کرکٹ، پُش اپ اور ہمارے قومی رویئے

کرکٹ، پُش اپ اور ہمارے قومی رویئے
 کرکٹ، پُش اپ اور ہمارے قومی رویئے

  



قومی کرکٹ ٹیم اِن دِنوں برطانیہ کے دورے پر ہے۔ اچھی خبروں سے ترسے ہوئے عوام بے چینی سے منتظر ہیں کہ کرکٹ کے میدان سے ہی کوئی اچھی خبر ملے اور انہیں خوشی کے چند لمحات میسر آئیں۔ پہلا کرکٹ میچ لارڈ کے تاریخی میدان میں کھیلا گیا۔ اِس میدان میں ہماری ٹیم نے فتح کے جھنڈے گاڑے اور کرکٹ شائقین کی جھکی ہوئی گردنوں کو سیدھا کر دیا۔ نہ صرف سیدھا کر دیا، بلکہ اِن میں قدرے اکڑن بھی پیدا کر دی، جو دیرپا ثابت نہ ہوئی، کیونکہ قومی ٹیم پہلی جیت کے بعد لگاتار دو میچ ہار گئی۔ تیسرے میچ میں کرکٹ ٹیم کی ہار کرکٹ شائقین کے لئے کسی صدمے سے کم نہیں، کیونکہ پہلی اننگز میں ہماری ٹیم نے 100رنز سے زیادہ کی برتری حاصل کی، لیکن آخری دن کے کھیل میں ہمارے بیٹسمینوں کے پاؤں اِس طرح ڈگمگائے کہ سنبھل نہ سکے اور ٹیم شکست سے دوچار ہوئی۔جمعرات کو چوتھا اور آخری ٹیسٹ میچ شروع ہو گیا ہے دیکھیں اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟

پہلے ٹیسٹ میچ میں جب قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے سنچری مکمل کی تو شائقین اُس وقت حیرت زدہ ہو گئے، جب ہمارے کپتان الٹے زمین پر لیٹ گئے اور پُش اپ لگانے شروع کر دیئے۔ کپتان کا یہ انداز غیر متوقع اور حیران کن تھا، کیونکہ ہمارے کھلاڑی سنچری مکمل کرنے کے بعد بالعموم سجدہ شکر ادا کرتے ہیں۔ کرکٹ کی کمنٹری کرنے والے بھی تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوئے، لیکن پھر وہ بھی ہنسنے لگے اور ون، ٹو، تھری کی گنتی شروع کر دی۔ اِس کے بعد بھی ہمارے کسی کھلاڑی نے سنچری مکمل کی تو اُس نے بھی پُش اپ لگانے شروع کر دیئے، سب سے بڑھ کر یہ ہوا کہ فتح حاصل کرنے کے بعد قومی ٹیم کے ایک سینئر کھلاڑی نے تمام لڑکوں کی ایک لائن بنائی اور پھر پوری ٹیم نے پُش اپ لگانے شروع کر دیئے۔ شاید یہ کرکٹ کی تاریخ کا پہلا واقع تھا جس کسی ٹیم نے کرکٹ میں کامیابی کا جشن ورزش کر کے منایا ہو یعنی پُش اپ لگائے ہوں۔ بالعموم کلاڑی میچ جیتنے کے بعد ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں یا ڈانس وغیرہ کرتے ہیں۔

