جماعت الدعوۃ اور حافظ سعید کے ترجمان یحییٰ مجاہد کا احتجاجی اختلافی خط

جماعت الدعوۃ اور حافظ سعید کے ترجمان یحییٰ مجاہد کا احتجاجی اختلافی خط
جماعت الدعوۃ اور حافظ سعید کے ترجمان یحییٰ مجاہد کا احتجاجی اختلافی خط

  

محترم حافظ سعید صاحب نے نظرئیہ پاکستان کے حوالہ سے ایک قومی مجلس مشاور ت منعقد کی۔ میں نے اس پر کالم لکھا اور اس میں لکھا کہ حافظ سعید سیاسی طور پر تنہا ہیں۔ میری اس بات سے جماعت الدعوۃ اورحافظ سعید صاحب کو اختلاف ہے۔ میں نے جو لکھا اس کے دلائل بھی میں نے اس کالم میں دے دئے تھے۔ تا ہم حافظ سعید اور جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحییٰ مجاہد صاحب نے مجھے ایک احتجاجی اور اختلافی خط لکھا ہے۔ جو من و عن کالم میں شائع کر رہا ہوں۔ تا کہ ان کا موقف بھی قارئین تک پہنچ جائے۔ کیونکہ بہر حال فیصلہ تو قارئین نے ہی کرنا ہے۔

