ڈاکٹر روتھ فاؤ چل بسیں، ان کے کام کو جاری رکھا جائے

ڈاکٹر روتھ فاؤ چل بسیں، ان کے کام کو جاری رکھا جائے

پاکستان میں رہ کر جذام جیسے مرض کو شکست دینے والی چوراسی سالہ جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ انتقال کرگئیں، ان کے جذبہ قربانی اور بیش بہاخدمات کی بنا پر ان کو پاکستانی مدر ٹریساکہاگیا، ان کے انتقال پر ملک کے تمام طبقات میں دکھ کا اظہار کیا گیا ان کی خدمات کو سراہا گیا ہے، محترم ایدھی کے بعد یہ دوسری ہستی ہیں جو جداہوگئیں اور ان کی سماجی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں، ڈاکٹر روتھ فاؤ 1960ء میں جرمنی سے پاکستان آئیں اور پھر جذام جیسے مرض کے خلاف عملی جہاد شروع کیا وہ چھتیس برس کی محنت کے بعد پاکستان سے اس مرض کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہوگئیں تاہم اس کے بعد بھی وہ یہیں مقیم رہیں اور اپنی شدید علالت سے قبل تک طبی خدمات انجام دیتی رہیں اور بالآخر پاکستان ہی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملیں، ان کی آخری رسومات چرچ میں ادا کی جائیں گی وہ مذہبی لحاظ سے عیسائی (کیتھولک) تھیں۔ جذام ایک ایسا مرض ہے کہ لوگ مریض سے گریز حتیٰ کہ نفرت تک کرنے لگ جاتے ہیں لیکن مادام روتھ فاؤ نے تو علاج ہی اس مرض کا کیا اور مریضوں کے ساتھ گھل مل کر رہتی تھیں،ان کی یہ طبی خدمات اور ان کا یہ جذبہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد گار رہے گا اور وہ بھی یاد رکھی جائیں گی ان کی خدمات کے عوض پہلے ہی ان کو پاکستان کی شہریت دے دی گئی تھی اور ان کو متعدد قومی ایوارڈ بھی ملے۔ طبی دنیا میں ڈاکٹر روتھ فاؤ ایک مثال ہیں، ہمارے ڈاکٹر حضرات خصوصاً ان کو جو ہر وقت ہڑتال کے لئے تیار رہتے ہیں مدر ٹریسا اور روتھ فاؤ جیسی ہستیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اور ان کی کارکردگی سے متاثر ہونا چاہئے کہ یہ پیشہ ہی ’’خدمت انسان‘‘ کا ہے، ڈاکٹر حضرات کے جائزمطالبات کی ہم بھی حمائت کرتے ہیں تاہم ہڑتال سے مریضوں کو نقصان پہنچانا کہاں کی خدمت ہے؟ ڈاکٹر فوری طور پرہڑتال ختم کریں۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ کو جتنا بھی خراج عقیدت پیش کیا جائے کم ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ جو کام انہوں نے شروع کیا اسے جاری رکھا جائے اور یہی ان کی روح کے لئے تسکین کا باعث ہوگا۔

مزید : اداریہ


loading...