مارچ ہویا دھرنا،جمہوریت پر حملہ نہیں ہونا چاہئے

مارچ ہویا دھرنا،جمہوریت پر حملہ نہیں ہونا چاہئے
 مارچ ہویا دھرنا،جمہوریت پر حملہ نہیں ہونا چاہئے

  

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے عمران خان نے 2007ء سے لے کر اب تک، یعنی 7 اگست 2016تک گیارہ بڑے احتجاجی جلسوں کی قیادت کی ہے۔ ان کے نتائج کیا برآمد ہوئے، ایک ہی جملے میں تو بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ۔۔۔’’کھایا پیا کچھ نہیں،خالی گلاس توڑا‘‘۔۔۔ لیکن۔۔۔جلسوں میں خطاب کے دوران انہوں نے جس جوش خطابت کا مظاہرہ کیا، اس میں آداب سیاست بھی بھول گئے۔ زبان درازی کا جو نمونہ پیش کیا گیا، اس میں رال بہنے کا تو پتہ چلا، مگر لفظوں کے غلط استعمال کی نشاندہی بھی ہوئی۔ انہیں جلسے میں کھڑے ہو کر اپنے سوا کوئی ایماندار، پرہیزگار اور متقی دکھائی نہیں دیا، ہر کوئی گنہگار ہی دکھائی دیا، پھر اس سے سیاست کو وہ نیا انداز ملا کہ ہر کسی کو اس کی پیروی کرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوئی۔ سوائے راولپنڈی کے شیخ رشید کے جو اس حوالے سے پہلے ہی طرۂ امتیاز رکھتے تھے۔ شاید یہی وہ تعلق ہے کہ ہر جلسے، ہر احتجاج میں وہ اپنے ہم خیال اور ہم ذوق کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔عمران خان نے 2014ء میں اسلام آباد میں احتجاج او ردھرنے کی جو مثال قائم کی اسے چاہنے والے تو تاریخی قرار دیتے ہیں، لیکن ناقدین کو اس حوالے سے اخلاقی اور سیاسی طور پر بہت کچھ کہنے کاموقعہ ملا، اس کی بازگشت ابھی تک فضاؤں میں موجود ہے۔

اس احتجاجی جلسے اور دھرنے میں جو کچھ ہوا تھا، اسے لاہور میں بھی کارکنوں نے دہرانے کی کوشش کی تو خود عمران خان کو بھی شرمندگی ہوئی اور بعض کارکنوں کو خصوصی ہدایات جاری کرنا پڑیں۔۔۔ کنٹینر ون کی یہی ناپسندیدہ حرکات و سکنات تھیں کہ کنٹینر ٹو کا پشاور سے سفر شروع کرتے ہوئے اس ناگفتی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا پڑی، احتیاط اور تحمل کا مظاہرہ کرنا پڑا۔۔۔ یہ تو یونہی ادھر ادھر کی باتیں تھیں۔۔۔ بہرحال کنٹینر ون ہویا کنٹینر ٹو، دونوں کا سفر ایک جیسا ہی ہے۔ کل بھی ان کے باؤنسرز کی بارش وزیراعظم پر تھی ، آج بھی وہ باؤنسرز کے پے در پے حملے کرتے سنائی اور دکھائی دیتے ہیں، البتہ ایک فرق ضرور تھا کہ۔۔۔ کنٹینر ون کے سفر میں انہوں نے یہ تاثر دیا تھا کہ تھرڈ امپائر ان کے ساتھ ہے اور اس کی انہیں حمایت بھی حاصل ہے۔ وہ تھرڈ امپائر کو بار بار صدائیں بھی دیتے رہے، لیکن اس بار انہوں نے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ خوشی کی بات بھی ہے کہ انہیں یہ احساس ہو گیا ہے کہ جمہوریت میں تبدیلی عوام کے ذریعے ہی آتی ہے۔ عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے حکومت، سیاست اور اقتدار میں تبدیلی لاتے ہیں۔ کوئی گراؤنڈ امپائر یا تھرڈ امپائر نہیں۔ ویسے بھی انہیں یہ احساس ہو گیا ہے کہ امپائرز اس وقت ملک و قوم کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور وہ تمام تر صلاحیتیں استعمال کر کے کامیابی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

ان کی اولین ترجیح آپریشن ضرب عضب اور سی پیک منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے، کیونکہ دہشت گردوں کا صفایا ہوگا تو امن و امان بحال ہوگا۔ ترقی کے دروازے کھلیں گے۔ سی پیک سے خوشحالی کے راستے ہموار ہوں گے۔ کوئی غیر آئینی تبدیلی ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں، اسی لئے وہ غیر جانبدار ہیں اور اپنا آئینی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں،مگر۔۔۔کنٹینر ٹو والے بہت جلدی میں ہیں اور ہر صورت میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ ایک طرف دعویٰ جمہوریت کا ہے، لیکن دوسری طرف خواہش کچھ اور نظر آتی ہیں۔۔۔۔ یہ ٹھیک ہے کہ تحریک احتساب ہو یا تحریک قصاص۔ جمہوریت کا حسن ہے۔ احتجاج کرنا، دھرنے دینا اورسٹرکوں پر میدان سجانا، ہر سیاستدان کا حق ہے، مگر۔۔۔ ملک اور قوم کے مفاد کو پیش نظر رکھنا بھی لازم ہوتا ہے۔ سیاستدان وہی ہوتے ہیں جو وقت اور حالات کا ادراک رکھتے، علاقائی و بین الاقوامی دباؤ کا شعور بھی رکھتے ہیں ، پھر انہیں اس کا بھی علم ہو کہ معروضی حالات میں ملک و قوم کی ضرورت کیا ہے اور کون سا اقدام ملک کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے۔۔۔ چنانچہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ تبدیلی کا حسن جمہوری عمل اور اقدار میں ہونا چاہئے۔ انتخابات میں دو سال سے کم کا عرصہ باقی رہ گیا ہے تو انتظار میں کچھ قباحت بھی نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ عوام کو متحرک رکھنا ہر سیاستدان کا حق ہے، لیکن ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے جو جمہوریت اور جمہوری نظام کو ہی خطرے میں ڈال دیں۔ اس حوالے سے ہمیں پیپلز پارٹی کا کردار زیادہ سیاسی اور مثبت معلوم ہوتا ہے جو احتساب تو چاہتی ہے، لیکن فساد نہیں۔ مارچ اسلام آباد کی طرف ہو یا لاہور کی طرف، جمہوریت کو ہر حال میں محفوظ رہنا چاہئے۔

مزید :

کالم -