محترم مزمل سہروردی صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے۔ نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے تحت ہونیو الی قومی مجلس مشاورت کے حوالہ سے آپ کاکالم پڑھا جس میں چند ایک باتیں ایسی ہیں جن کی وضاحت میں بہت ضروری سمجھتا ہوں۔آپ نے نظریہ پاکستان کے احیاء کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ حافظ محمد سعید تنہا رہ گئے ہیں اورکوئی بڑی سیاسی جماعت ان کے ساتھ نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بات حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ سب مذہبی و سیاسی جماعتیں ا س بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ اس وقت حافظ محمد سعید ہی ایسی شخصیت ہیں جوہر قسم کی فرقہ وارانہ سوچ سے بالاتر ہو کر پاکستان بھر کی سیاسی ومذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر سکتے ہیں اوروہ پچھلے کئی برسوں سے ایسا کرتے آرہے ہیں۔پاکستان میں اس وقت انہیں اتحاد امت کا بہت بڑا نقیب سمجھا جاتا ہے جس کا واضح اظہار مجلس مشاورت کے دوران بھی تقریبا سبھی رہنماؤں نے کیا اور نظریہ پاکستان کے احیا کیلئے انکی کاوشوں کی تائید کی۔ پچھلے چند برسوں کاجائزہ لیا جائے توآپ دیکھیں گے کہ تحریک حرمت رسولﷺ،تحریک حرمت قرآن اور دفاع پاکستان کونسل ہو یا نظریہ پاکستان رابطہ کونسل ملک بھر کی قومی قیادت ان کی دعوت پر منعقدہ پروگراموں میں شریک ہوتی اور مشترکہ طور پر کامیاب تحریکیں چلائی جاتی رہی ہیں۔آج ہر کوئی یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ وہ ایک قومی رہنما ہیں اور پاکستانی قوم قدرتی آفات میں مثالی کردار ادا کرنے کی طرح نظریاتی حوالہ سے بھی دوٹوک موقف اختیارکرنے پر ان سے بے پناہ محبت رکھتی ہے۔جن حکومتی یابعض اپوزیشن جماعتوں کے اس مجلس میں نہ آنے کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے ‘ وہ خود بھی نظریہ پاکستان کی اہمیت سے انکار نہیں کرتیں‘ ان کی قیادت بھی یہ بات تسلیم کرتی ہے کہ جس کام کا بیڑہ حافظ محمد سعید نے اٹھایا ہے یہ ضرور ہونا چاہیے تاہم اقتدار ی سیاست کی مجبوریوں کے سبب اگر بعض جماعتیں ایسی مجلس میں شریک نہیں ہوتیں تو یہ ان کیلئے سوچنے کی بات ہے کہ قائداعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کے دیے گئے اس نظریہ سے ان کا کتنا تعلق باقی ہے جس کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا گیاتھا۔آپ نے اپنے کالم کے آغاز میں لکھا ہے کہ ہر سال یوم آزادی کے موقع پر دوقومی نظریہ کی افادیت پر بحث شروع ہوجاتی ہے اور ان محافل سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم دوقومی نظریہ اورنظریہ پاکستان کے حوالہ سے ابہام کاشکارہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ قطعی طور پر ایسی بات نہیں ہے۔ نظریہ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے جس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اگر اس نظریہ کی اہمیت کو سمجھنا ہو تو ہندوستان میں محض مسلم ہونے کی بنیاد پرہندوؤں کی جانب سے آئے دن مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بدترین مظالم آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ یوم آزادی سے متعلق تقریبات کے انعقاد کامقصدیہ طے کرنانہیں ہوتا کہ ہمیں دوقومی نظریہ قبول ہے یا نہیں بلکہ اس کا مقصد نوجوان نسل کے ذہنوں میں اس بنیادی نظریہ کو راسخ کرناہوتا ہے۔ اہل دانش کی خوبی ہے کہ وہ ہمیشہ ان ایام سے فائدہ اٹھایا کرتے ہیں۔ قوموں کی تاریخ میں ایسے دن بہت اہم ہوتے ہیں۔جو قومیں اپنی تاریخ بھول جاتی ہیں اور نئی نسل کو اس سے روشناس کروانے سے قاصر رہتی ہیں وہ کبھی دنیا میں باوقار انداز میں زندہ نہیں رہ سکتیں۔افسوس اس امر کا ہے کہ غیر ملکی این جی اوز کے زیر اہتمام چلنے والے تعلیمی اداروں کی بات توایک طرف‘ ہماری اپنی حکومت کے تیار کردہ تعلیمی نصاب سے اغیار کی خوشنودی کیلئے نظریہ پاکستان سے متعلق زیادہ تر مواد نکال دیا گیا ہے اور پھر ازلی دشمن بھارت کی جانب سے شروع دن سے زبردست تہذیبی یلغارکی جارہی ہے جس کاحکومتی سطح پر صحیح معنوں میں توڑ نہیں کیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی کلمہ طیبہ کی بنیاد پردی گئی لاکھوں افراد کی قربانیوں ‘ ماؤں ،بہنوں وبیٹیوں کی لٹی ہوئی عصمتوں اورہندوبنئے کے مظالم سے آگاہ نہیں اور دوقومی نظریہ جو اس ملک کی بنیاد ہے اسکی بات کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس سوچ کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ امیر جماعۃالدعوۃ حافظ محمد سعید کی زیر صدارت نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کی قومی مجلس مشاورت اسی مقصد کیلئے تھی کہ متفقہ طور پر بڑے پیمانے پر تحریک چلاکر نئی نسل کو نظریہ پاکستان کی ضرورت و اہمیت سے آگاہ کیا جائے اوراس کیلئے عوامی پروگراموں و لٹریچر کی اشاعت سمیت تمام ذرائع و وسائل استعمال کئے جائیں۔ آپ نے تقریب میں شریک دو بزرگ کالم نگاروں کے درمیان اختلاف کو پاکستان میں دوقومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کی کمزوری کی ایک عمدہ مثال قرار دیا ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ ملکی سیاست میں فوج کے کردار سے متعلق سیاستدانوں کی طرح اہل قلم کے مابین بھی اختلاف پایا جاتا ہے لیکن پاک فوج کے وطن عزیزکی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ یا نظریہ پاکستان کے حوالے سے جن بزرگوں کا آپ نے ذکر کیا ہے ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔آپ نے فینٹم فلم کے خلاف رٹ پٹیشن اور اقوام متحدہ کی جانب سے حافظ محمد سعید کو دہشت گرد قرار دیے جانے کا بھی ذکر کیا ہے۔میں سمجھتاہوں کہ فینٹم فلم میں پاکستانی اداروں اور حافظ محمد سعید جن کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ ان کا ممبئی حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ کے متعلق شدید پروپیگنڈا کیا گیا ہے جس کے ذریعہ پرامن پاکستانیوں کے جذبات بھڑکانے کی سازش کی گئی ہے اس لئے اس کی نمائش رکوانے کیلئے عدلیہ سے رجوع کرنا انتہائی ضروری تھا۔ جہاں تک اقوام متحدہ کی جانب سے حافظ محمد سعید کو دہشت گرد قرار دینے کی بات ہے تو اس ادارہ کی کریڈیبلٹی ساری دنیا کے سامنے ہے۔ مسئلہ کشمیر پر درجنوں قراردادیں موجود ہیں۔ بھارت خود اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لیکر گیا لیکن آج تک اس نے اس ادارہ کی ایک قرارداد پر عمل نہیں کیا ۔ وہ آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ نہتے کشمیریوں پر بدترین مظالم ڈھاکر یو این کی قراردادوں کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف ہے لیکن اقوام متحدہ کی جانب سے کبھی اس کے خلاف عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ اسی طرح مشرقی تیمور اور سوڈان کا مسئلہ ہو تو یہ ادارے فی الفور حرکت میں آجاتے ہیں لیکن برما، کشمیر، فلسطین و دنیا کے دیگر خطوں کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں ایک لفظ تک کہنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ایسے میں وہ کسی کو دہشت گرد قرار دے بھی دے تو اسے محض اسلام دشمنی اور بھارت و امریکہ کی خوشنودی کے سوااور کیا کہاجاسکتا ہے۔بہرحال مجھے امید ہے کہ آپ میری ان معروضات پر ضرور غور کریں گے۔

والسلام

محمد یحییٰ مجاہد

ناظم اطلاعات جماعۃالدعوۃ پاکستان

مزید :

کالم -