جاپان میں امن سیمینار

جاپان میں امن سیمینار
جاپان میں امن سیمینار

  



میں نے 20 جون 2015ء کو جاپانی حکومت کی دعوت پر امن کے قیام، باہمی تعلقات اور جمہوریت کے موضوع پر ٹوکیو میں ایک اعلیٰ سطحی سیمینار میں شرکت کی جو میرے لئے ایک بڑا اعزاز تھا۔ اس سیمینار کی تجویز جاپان کے وزیراعظم مسٹر شیزوایبے نے نومبر 2014ء میں ایسٹ ایشیا کانفرنس میں دی تھی۔ انہوں نے جاپانی حکومت کی پالیسی کے تحت ایشیا میں امن اور جمہوریت کے عزم کو دہرایا۔ سیمینار کے شرکاء نے جاپانی حکومت کی میزبانی اوروزیر اعظم کی طرف سے سیمینار سے ایک دن قبل اپنے استقبال کو سراہا۔ یہ جاپان اور جاپانی عوام کا امن کی عظیم اہمیت کے لئے ایک اہم اظہار تھا۔ کوئی بھی ملک جاپان سے زیادہ امن کی اہمیت نہیں سمجھ سکتا کیونکہ جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے خلاف ایٹمی ہتھیار دوسری عالمی جنگ کے دوران استعمال کئے گئے جس کے بعد جاپان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کئی سال لگ گئے۔ لہذا امن کی پہچان اور اعتراف جاپان کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔

مزید برآں جاپانی قوم کے عزم و استقلال کی وجہ سے جاپان کے لئے میرے احترام میں اضافہ ہوگیاہے۔دوسری جنگ عظیم نے جاپان کو گہرا سماجی و معاشی نقصان پہنچایا۔جاپان کو صنعت اور توانائی کے لئے درکار تیل‘ خام لوہا‘ کوئلہ‘ تانبا‘ پیتل‘ ایلومینیم اورلکڑی سمیت متعدد خام مال کی قلت کا سامنا تھا۔ اس کے باوجود جاپان نے ہمت نہ ہاری اور اگلے 23 سالوں تک مسلسل سخت محنت کی جس کے نتیجے میں جاپان کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت کا درجہ حاصل ہوا۔ جاپان 1978ء سے 2010 ء تک دوسری بڑی اور اس وقت دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے۔ جاپان کے وزیرخارجہ جن کا تعلق ہیروشیما سے ہے‘ نے اپنی تقریر میں گزشتہ 70برس کے دوران ایشیا کے مختلف ممالک میں امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کیا۔ آج دنیا کے مختلف ممالک کو گروہی اور مذہبی مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن متعدد ایشیائی ممالک میں امن، برادرانہ تعلقات اور جمہوریت کے لئے پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔

جیسے 2002ء سے حکومتیں اپنی مدت پوری کر رہی ہیں۔ 2002ء سے قبل فوج ایڈہاک بنیاد پر گاہے بگاہے برسراقتدار رہی اور اسمبلیاں تحلیل کی جاتی رہیں۔ کوئی بھی حکومت عوام کی خدمت اور اپنی نصف مدت بھی پوری نہ کر سکی۔ تاہم پاکستان میں مختلف کوششوں کے ذریعے جمہوریت میں بہتری آئی ہے۔ ہم قومی مفاہمت‘ جمہوری رویوں اور امن کی تعمیر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کسی بھی کشمکش کے خاتمے اور امن کے قیام و پائیداری کے لئے ہر ملک اپنے خطے کے لئے پہلے ذمہ دار ہے۔ اس میں سول سوسائٹی اور میڈیا جیسے اہم عناصر کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن میرے خیال میں بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہے۔

