بلوچستان اور کراچی کی بد امنی میں ’’را‘‘کا کوئی کردار نہیں ،بھارت ہائی کمشنر

بلوچستان اور کراچی کی بد امنی میں ’’را‘‘کا کوئی کردار نہیں ،بھارت ہائی ...

  

لاہور(خصوصی رپورٹر)پاکستان میں متعین بھارت کے ہائی کمشنر ڈاکٹرٹی سی اے راگھوان نے کہا ہے کہ بلوچستان اور کراچی کی بدامنی اور وہاں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارت کا کوئی کردار اور ہاتھ نہیں اور نہ اس سلسلے میں پاکستان نے کبھی بھارت کو کوئی ثبوت دیئے ہیں ۔اس سلسلے میں میڈیا رپورٹس محض پروپیگنڈہ ہیں ۔انہوں نے کہا پاک چین اقتصادی راہ داری کے جس حصے پر بھارت کو اعتراض ہے وہ کشمیر کے متنازع علاقے سے گزرتا ہے جس طرح پاکستان کے لوگ اور رائے عامہ کشمیر کے معاملے پر حساس ہے اسی طرح بھارت کے لوگ اور رائے عامہ بھی اس پر نازک جذبات رکھتی ہے ۔پاکستان کے لوگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے تو بھارت کے لوگوں کا بھی یہ خیال ہے کہ پاکستان نے کشمیر کے ایک حصے پر قبضہ کررکھا ہے ۔اس پیچیدہ صورتحال کی وجہ سے اس مسئلہ کا آسان حل ممکن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کا اصل مسئلہ اعتماد کا فقدان ہے ۔وہ "پلڈاٹ"کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں "پاکستان اور بھارت میں گورننس اور ترقی کے عمل کو جاننے کے باہمی مواقع "کے موضوع پر خطاب کررہے تھے ۔تقریب میں دو سابق گورنروں شاہد حامد اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر ،سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی ،سابق سینیٹر اورمسلم لیگ (ق)کے رہنما ایس ایم ظفر ،سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد ، بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر شاہد ملک ،روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی ،الطاف حسن قریشی ،ممتاز دانشوروں ،ماہرین تعلیم ،ممتاز اینکر پرسنز اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی ۔"پلڈاٹ "کے سربراہ احمد بلال محبوب نے تعارفی کلمات میں پاک بھارت تعلقات کی تاریخ پر جامع روشنی ڈالی ۔ڈاکٹر راگھوان نے کہا سندھ طاس معاہدہ اپنے وقت کا بہترین معاہدہ تھا جو ماہرین اور انجینئروں کے درمیان مذاکرات کے بعد تکمیل پایا تھا اور اب تک اس پر عمل درآمد ہورہا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت پر (کشمیرکی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری )سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا جاتا ہے ۔اسی طرح بھارت میں اتنی ہی بلکہ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ پاکستان پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ڈاکٹر راگھوان نے کہا دونوں ملکوں کو مشترکہ مسائل درپیش ہیں ۔غربت ،ثقافت ،سائنس ،تعلیم ،صحت اور ایسے ہی بہت سے شعبے ہیں جن میں دونوں ملکوں کو تعاون کرنا چاہیے ،انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات کی جو نوعیت ہے وہ کوئی انوکھی نہیں ہے دنیا کے بہت سے ملک اور ہمسائے اس طرح کے ادوار سے گزرتے رہے ہیں اور گزر رہے ہیں اس کے باوجود ایک وقت آیا جب انہوں نے اپنے تعلقات بہتر کرلئے ،اس سلسلے میں انہوں نے جاپان ، جنوبی کوریا اور جاپان و چین کے تعلقات کی مثالیں دیں ۔انہوں نے اپنے خطاب میں لاہور کی تاریخی وسیاسی تحریکوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور اس حوالے سے اس شہر کی اہمیت بیان کی ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن سنگھی پس منظر رکھنے کے باوجود سابق وزیر اعظم واجپائی بس پر بیٹھ کر لاہور آئے اور یہاں تعلقات کی بہتری کی بات کی ۔انہوں نے کہا جس طرح پاکستان کے میڈیا کو بھارتی میڈیا سے شکایت ہے اس سے زیادہ شکائتیں بھارتی میڈیا کو پاکستان سے ہیں ۔دونوں طرف کی رائے عامہ سمجھتی ہے کہ دوسرے ملک کامیڈیا منفی کردار ادا کررہا ہے ۔دونوں ملکوں میں دہشت گردی کامسئلہ مشترکہ ہے اور اس مسئلے کو پاکستان میں سمجھنے کی ضرور ت ہے ۔روزنامہ "پاکستان"کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے اپنے اختتامی کلمات میں دونوں ملکوں کو بہتر تعلقات کی راہیں تلاش کرنے کا مشورہ دیا اور اس سلسلے میں مثال دی کہ قیام پاکستان کے بعد1965ء کی جنگ سے پہلے تک تعلقات معمول کے مطابق تھے اب بھی تعلقات کی بہتری کے لئے اس دور کی جانب واپس لوٹنا ہوگا۔

مزید :

صفحہ اول -