چین نے مشکل وقت میں ساتھ دیا ،ہمارے دوست اور دشمن مشترکہ ہیں ،شہباز شریف

چین نے مشکل وقت میں ساتھ دیا ،ہمارے دوست اور دشمن مشترکہ ہیں ،شہباز شریف

  

لاہور(جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے یہاں چائنیز پیپلز ایسوسی ایشن برائے امن و تخفیف اسلحہ کے نائب صدر ہی جن کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی۔ملاقات میں پاک چین تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیاگیا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے چین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اورچین پاکستان کاایسا مخلص دوست ہے جو مشکل کی ہرگھڑی میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے۔ پاکستان کے عوام کو چین کی دوستی پر فخر ہے ۔انہوں نے کہا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کا منصوبہ چین کی جانب سے پاکستان کیلئے عظیم تحفہ ہے۔چین کی جانب سے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے پیکیج کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی اوراس اقتصادی پیکیج میں 33 ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں کیلئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کے تعاون سے ساہیوال میں کوئلے سے توانائی کے حصول کے 1320میگاواٹ کے منصوبے پرتیزرفتاری سے کام جاری ہے اور قائداعظم سولر پارک بہاولپور میں100میگاواٹ کاسولر منصوبہ ریکارڈ مدت میں مکمل کیاگیا ہے ۔سولر سے توانائی کے حصول کے دیگر منصوبوں پر بھی تیزرفتاری سے کام جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش توانائی کے شدید بحران نے معیشت سمیت تمام شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے اوردوست ملک چین نے مشکل کی اس گھڑی میں ہمارا ہاتھ تھاما ہے ۔انشا ء اللہ چین کے تعاون سے توانائی بحران پر قابو پانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ چین کے اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری پیکیج سے پاکستان بھر میں توانائی سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے لگائے جارہے ہیں جس سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور آئندہ نسلیں چین کے اس احسان عظیم کو کبھی نہیں بھلا سکتیں۔ سی پیک کے منصوبوں سے ہمارے دوست خوش ہیں جبکہ دشمن سیخ پا ہے۔ سی پیک کے منصوبوں پر نالاں ہونیوالے صرف اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین سی پیک کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ دشمن کو سی پیک کے منصوبوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنے دی جائے گی۔پاکستان اور چین کے دوست اور دشمن مشترکہ ہیں۔دونوں ممالک کے مابین تجارت، ثقافت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلے ہونے چاہئیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) اور کمیونسٹ پارٹی چائنہ کے ممبران کے درمیان بھی زیادہ سے زیادہ رابطے ہونے چاہئیں تاکہ پارٹی کی سطح پر تعلقات مزید مضبوط ہوں۔ اس موقع پر چائنیز پیپلز ایسوسی ایشن برائے امن و تخفیف اسلحہ کے نائب صدر ہی جن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ سی پیک کے منصوبوں پر ناراض ہونے والے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو بڑھتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے لیکن انہیں ناکامی ہوگی۔ہی جن نے کہا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے عوام کیلئے حقیقی معنوں میں عملی اقدام اٹھائے ہیں۔ مجھے یقین ہے وزیراعلیٰ شہبازشریف کی قائدانہ صلاحیتوں سے صوبہ پنجاب بہت جلد خوشحال ہوگا۔اس موقع پر صوبائی وزراء رانا ثناء اللہ، کرنل (ر) شجاع خانزادہ، بیگم ذکیہ شاہنواز، چیئرمین لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان ، متعلقہ اعلیٰ حکام، چینی قونصل جنرل یوبورن اور وفد کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت یہاں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں قصور واقعہ کے تناظر میں صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے اجلاس کے دوران واقعہ کی آزادانہ انکوائری کیلئے تشکیل دی جانیوالی جے آئی ٹی(مشترکہ تحقیقاتی ٹیم) کو فوری طورپر تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ جے آئی ٹی واقعہ کی جلد سے جلد انکوائری مکمل کرے اورجے آئی ٹی کے اراکین قصور میں بیٹھ کر تمام تحقیقات جلد مکمل کریں۔اجلاس میں وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو آج ہی متاثرہ گاؤں پہنچنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قصور واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی ہوگی اورانہیں کیفر کردارتک پہنچایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کڑی سے کڑی سزا کے حقدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھناؤنا فعل کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتااورقبیح حرکت کے ذمہ دارعبرتناک سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی دادرسی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ صوبائی وزراء رانا ثناء اللہ ،کرنل (ر) شجاع خانزادہ،انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب،آر پی او شیخو پورہ اوراعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ کے تحت اربوں روپے کی لاگت سے دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ دیہی آبادی کیلئے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے اوراس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 2075 کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام 30 ستمبر تک مکمل کر لیا جائے گاجبکہ دوسرے مرحلے کا آغاز ستمبر کے اوائل میں ہوگا۔ ’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ کے حوالے سے خودمختار اتھارٹی کے قیام کیلئے مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار یہاں اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں ’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب کے قیام کی بھی منظوری دی۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت تمام علاقوں کی متوازن ترقی کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ مفاد عامہ کا شاندار اور پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے ،اس پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے۔’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ کے سلسلے میں بین الاقوامی سیمینار کا جلد انعقاد کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ’’پکیاں سڑکاں۔سوکھے پینڈے‘‘ کے دوسرے مرحلے کا آغاز ستمبر کے اوائل میں ہوگا۔ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے پروگرام کیلئے معیار اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے پروگرام کیلئے معیاری تارکول کی فراہمی کا میکانزم تیار کر لیا گیا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر میں کسی صورت غیر معیاری مٹیریل استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،جہاں شکایت ملی سخت کارروائی ہوگی۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ غیر معیاری ایرانی تارکول فروخت اور استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے۔ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے پروگرام میں معیاری تارکول کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور تعمیراتی مٹیریل کی کوالٹی کی باقاعدگی چیکنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ کنسلٹنٹ تعمیراتی مٹیریل کی کوالٹی کے بارے میں تحریری تصدیق نامہ داخل کرائے گا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سڑکوں کی دیکھ بھال کیلئے ایکسل لوڈمینجمنٹ کا میکانزم جلد وضع کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔متعلقہ ڈویژنل کمشنرز، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے اجلاسوں میں خود شرکت کریں۔تعمیر و بحال ہونے والی دیہی سڑکوں کے دونوں اطراف شجرکاری کی جائے۔ اراکین اسمبلی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ نے دیہی آبادی کے دل جیت لئے ہیں۔ سیکرٹری تعمیرات و مواصلات نے ’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی۔ صوبائی وزراء رانا ثناء اللہ، ملک ندیم کامران، تنویر اسلم ملک، ڈاکٹر فرخ جاوید، چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات متعلقہ سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی زیر صدارت یہاں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا اور سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔صوبے کی معیشت کو مضبوط کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بورڈ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔سرمایہ کاری بورڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق کام کرکے نتائج دینا ہوں گے ،اس لئے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اہداف کے حصول کے لئے محنت سے کام کرے۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری بورڈ میں اصلاحات اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے آئندہ تین ہفتوں میں واضح روڈ میپ مرتب کرکے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دے کر روز گار کے نئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔غربت اور بیروزگاری کے مسائل پر قابو پانے کیلئے سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کو زراعت، صنعت، لائیوسٹاک، توانائی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے اپنا فعال کردار کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت نے گروتھ سٹرٹیجی 2018 تشکیل دی ہے۔ 2018تک شرح ترقی میں 8فیصد اضافے اور 20لاکھ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔پنجاب کی برآمدات میں اضافے کے اہداف کے حصول کیلئے محنت سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔2018تک صوبے میں نجی شعبہ کی سرمایہ کاری کا ہدف بھی ہر صورت حاصل کرناہے۔ چیئرمین لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان، چیئرمین پنجاب سرمایہ کاری بورڈ عبدالباسط، چیئرمین منصوبہ بندی وترقیات، سیکرٹریز خزانہ و صنعت ، چیئرمین ٹیوٹا اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ صوبائی وزیر صنعت چودھری محمد شفیق رحیم یار خان سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے ۔

مزید :

صفحہ اول -