پہلا اہم عنصر حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا ہے۔ جب بھی حکومتیں فیصلہ کریں اس میں عوام کی اکثریت کی آراء کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ حکومت کو عوام کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔ عوام کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اندرون و بیرون ملک میں کیا ہورہاہے؟کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے؟حکومت کو اس سلسلے میں آگاہی فراہم کرنے کے لئے کام کرنا چاہیے۔ حکومت کو عوام پر اپنے اعتماد کو بہتر بنانا چاہیے کیونکہ جب لوگ حکومت پر اعتماد کریں گے وہ متحد ہوں گے۔ اگر حکومت اور قوم متحد ہوں گے‘ توکوئی بھی عنصر ملک کے اندر اور باہر سے ملک کو غیرمستحکم کرنے یا ملک کے خلاف سازش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہاں انصاف ہونا چاہیے کیونکہ اگر انصاف ہو گا تو مجھے یقین ہے کہ ہم دنیامیں امن قائم کرسکتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف زبانیں‘ ثقافتیں اور مذاہب ہیں۔اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیں معاشرے میں رواداری ، تحمل، برداشت اور بردباری کو فروغ دینا چاہیے ہمیں اس کا ادراک ہونا چاہیے کہ ہم سب نے مل جل کر رہنا ہے۔ میںیہ سمجھتی ہوں کہ لوگوں کو خواتین کی اہمیت اور ملکی ترقی میں ان کا فعال کردار قبول کرنا چاہیے ۔ صنفی امتیاز کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ خواتین کومعاشی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانابھی نہایت ضروری ہے۔

مَیں نے ٹوکیو میں امن سیمینار میں بطور پینلسٹ ایک مباحثے میں شرکت کی جس کا موضوع امن‘ خواتین اور بچے تھے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ہمارے معاشرے میں عام طور پر خواتین اور بچے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں، میں نے اپنے ملک میں امن کے قیام کے لئے اہم کردار ادا کرنے اور اپنی جان قربان کرنے والی وزیراعظم بے نظیربھٹو اور نوجوان طالبہ ملالہ یوسفزئی کی مثالیں دیں۔ ملالہ کو اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے اورخصوصا لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے کی پاداش میں طالبان نے 2012ء میں سر پر گولی ماری لیکن وہ بچ گئی جس کو 2014ء میں امن کا نوبل انعام بھی ملا۔جو ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات کی سخت مذمت کی ہے۔ پاکستان نے امن کے قیام کے لئے اپنی کوششوں کو عملی اقدامات سے ثابت کیا ہے۔ 16دسمبر کو پشاور میں 132 معصوم بچے دہشت گردی کے حملوں کا نشانہ بن گئے انہوں نے اپنی جان دے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قوم کو متحد کر دیا۔ میں اقوام متحدہ اور علاقائی تنظیموں کی اس سلسلے میں کوششوں کو سراہتی ہوں۔ مجھے امید ہے کہ ہم سب متحد ہو کر امن‘ مفاہمت اور جمہوریت کے لئے مزید اقدامات جاری رکھیں گے تاکہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکے۔

ایک ذاتی بات یہ کہ میں نے اپنی ابتدائی تعلیم جاپان میں حاصل کی اور مجھے یادہے کہ ہمیں پرائمری سطح پر اخلاقی تعلیم دی جاتی تھی جس کا مقصد بچوں کو ابتداء سے ہی ذمے دار، امن پسند اورمفید شہری بنانا ہوتا تھا۔ ہمیں پاکستان میں کردار کی تربیت کرنے والے مضامین متعارف کروانا چاہئیں اورمیرے خیال میں جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو وہ وہی کچھ بنتے ہیں جو انہوں نے اپنے بچپن میں سیکھا ہوتاہے۔ سکول کی تعلیم اس سلسلے میں نہایت اہم بنیادی عنصر ہے۔ ہمیں پہلے ہی ایسے اقدامات کر لینے چاہئیں جس سے ہم پرامن شہری بن سکیں اور اپنی مستقبل کی نسلوں کو پرامن طور پر معاشرے میں زندگی بسر کرتا ہوا دیکھ سکیں۔۔۔آخر میں یہ کہنا چاہوں گی کہ 21ویں صدی کے تقاضوں کے پیش نظر ہم ان مسائل سے نمٹنے کے لئے عزم اور تجربات کی روشنی میں پراعتماد ہیں ، ہمارے پاکستان کا مستقبل روشن ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی ملک تنہا کسی چیلنج سے نمٹ نہیں سکتا‘ اس کے لئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ناگزیرہے۔

مزید : کالم