنے کا عہد کریں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -