سزاؤں کی معطلی کے قانونی نکتہ پر محکمہ پراسیکوشن بحث کیلئے طلب

سزاؤں کی معطلی کے قانونی نکتہ پر محکمہ پراسیکوشن بحث کیلئے طلب

  

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے مختلف جرائم میں سزاؤں کی معطلی کے اختیار کے قانونی نقطے پر محکمہ پراسکیوشن کو 17اگست کو بحث کے لئے طلب کر لیا، فاضل بنچ نے عدالت عالیہ کے دفتر کو قتل کے 3مجرموں کی اپیلوں کی سماعت کو بھی یکجا کرنے کا حکم دیاہے۔ مسٹر جسٹس خالد محمود ملک اور مسٹر جسٹس سردار نعیم احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے عمران خان سمیت تین مجرموں کی اپیلوں پر سماعت کی، مجرموں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ اگر کسی سزاکے خلاف اپیل میں ازسرنو سماعت شروع کرتی ہے توہائیکورٹ کو معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہونے کی بناء پر معطل کر نے کا اختیار مل جاتا ہے ،ہائیکورٹ یہ اختیار تب استعمال کرے گی جب مجرم کسی جرم میں مناسب سزا کاٹ چکا ہو ، چاہے سپریم کورٹ نے ازسرنوسماعت کے علاوہ سزا کو معطل نہ بھی کیا ہو، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اپیل کنندہ مجرم اپنے سزاؤں کا60 سے 70 فیصد حصہ کاٹ چکے ہیں اور اب ضمانت پر رہائی اور بری کئے جانے کے مستحق ہیں اور اس سے متعلق سپریم کورٹ کے نئے فیصلے بھی آ چکے ہیں ، دو رکنی بنچ نے سماعت کے بعد سزاؤں کے خلاف 3 مجرموں کی اپیلیں یکجا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے محکمہ پراسکیوشن کو نئے قانونی نقطے پر معاونت کے لئے 17اگست کو طلب کر لیا۔

اپیلیں یکجا

مزید :

صفحہ آخر -