پُش اپ لگانے کی میڈیا کے ذریعے جو وجہ معلوم ہوئی وہ یہ تھی کہ ہمارے کھلاڑیوں نے آرمی کے زیر نگرانی سخت ٹریننگ کی تھی اس لئے کھلاڑیوں نے فتح حاصل کرنے کے بعد پُش اپ لگائے اور سیلوٹ کیا۔ بادی النظر میں تو ہمارے کھلاڑیوں کا یہ رویہ عمومی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس عمل میں گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس میں ہمارے عمومی قومی رویوں کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ ہماری قومی ٹیم میں کھلاڑیوں کی اکثریت سینئر کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ شاید مصباح الحق کا شمار کرکٹ کے معمر ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے، اِن کھلاڑیوں کا چناؤ پاکستان کے18کروڑ عوام سے کیا جاتا ہے اور اِن کھلاڑیوں کو بخوبی علم ہے کہ یہ مقابلے کا دور ہے اور اِن کا مقابلہ غیر ممالک کے ایسے کھلاڑیوں سے ہے، جو جسمانی فٹنس پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے۔ اِن کھلاڑیوں کو یہ بھی بخوبی معلوم ہے کہ جب وہ مُلک کی نمائندگی کرتے ہیں تو مُلک کی عزت داؤ پر لگی ہوتی ہے، اِس لئے کھیل میں کامیابی اور ملکی عزت کی حفاظت کے لئے انہیں سو فیصد فٹ ہونا چاہئے۔ کرکٹ کے اعلیٰ احکام جو کہ بڑی بڑی تنخواہیں وصول کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ کھیل میں فٹنس کی اہمیت کیا ہے؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ لارڈ کے میدان میں فتح حاصل کرنے کے بعد مصباح الحق اور دیگر کھلاڑیوں پر اچانک یہ انکشاف ہوا کہ کھیل میں فٹنس کی اہمیت کیا ہے اور لارڈز میں کامیابی اُن کی ٹریننگ اور فٹنس کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ کھلاڑی بچے تو نہیں کہ انہیں فٹنس کے بارے میں معلومات حاصل نہیں تھیں، حالانکہ ان میں کئی کھلاڑی دہائیوں سے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ اگر انہیں فٹنس کی اہمیت کا ادراک تھا تو پہلے فٹنس کا وہ معیار کیوں حاصل نہیں کیا گیا جو اِن کھلاڑیوں کے خیال میں لارڈ کے میدان میں فتح کے لئے کام آیا اور جو فوجی ٹریننگ کی وجہ سے حاصل ہوا۔ کیا اِس سے پہلے اِس طرح کی ٹریننگ کا بندوبست نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اگر یہ کھلاڑی فٹنس کے مطلوبہ معیار کی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں تو نہ انہوں نے اپنے مُلک سے اور نہ ہی پروفیشن کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ یہ تو اِس رویے کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارے قومی مزاج میں یہ سوچ سرایت کر گئی ہے کہ کامیابی کے لئے آپ کو کسی زینے، سہارے یا واسطے کی ضرورت ہوتی ہے اور پاکستان میںآپ ان کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ ہمارے نوجوانوں کو اپنے اوپر اعتماد نہیں ہے اور نہ ہی اُن میں خود اعتمادی بحال کرنے کا ماحول پیدا کیا گیا ہے، جب بھی ہمیں کامیابی ملتی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم تو اِس قابل نہیں تھے یہ کامیابی فلاں کی وجہ سے ملتی ہے۔

اسی سوچ کی وجہ سے ہمارے سیاسی لیڈروں سمیت عوام کی اکثریت کامیابی حاصل کرنے کے لئے پیروں، فقیروں کے ڈیروں کے چکر لگاتی ہے۔ کوئی چھڑیاں کھاتا ہے تو دوسرا اِس سے بھی مشکل مراحل طے کرنے کے لئے تیار نظر آتا ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں اور کامیابی کے لئے سہاروں کی تلاش میں غوطہ زن رہتے ہیں۔ عوام بے چاروں کو تو چھوڑیں ہماری قومی لیڈر شپ بھی اقتدار میں آنے کے لئے سہارے ڈھونڈے میں عار محسوس نہیں کرتی۔ میرے خیال میں ہماری کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں خود اعتمادی کی کمی ہے۔ اگر انہیں اپنی صلاحیتوں پر اعتبار ہوتا تو یہ قومی ٹیم میں اپنی سلیکشن کے ساتھ ہی بلکہ سلیکشن سے پہلے اپنی فٹنس کو سو فیصد معیاری بناتے اور خود اعتمادی کے جذبے سے لبریز ہو کر میدان میں اُترتے۔ اسلام ہمیں اعتدال پسندی اور اپنے رویوں میں توازن کا درس دیتا ہے، فتح کا جشن ضرور منائیں، لیکن اِس میں متانت اور سادگی کی جھلک ضرور نظر آنی چاہئے جو کہ ایک مسلمان کے شایان شان ہو، مَیں پُش اپ وغیرہ کے بارے میں کوئی فتویٰ نہیں دے رہا اور نہ ہی ایسا ہونا چاہئے، لیکن فتح کا جشن مناتے وقت متوازن رویوں کا اظہار ضرور ہونا چاہئے۔ ہمارا میڈیا بھی اِس سلسلے میں عدم توازن کا شکار ہے۔ اگر ٹیم فتح حاصل کر لے تو اینکر آنا فاناً سکرینوں پر چنگاڑنے لگتے ہیں اور اُن کی چیخ و پکار قیامت صغریٰ کا منظر پر ضرور پیش کرتی ہے۔ مثلاً نمونے کے طور پر ملاحظہ فرمائیں۔ ’’شاہینوں نے فلاں ٹیم کو ’’دھول چٹا دی‘‘ اِس طرز گفتگو پر توجہ دیں۔ اگر کسی ٹیم کی ہار میں دھول چاٹنا ہے تو پھر یہ دھول تو زیادہ تر ہمارے حصے میں آتی ہے، کیونکہ ہم اکثر ہارتے رہتے ہیں۔

مزید : کالم