آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں

آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں

سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان محاذ آرائی نہیں ہونی چاہئے، عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کو حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے،ہم مفاہمت کے عمل سے جمہوری نظام مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔حکومت، فوج اور عدلیہ کے درمیان انٹر انسٹی ٹیوشنل ڈائیلاگ کئے جائیں گے، جس کے لئے انتظامیہ اور فوج کو وزیراعظم، جبکہ عدلیہ کو چیف جسٹس کے ذریعے مدعو کیا جائے گا۔اِس سلسلے میں پوری کمیٹی کا اجلاس جلد منعقد کیا جائے گا،جس میں ارکان سے جمہوریت کی مضبوطی کے لئے تجاویز حاصل کی جائیں گی،جبکہ یہ اجلاس تجاویز کی حتمی منظوری تک جاری رہے گا۔رضا ربانی نے کہا کہ اداروں کے درمیان ٹکراؤ مناسب نہیں،اداروں میں سب سے کمزور پارلیمان ہے کبھی ایگزیکٹو اور کابینہ کی جانب سے،کبھی عدلیہ کی جانب سے اور کبھی آمروں کی جانب سے پارلیمان پر یلغار نظر آتی ہے،ہماری اندرونی خامیاں بھی ہیں،ہمیں اپنی کوتاہیوں پر نظرثانی کرنا ہو گی، حکومت اور اپوزیشن مشترکہ طور پر تجاویز تیار کریں اداروں میں اپنی حدود سے تجاوز کا مسئلہ ہے، تصادم سے گریز کرنا ہوگا۔

چیئرمین سینیٹ نے انتظامیہ، عدلیہ اور فوج کو مکالمے کی جو دعوت دی ہے اس کے نتیجے میں کوئی ڈائیلاگ باقاعدہ طور پر شروع بھی ہوتا ہے یا نہیں یہ تو اُس وقت معلوم ہو گا جب یہ ادارے سینیٹ کے چیئرمین کی دعوت باضابطہ قبول کر لیں گے اور اِس کے نتیجے میں کوئی مکالمہ شروع ہو جائے گا،لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ جناب رضا ربانی برملا طور پر تسلیم کر رہے ہیں کہ پارلیمان کمزور ترین ادارہ ہے اور اس پر کبھی کوئی آمر چڑھائی کر دیتا ہے،کبھی انتظامیہ چڑھ دوڑتی ہے اور کبھی عدلیہ کی جانب سے یلغار ہو جاتی ہے۔انہوں نے اس مجوزہ ڈائیلاگ کا مقصد جمہوریت کی مضبوطی بتایا ہے اگر اِس طرح ہونے والے مکالمے کے ذریعے جمہوریت کی مضبوطی کی راہ ہموار ہوتی ہے اور اِس سلسلے میں سینیٹ کا کوئی روشن کردار سامنے آتا ہے تو اس پر ہر کسی کو اظہارِ مسرت کرنا چاہئے، لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلے اِس سوال پر غور کر لیا جائے کہ پاکستان میں اب تک جمہوریت مضبوط کیوں نہیں ہوئی؟ پہلے مرض کی تشخیص ہوگی تو علاج ڈھونڈا جاسکے گا ہر چند سال بعد جمہوریت پٹڑی سے کیوں اُتر جاتی ہے اور آج بھی وہ کون لوگ ہیں اور اُن کا مقصد کیا ہے، جو برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت سے آمریت بہتر ہے اور ملک کی خاطر آئین کو توڑنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

یہ سوچ اور فکر کوئی نئی نہیں ہے قیام پاکستان کے ساتھ ہی یہ سامنے آ نا شروع ہو گئی تھی اور مُلک میں پہلا مارشل لاء اِسی سوچ کے تحت لگایا گیا تھا،قیامِ پاکستان کے بعد شروع کے برسوں میں سیاسی حکومتوں کی ناپائیداری ،پسِ پردہ سازشوں اور غیر جمہوری جوڑ توڑ کے نتیجے میں جو سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا اُسے مارشل لاء کا جواز بنا کر پیش کیا گیا،کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو سول حکومت میں باوردی وزیر دفاع مقرر کیا گیا تو انہوں نے اپنے اس عہدے کو اپنے مستقبل کے ارادوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے استعمال کیا، ایک طرف تو اُنہیں معلوم ہو گیا کہ سیاست دانوں میں کون کون سی کمزوریاں ہیں اور کس کس سیاست دان کو وہ اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور کون اُن کی راہ میں مزاحم ہو گا یہ سارے ’’راز‘‘ معلوم کر کے انہوں نے اپنے منصوبے پر کام شروع کیا۔صدر سکندر مرزا جو بیورو کریسی کے راستے سے مملکت کے سب سے اعلیٰ منصب پر فائز ہو گئے تھے وہ بھی اپنے ارادوں کی راہ میں جن سیاست دانوں کو رکاوٹ سمجھتے تھے اُنہیں راستے سے ہٹانا چاہتے تھے، چنانچہ انہوں نے کمانڈرانچیف کے ساتھ مل کر مُلک میں مارشل لاء لگا دیا،لیکن اُنہیں بیس روز بعد ہی معلوم ہو گیا کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سماسکتیں۔جنرل ایوب خان نے اُنہیں صدر کے عہدے سے ہٹا کر مُلک بدر کر دیا۔عدلیہ نے ’’کامیاب انقلاب‘‘ کو نظریۂ ضرورت کے تحت جائز قرار دے دیا، یہ ’’سندِ قبولیت‘‘ بعد کی فوجی حکومتوں کو بھی کسی نہ کسی انداز میں ملتی رہی سوائے جنرل یحییٰ خان کے، جنہیں سپریم کورٹ نے غاصب قرار دیا،لیکن یہ فیصلہ اُس وقت آیا جب وہ مُلک کا تیا پانچہ کر کے جا چکے تھے،جب ’’غاصب‘‘ کا راستہ روکنے کا وقت تھا بدقسمتی سے ریاست کا کوئی بھی ادارہ اُن کے سامنے کھڑا نہ ہوا۔

جن جرنیلوں نے بھی سول حکومتوں کا تختہ اُلٹا اُنہیں بعض سیاست دانوں سمیت دوسرے اداروں کی حمایت حاصل رہی،جس سے فائدہ اُٹھا کر ریاست کے دو بڑے مناصب کے درمیان کشمکش کا آغاز ہوا۔گورنر جنرل غلام محمد نے مُلک کی پہلی اسمبلی توڑ کر سیاست دانوں کے ساتھ ٹکراؤ کی جو رسم ایجاد کی تھی وہ بعد کے برسوں میں بھی کسی نہ کسی انداز میں چلتی رہی۔صدر کے پاس جب بھی اسمبلی اور حکومت برخاست کرنے کا اختیار آیا اُس نے اسے استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا، ضیاء الحق، غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری نے اپنے اپنے ادوار میں اسمبلیاں توڑیں اور حکومتیں برخاست کیں تو جنرل پرویز مشرف نے براہِ راست مداخلت کر کے نواز شریف کی حکومت ختم کر دیا۔ ان کے بعد یہ سلسلہ قدرے تھما تو عدالتی احکامات کے ذریعے وزرائے اعظم کی نااہلی کا آغاز ہو گیا۔ پیپلزپارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کے الزام میں نااہل کیا گیا تو نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل 62کے تحت نااہلی کی سزا بھگتنی پڑی۔

اس ماحول میں اگر رضا ربانی یہ کہتے ہیں کہ پارلیمان کمزور ترین ادارہ ہے تو غلط نہیں کہتے، انہوں نے پارلیمینٹ کو مضبوط کرنے کے لئے ڈائیلاگ کا راستہ چُنا ہے،لیکن کیا اِس راستے سے وہ کامیابی ممکن ہے جو پارلیمینٹ کی مضبوطی کے لئے درکار ہے؟ اِس کا جواب تو اُسی وقت ملے گا جب ڈائیلاگ صحیح سمت میں شروع ہو گا اور نتیجہ خیز بھی ہو گا،لیکن ہمارے پاس ایک لکھا ہوا آئین پہلے سے موجود ہے،جس کے ساتھ وقتاً فوقتاً غیر آئینی چھیڑ چھاڑ جاری رکھی گئی،بالآخر اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے اس کو اصل شکل میں بحال کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اب احساس ہوا ہے کہ آئین کے اندر اب بھی ایسی شقیں موجود ہیں جو73ء کے بعد اس میں شامل کی گئیں اِس لئے ضرورت اِس امر کی ہے کہ آئین کا دقتِ نظر سے ایک بار پھر ماہرین جائزہ لے لیں اور اس میں سے ایسی شقیں نکال دیں جو اداروں کی مضبوطی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور وقت کے تقاضوں کے تحت ایسی نئی شقیں شامل کریں جو جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کا باعث بنیں۔

آئین پر پوری طرح عمل کئے بغیر نہ کوئی جمہوری ادارہ مضبوط ہو سکتا ہے نہ مُلک آگے بڑھ سکتا ہے،جن خام کاروں کا خیال ہے کہ آئین کے بغیر بھی آگے بڑھا جا سکتا ہے اور کسی حادثے سے بچا جاسکتا ہے اُن کے پیشِ نظر مُلک کی مضبوطی نہیں اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل اوراپنی ذات کی مضبوطی ہو گی یہ بھی عین ممکن ہے وہ یہ سمجھتے ہوں کہ مُلک اُن کے لئے بنا ہے اور کاروبارِ حکومت صرف وہی چلا سکتے ہیں۔دُنیا کا ہر آمر ایسے ہی سوچتا ہے، ملکوں کی مضبوطی کے لئے آئین پر عمل ضروری ہے اِس وقت بھی اگر آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو ادارے مضبوط ہو سکتے ہیں اگر ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں تو ان میں کسی قسم کے تصادم کی نوبت ہی نہیں آئے گی، مسائل تب پیدا ہوتے ہیں جب اداروں کے کرتا دھرتا اپنے ادارے کے فرائض بھول کر دوسرے ادارے میں مداخلت کو مباح تصور کرتے ہیں۔رضا ربانی نے جس ڈائیلاگ کی تجویز دی ہے اس کی بھی چند اں ضرورت نہیں رہے گی اگر ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہیں گے، مشکلات تب پیدا ہوتی ہیں جب آئینی حدود سے باہر قدم رکھا جاتا ہے،اِس لئے رضا ربانی اگر ڈائیلاگ کا اہتمام کر رہے ہیں تو کر کے دیکھ لیں،لیکن کامیابی تبھی ملے گی جب آئین کو مقدم رکھا جائے گا اور اس پر صدق ولی سے عمل کیا جائیگا باقی سب کہانیاں ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...