یورپ میں ایک ایسی مسجد تعمیر کردی گئی کہ کوئی مسلمان تصور بھی نہ کرسکتا تھا، تفصیلات جان کر آپ کے بھی پیروں تلے زمین نکل جائے گی

یورپ میں ایک ایسی مسجد تعمیر کردی گئی کہ کوئی مسلمان تصور بھی نہ کرسکتا تھا، ...
یورپ میں ایک ایسی مسجد تعمیر کردی گئی کہ کوئی مسلمان تصور بھی نہ کرسکتا تھا، تفصیلات جان کر آپ کے بھی پیروں تلے زمین نکل جائے گی

  



کوپن ہیگن (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ کچھ عرصے سے مغربی ممالک میں ایسی ’مساجد‘ قائم کرنے کا سلسلہ چل نکلا ہے کہ جن میں امامت کے فرائض خواتین سرانجام دیتی ہیں اور ان خواتین اماموں کے پیچھے نماز کی ادائیگی کرنے والوں میں مرد بھی شامل ہو تے ہیں۔ اسی طرح کی ایک اور مسجد یورپی ملک ڈنمارک کے دارالحکومت میں قائم کر دی گئی ہے، جبکہ شامی نژاد مصنفہ اور دانشور شیریں خانکن نے اس مسجد میں امامت کے فرائض بھی سنبھال لیے ہیں۔

ویب سائٹ البوابہ کی رپورٹ کے مطابق شیریں خانکن کے والد کا تعلق شام سے جبکہ ماں کا تعلق فن لینڈ سے ہے۔ وہ بچپن سے ہی ڈنمارک میں مقیم ہیں اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے خصوصی شہرت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی مسجد کا قیام خواتین کے حقوق کے پراجیکٹ کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس کے قیام کی وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ روایتی مساجد سے کبھی مطمئن نہیں رہی تھیں اور ایک ایسی مسجد قائم کرنا چاہتی تھیں کہ جہاں رہنمائی کا فریضہ کسی عورت کے ہاتھ میں ہو۔ انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے نوجوان مسلمان محض اس لیے مساجد کا رخ نہیں کرتے کہ وہاں مردوں کا غلبہ ہوتا ہے ، مرد ہی امام ہوتا ہے اور مرد ہی تمام امور کے فیصلے کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک ایسی مسجد قائم کی ہے کہ جہاں مردوں کا غلبہ نہیں ہے اور خواتین بھی آزادانہ اور اپنی مرضی کے مطابق عبادت کر سکتی ہیں۔

سعودی عرب کے صحرا میں دنیا کی قدیم ترین ایسی چیز دریافت کہ دنیا بھر کے ماہرین دنگ رہ گئے، ایسا کیا تھا؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

خاتون امام کی سربراہی میں قائم ہونے والی مسجد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈینش اسلامی سنٹر کے چیئرمین امام وسیم حسین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی مسجد کی کوئی ضرور ت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین جو پسند کریں کر سکتی ہیں لیکن وہ اس کے لیے جو مذہبی حوالہ دے رہی ہیں وہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے اس مسجد کیلئے دی جانیوالی دلیل کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین یا مردوں کیلئے مخصوص مساجد کا قیام لا یعنی ہے۔

والز نے 14اگست کے موقع پر بچوں کے ساتھ جشن آزادی کامزہ دوبالا کرنے کا طریقہ متعارف کروادیا

دوسری جانب شیریں خانکن اس پراجیکٹ کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ ایک اور خاتون صالح میری فاتح بھی امامت کے فرائض سرانجام دیں گی، جبکہ 8 مزید خواتین کو بھی امامت کے فرائض سرانجام دینے کیلئے تیار کیا جائے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس