بھارت: ہسپتال میں آکسیجن کی سپلائی بند ہونے سے 48گھنٹوں میں 30بچے موت کی وادی میں چلے گئے

بھارت: ہسپتال میں آکسیجن کی سپلائی بند ہونے سے 48گھنٹوں میں 30بچے موت کی وادی ...
بھارت: ہسپتال میں آکسیجن کی سپلائی بند ہونے سے 48گھنٹوں میں 30بچے موت کی وادی میں چلے گئے

  


گورکھپور(ڈیلی پاکستان آن لائن)انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں مبینہ طور پر آکسیجن کی سپلائی بند ہو جانے سے 30 بچوں ہلاک ہو گئے،آکسیجن کی بندش کی وجہ آکسیجن سلنڈر مہیا کرنے والے ٹھیکیدار کو اس کے 69لاکھ واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ بتائی جا رہی ہے ۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راجیو روتیلا کے حوالے سے کہا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں میں مختلف وجوہات کی وجہ سے 30 بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔اتر پردیش کی حکومت کے ٹوئٹر ہینڈل سے کیے گئے ٹویٹس میں ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مریضوں کی موت کی خبر کو گمراہ کن کہا گیا ہے۔

مصر میں ریل گاڑیوں میں تصادم36افراد ہلاک،100سے زائد زخمی

یوپی کی حکومت کے ٹوئٹر ہینڈل کی ٹویٹس میں کہا گیا ہے کہ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن کی کمی سے کسی مریض کی موت نہیں ہوئی ہے۔ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ چینلز پر چلائی گئی آکسیجن کی کمی سے گذشتہ چند گھنٹوں میں ہسپتال میں داخل بہت سے مریضوں کی موت کی خبر گمراہ کن ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہسپتال میں موجود ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔اس سے پہلے گورکھپور کے ہی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رویندر کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ مرنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 20 ضرور ہے لیکن ان کی موت کی وجہ آکسیجن کی سپلائی کا بند ہونا نہیں ہے۔گورکھپور میڈیکل کالج کے اس وارڈ میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں دماغ کی سوزش کے مریض آتے ہیں اور ان میں سے بہت سے مریضوں کی موت ہو جاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر بچے ہوتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...