اقلیتوں کے لئے اقدامات

اقلیتوں کے لئے اقدامات
 اقلیتوں کے لئے اقدامات

  



11اگست کو پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن منایا جاتا ہے اس دن پو رے ملک میں ’’یوم اقلیت‘‘ کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مختلف تقریبات کا اہتمام کرتی ہیں جس میں سکھ ، ہندو، مسیحی برادری سمیت تمام افراد بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں ۔ان تقریبات میں حب الوطنی کے جذبات کو فرو غ دیا جاتا ہے اور تحریک پا کستان میں اقلیتی رہنماؤں کے کردار کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

تحریک پا کستان میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ جن راہنماؤں نے قیام پاکستان کے لیے اپنی خدمات سر انجام دیں اور دن رات انتھک محنت کی ان میں ایک بڑی تعداد مسلمان راہنماؤں کے علاوہ ہندؤں ، سکھ اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے راہنماؤں کی ہیں ۔ بر صغیر پاک و ہند کی تقسیم کے وقت انگریزوں کے خلاف صرف مسلمان ہی الگ وطن کے حصول کے لئے کو شاں نہ تھے۔ ان میں سکھ ، ہندواور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے ان عظیم راہنماؤں کو پختہ یقین تھا کہ اسلام کی تعلیمات علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا الگ وطن کا حصول محض مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اس میں بسنے والے تمام افراد کے لیے پر امن ملک اور محفوظ پناہ گا ہ ہو گا یہی وجہ تھی کہ دیوان بہادر ایس پی سنگھا ، جو شوا فضل دین ، سی ای گبن ،ماسٹر فضل الہی،چو ہدری چندو لال ایڈووکیٹ اور جو گندر نارتھ منڈل سمیت کئی اہم شخصیات نے پاکستان کے حق میں نہ صرف باقاعدہ تحریک چلائی بلکہ بہت سی قربانیاں دیں ۔ دیوان بہادر ایس پی سنگھا سمیت ان پانچ لیڈروں نے پا کستان کے حق میں فیصلہ کن ووٹ ڈالے ۔ ان قابل، محنتی اور ماہر سیاستدانوں کو قائد اعظم کی قیادت پر مکمل یقین تھا ۔ ان لوگوں نے ایک ایسے الگ وطن کے حصول کے لیے قربانیاں دی جس میں بلا تفر یق رنگ ، نسل و مذہب ہر شہری کو برابر حیثیت حاصل ہو گی ۔قائد اعظم محمد علی جنا ح نے 11اگست 1947ء کو ایک تاریخی تقریر کی جس کو ماہر ین سیا ست اقلیتوں کے حقوق کا میگنا کارٹا قرار دیتے ہیں ۔

انہوں نے فرما یا کہ : ’’آپ آزاد ہیں ۔آپ عبادت کے لیے اپنے مندروں میں جانے میں آزاد ہیں ۔ آپ اپنی مسجدوں میں جانے میں آزاد ہیں ۔ آپ مملکت پاکستان میں اپنے عقیدے کے مطابق اپنی عبادت گا ہ میں جانے میں آزاد ہیں ۔ آپ خواہ کسی مذہب ، فرقے یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں ، امور مملکت کو اس سے کو ئی سرو کار نہیں ‘‘۔ (11اگست 1947ء )

ایک اور جگہ قائد اعظم نے فرمایا : ’’ ہر فرقے کے لوگوں کو پاکستان کا شہری سمجھا جائے اور ان کے حقوق، مراعات اورذمہ داریاں مساوی ہوں گی ۔۔۔ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے گی اور وہ امن سے رہیں گی ‘‘۔ (12مارچ 1948ء)۔۔۔ آپ نے لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہو ئے فرمایا :’’ اسلام کے اصولوں نے ہر مسلمان کو بلا لحاظ رنگ و نسل اپنے پڑ سیوں اور ا قلیتوں کی حفاظت کرنے کا سبق سکھا یا ہے ۔ (30۱کتوبر 1947ء)

14اگست 1947ء کو قیام پاکستان کے وقت جو ق درجوق لوگ اپنا مال ، گھر بار چھوڑ کر پا کستان منتقل ہوئے ان میں مسلمانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں مسیحی ، سکھ اور ہندو بھی شامل تھے ۔ قیام پا کستان کے بعد اس وطن عزیز کے تحفظ او ر خوشحالی کے لیے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دیں ۔ ایس پی سنگھا قیام پاکستان کے بعد پنجاب اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے ۔ جو گندر نارتھ منڈل پاکستان کے پہلے وزیر قانون بنے ۔ آپ دستور ساز اسمبلی کے بھی رکن رہے ۔ اسی طرح جسٹس کار نیلیئس کا نام پاکستان کی عدالتی تاریخ میں سنہر ی الفاظ میں لکھا جاتا ہے ۔ ان محب وطن افراد کی لسٹ میں ایسے ایسے جوان بھی شامل ہیں جنہوں نے وطن عزیز کے دفاع کی خاطر اپنی زندگیاں قربان کر ڈالی ۔ان میں پاک فضائیہ سے تعلق رکھنے والے ونگ کما نڈر میرون لیزلی مڈل کوٹ شامل ہیں جنہوں نے 1965ء اور 1971ء کی جنگ میں شمولیت کی اور دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت پائی ۔ آپ کو ’’ ستارہ جراء ت‘‘ سے نوازہ گیا ۔ اسی طرح سیسل چوہدری کے نام سے کون واقف نہیں آج بھی ان کے کار نامے سن کر دشمن کے رونگٹے کھرے ہو جاتے ہیں ۔ قوم کے اس نڈرسپوت کو ’’ستارہ جرأ ت‘‘ سے نوازا گیا ۔ اسی طرح میجر جنرل جو لین پیٹر ’’ ہلال امتیاز ‘‘ ائیر کموڈور نذیر لطیف ’’ ستارہ جرأت ‘‘ ایئر مارشل ائیرک گارڈن ہال ’’ ستارہ جرأ ت ‘‘ اور میجر جنرل ڈاکٹر نوئیل کھوکھر ’’ہلال امتیاز ‘‘ بھی شامل ہیں ۔

اسی طرح عدلیہ کے میدان میں جسٹس رستم سہرا ب جی سدھوا اور جسٹس رانا بھگو ان داس کے نام سے کون واقف نہیں ۔ مشہور لکھاری جوگن ناتھ آزاد ، باپسی سدھوا ، آرٹسٹ کولن ڈیوڈ ، اندو میتھا ، فوٹو جرنلزم کے بانی فاسن ایلمیر چوہدری ’’ چاچا چوہدری ‘‘ مایا ناز ماہر تعلیم ہلدہ سعید شامل ہیں ۔ صحت کے شعبہ میں نام کمانے والے میاں بیوی ڈاکٹر ارنسٹ لال اور ڈاکٹر پرامیلال ، سماجی کارکن ڈاکٹر رتھ فاؤ انہیں Leporsyاور ٹی بی کے مریضوں کے لیے کام کرنے پر ’’ ہلال پاکستان ‘‘ اور ’’ نشان قائد اعظم ‘‘ سے نواز گیا ۔ اسی طرح مسیحی برادری کے مذہبی راہنما انتھونی رتھیڈور لوبو ، ننکانہ صاحب میں سکھوں کی مذہبی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کرنے والے سائیں داس شامل ہیں ۔ جمشید کا کو بادکو پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ممالک میں سفیر تعینات ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر کرسٹی منیر اور پہلی خاتون محتسب ڈاکٹر میرا فیلبوس ۔ گزشتہ عشرے میں پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہنے والے شہباز بھٹی شہید کے نام سے کون واقف نہیں ۔ آپ وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور کے عہدے پر فائز رہے ۔آپ کو اسلام آباد میں 2011ء میں دہشت گردوں نے شہید کیا۔ شہباز بھٹی کی کوششوں کے نتیجے میں 11اگست کو پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن منا یا جا تا ہے ۔ پنجاب میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے سر گرم راہنما اور صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو اور پارلیمانی سیکرٹری طارق گل شبانہ روز محنت کر رہے ہیں ۔ خلیل طاہر سندھو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا آخر ی خطبہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے اجلا س میں چار بار پیش کیا: ’’ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر اسی طرح کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کو ئی فضیلت حاصل نہیں فضیلت کا معیار صرف اور صرف تقویٰ اور پر ہیز گاری ہے ‘‘ ۔

صوبائی وزیر خلیل طاہرسندھو وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی قیادت میں پنجاب میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور انسانی حقوق کے حوالے سے اہم اقدامات سر انجام دے رہے ہیں ۔ 11اگست 2016ء کو الحمرا آرٹ کو نسل لاہور میں ’’یوم اقلیت‘‘ کے حوالے سے اہم تقریب کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں اہم سرکاری شخصیات ، صوبائی وزرا اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شرکت کریں گے ۔ پنجاب حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب اس حوالے سے فعال کردار ادا کر رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ذاتی طور پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے دلچسپی رکھتے ہیں ۔ حکومت پنجاب نے گریڈ ایک سے سترہ تک سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے پانچ فیصد کو ٹہ لا زمی قرار دیا ہے ۔ جس کے تحت پانچ ہزار سے زائد نوجوانوں کو نو کریا ں حاصل ہو ئی ہیں ۔ جن میں حال ہی میں سترہ اے ایس آئی پنجاب پولیس میں بھرتی ہو ئے ہیں ۔ اسی طرح ان آسامیوں پر امید وار نہ ہو نے کی صورت میں یہ آسامیاں اقلیتی امیدواروں کے لیے دوبارہ مشتہر کی جائیں گی ۔

پنجاب حکومت کرسمس ، ہولی اور دیوالی اور سکھ برادری کے مذہبی تہواروں کے لیے ہر سال خصوصی گرانٹ فراہم کرتی ہے تا کہ تمام اقلیتوں کے لوگ اپنے مذہبی تہواروں کو مذہبی جوش و جذبے سے منا سکیں ۔ اس سلسلے میں گزشتہ چار سالوں میں سو ملین سے زائد رقم تقسیم کی گئی ہیں ۔ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات کو معمول کی سکالر شپ کے علاوہ خصوصی سکالر شپ بھی فراہم کی جاتی ہیں ۔ اس سلسلے میں گزشتہ تین سالوں میں 57ملین کی لاگت سے تین ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کو سکالر شپ فراہم کی گئی ہیں ۔ محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور میں مینارٹی ایڈوائزری کو نسل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ رواں سال پنجاب حکومت نے محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کے بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا ہے سال 2016ء کے لیے ایک ارب 60کروڑ رو پے کا تاریخی بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کا نیٹ ورک ضلعی سطح پر پھیلانے کے لیے ڈائریکٹوریٹ اور ٹاسک فورس کے قیام کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں تا کہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کے حوالے سے یونین کونسل کی سطح پر پورے صوبہ میں میکا نزم قائم ہو سکے ۔

مزید : کالم