گوانتاناموبے کے قیدیوں کی رہائی اورمتعلقہ ممالک میں منتقلی پر غورشروع

گوانتاناموبے کے قیدیوں کی رہائی اورمتعلقہ ممالک میں منتقلی پر غورشروع

  

واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)گوانتانا موبے جیل کے قیدیوں کو رہا کرنے اور انکو متعلقہ ممالک میں منتقل کرنے کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے کیونکہ صدر بارک اوبامہ نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق اس جیل کو بند کرنے کا فیصلہ کررکھا ہے۔ اب اس وقت اس جیل میں صرف 116قیدی رہ گئے ہیں۔ ان میں سے صرف پانچ قیدیوں پر سزائے موت کی فرد عائد کرکے فوجی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ باقی قیدیوں کو وائٹ ہاؤس میں رہا کرکے یا دوسرے مقامات پر منتقل کرکے مستقل بند کرنا چاہتاہے۔ اس سلسلے میں انتظامیہ کو بہت سی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ کچھ قیدیوں کو ان کے بنیادی ممالک وصول کرنے سے انکار کر تے رہے ہیں اور کچھ قیدیوں کے اصل ملک کا تعین نہیں ہوسکا۔کیپٹل ہل اور سپریم کورٹ کے فیصلے ان قیدیوں کو امریکہ کی جیلوں میں منتقل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اگریہ اجازت مل جاتی تو یہ جیل بہت پہلے بند ہو جاتی ۔معلوم ہوا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ نے کانگریس کو اس سلسلے میں نیا روڈ میپ دیا ہے۔کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاست ایلو نائے کی ایک اہم سکیورٹی جیل کے علاوہ جنوبی کیرولینا میں ایک بجری اڈے میں سے چند قیدیوں کو رکھنے کے لئے کانگریس کو رضا مند کیا جا رہا ہے ۔ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان مکین نے عندیہ دیا ہے کہ اگر انتظامیہ سکیورٹی کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نئی ٹھوس تجاویز پیش کرے تو وہ چند قیدیوں کو امریکی جیلوں میں منتقل کرنے کی حمایت کرسکتے ہیں۔ کیوبا میں امریکی ملکیت کے گوانتا نا موبے کے نظر بندی کیمپ کی جنوری 2002میں قائم کیا گیا تھا۔ جہاں افغانستان اور دیگر مقامات سے پکڑے گئے دہشت گردوں کو رکھا گیا تھا جن کی اتبداء میں تعداد 780تھی۔ان میں سے بہت سے قیدیوں کو وقتاً فوقتاً رہا کرکے ان کے بنیادی ممالک بھیجا جاتا رہا اور اب یہاں صرف 116قیدی رہ گئے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -