یوم آزادی شان و شوکت سے منانے کی تیاریاں

یوم آزادی شان و شوکت سے منانے کی تیاریاں

  

تجزیہ :چودھری خادم حسین

پاکستان کو قائم ہوئے اڑسٹھ برس ہو گئے پاکستانی 14 اگست کو جشن آزادی منا رہے ہیں۔ اس کے لئے لوگوں کے اندر بڑا جوش و خروش پایا جاتا ہے اور گلیاں اور بازار بھی سجا دیئے گئے ہیں اس مرتبہ 13 اگست کی شب کو اسلام آباد میں آتش بازی بھی ہو گی۔

اس سارے عمل کی داد ہی دینا چاہئے کہ قومیں اپنی آزادی کی خوشی مناتی ہیں تاہم ایسے مواقع پر سود و زیاں کا بھی تو حساب یاد رکھنا چاہئے ۔ ہمیں اپنے ماضی پر نظر ڈال کر حال کا موازنہ کرنا چاہئے۔ ہم تو پلٹ کر نظر ڈالتے ہیں تو مسائل میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہم نے دور جدید کی ترقی کو تو اپنے لئے حاصل کیا ہے لیکن یہ بھی تو سوچئے ہم نے دیا ہی کیا ہے۔ اس کے لئے ذرا تحریک پاکستان پر نظر ڈالنے اور کسی خوف کے بغیر دیانت داری سے غلطیوں کا تجزیہ کر کے اس کے ازالے کی کوشش کرنا چاہئے ہمارے یہاں یہ فیشن ہے کہ الزام لگاتے ہیں تنقید برداشت نہیں کرتے حالانکہ برداشت کا مادہ ہونا چاہئے اور تلخ حقیقت کو بھی قبول کرنا چاہئے ہم تو اپنی تاریخ ہی کو صحیح طور پر مرتب نہیں کر پائے حالانکہ بڑے بڑے دانشور اور پڑھے لکھے حضرات نے بہت کچھ لکھا اور لکھ بھی رہے ہیں لیکن یہ سب بھی کسی نہ کسی شخصیت کسی نہ کسی کہانی کو درست قرار دینے ہی کی کاوش ہے۔

بہر حال یہ یوم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی بانی جماعت کا قیام جس خطے میں ہوا آج وہ ہمارا حصہ ہیں۔ ہم ایک ملک تھے اپنی غلطیوں سے دو بن گئے اور تاریخ سے پھر سبق نہیں لیا ہم نے کچھ ہدف مقرر کر لئے اور ان پر تبرہ کہہ مطمئن ہو جاتے ہیں اور دور جدید کے تحقیقی نظریئے پر عمل کرتے ہوئے حقائق تلاش کر کے منظر عام پر نہیں لاتے۔

بہر حال جو ہوا ماضی ہے ماضی سے سبق ہی لیا جا سکتا ہے لیکن ہماری حالت کیا ہے کرپشن اور مار دھاڑ کے جو پہلو سامنے آ رہے ہیں ان سے ہم خود اپنا پردہ چاک ہوتے دیکھتے ہیں سیاست ایک مقدس عمل ہے لیکن ہم نے اس کے ساتھ بھی بہت برا کیا ہے آج معاشرے میں تحمل اور دلیل نا پید اور انتہا پسندی ہمارا مقدر ہے۔ مسائل جوں کے توں ہیں غریب کا نام لے کر غریب کا استحصال کیا جاتا ہے۔

آج سیاست کے میدان میں جو ہو رہا ہے۔ اس کا پس منظر بھی تو ہے۔ ہم آزادی صحافت کے علمبردار میڈیا کی آزادی کے دعویدار حقائق بتا سکتے ہیں؟ اگر کسی بڑے بہادر کے پاس اس کا جواب ہے تو وہ بتا دے۔ میڈیا سے لوگ ایسی توقع کرتے ہیں کہ وہ پس منظر تلاش کر کے ہی بتا دیں۔ بڑے ’’بولڈ‘‘ (معاف کیجئے پھکڑ نہیں لکھا)حضرات کے بھی پر جل جاتے ہیں جب وہ سچائی کے لئے پرواز کی کوشش کرتے ہیں۔

کیا ہم اتنے برسوں کا تجزیہ کر کے اب بھی اپنے رویئے درست نہیں کر سکتے عوام کا نام لیتے ہیں تو ان کو زیر بار کیوں کرتے ہیں۔ اللہ کا نام لیں۔ برداشت، تحمل اور حوصلہ پیدا کر کے مستقبل کا خاکہ بنائیں۔

ہمارے ملک میں اللہ نے اتنے وسائل دیئے ہیں کہ ہم ورلڈ بنک سے آئی ایم ایف اور ایشین بنک تک کے قرض اتار کر دوسروں کو قرض دینے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ ہم ہنر مند بھی ہیں پوری دنیا ہمیں مانتی ہے۔ لیکن آنکھوں پر سے خود غرضی کی پٹی اتارنا ہوگی اور یہ اب ضروری ہے۔ اب نہیں تو کبھی نہیں۔

اللہ کے نام پر پارلیمینٹ میں مسائل حل کریں اور عوامی بہبود کے لئے قومی وسائل کو تحفظ دینے کے لئے اور ملک میں منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کے لئے دعوے نہ کریں۔ احتساب کریں عمل کریں خود ٹھیک ہوں اور قوم کو ٹھیک کر لیں۔

مزید :

تجزیہ -