آدھا سچ بھی جھوٹ ہوتا ہے،محکمہ جنگلات کی شجرکاری؟

آدھا سچ بھی جھوٹ ہوتا ہے،محکمہ جنگلات کی شجرکاری؟

آج کے سائنسی دور میں معاشرت کچھ ایسی صورت اختیار کر گئی ہے کہ جھوٹ تو بولا جاتا ہے،لیکن سچ میں بھی جھوٹ کی ملاوٹ کر دی جاتی ہے اور یہ بھی خیال نہیں کیا جاتا کہ اس سے اُلٹا نقصان ہو گا اس کی مثال سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے استقبال کی تصاویر ٹویٹر اور فیس بُک پر پوسٹ کرنے کی حقیقت سے مل جاتی ہے کہ محترم وزیر خارجہ خواجہ آصف نے جو دو تصویریں پوسٹ کیں وہ مکہ معظمہ میں حج کے دور ان اور ممتاز قادری کے جنازے کی تھیں،وہ بھول گئے کہ آج کے نوجوان اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے زیادہ تیز ہیں،جلد ہی ان کی طرف سے ان دونوں تصاویر کو ’’ایکسپوز‘‘ کر دیا گیا اور پھر ایک نیا پروپیگنڈہ شروع ہو گیا، جس سے شک والے حضرات کو تقویت ملی،حالانکہ پہلے ہی روز فیض آباد سے مری روڈ کمیٹی چوک تک کی اصل حالت بھی کوئی کم نہیں تھی اور یہ ایک شاندار استقبال تھا، جسے حامی اور مخالف دونوں طرف سے دکھایا گیا،یہاں شاید یہ مثال برمحل نہ جانی جائے،لیکن بات پھر کہاوت والی ہے تو اسے بیان کر دینے میں حرج نہیں کہ یہ بنائی ہی اِسی لئے جاتی ہیں ، یہ قصہ ایک جاٹ اور تیلی سے منسوب کر کے تراشا گیا ہے کہ دونوں میں تکرار ہوئی تو تیلی نے کہا ’’جاٹ رے جاٹ تیرے سر پر کھاٹ‘‘ اب برادرم جاٹ کو بھی تو جواب دینا تھا، وہ بولا’’ تیلی رے تیلی تیرے سرپہ کولہو‘‘ تیلی بولا، بات نہیں بنی، شعر برابر اور وزن میں نہیں‘‘ جاٹ بولا! مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ شعر اور وزن کیا ہوتا ہے،لیکن کولہو سے تیری جان تو نکلے گی، یوں آج کل مصرعہ کا توازن نہیں،بات کا وزن دیکھا جا رہا ہے اور جو کسی کے منہ در آتا وہ کہہ دیتا ہے، اس سے معاشرے میں افتراق اور بدنظمی پیدا ہو گئی اور ہر طرف ے شور و غوغا ہے۔اب کچھ دِنوں سے یہ احساس ہوا کہ بعض دردِ دِل والے ایسے بھی ہیں جو سوشل میڈیا پر ہی ان لوگوں کی مخالفت کر رہے ہیں جو بدزبانی یا بدتمیزی میں مبتلا ہیں اور ہر سیدھی بات کا اُلٹ جواب دیتے ہیں، سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے ریلی نکالی، استقبال کرایا، اس حوالے سے ان کی حکمت عملی پر تو بات ہو سکتی ہے اور ان کی حمایت کے ساتھ ساتھ مخالفت میں بھی کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے، لیکن جو زبان استعمال کی جا رہی ہے وہ کسی طور مناسب نہیں،اور پھر خبریں جس طرح حقائق کو نظر انداز کر کے چلائی جا رہی ہیں وہ طریقہ بھی تشویشناک ہے،اِس لئے بہتر عمل تو اس سے گریز اور پرہیز ہی ہے کہ اس طرح لوگ بھی بات سنتے ہیں اور رہنما تو موجود ہی ہیں،بہتر ہے کہ پاسبانِ عقل کو دِل ہی کے پاس رکھ لیا جائے۔

گزارش کی تھی کہ سچ میں بھی جھوٹ کی ملاوٹ کر لی جاتی ہے تو آج اسی پر بات کرنا تھی، درمیان میں یہ الزام جواب الزام والی بات آگئی کہ جی ٹی روڈ مارچ کی وجہ سے ٹریفک کا برا حال ہوا اور لوگ پریشان ہو گئے تھے، اِس سلسلے میں منتظمین کہتے ہیں کہ ٹریفک پولیس دھیان رکھے ہوئے ہے اور متبادل راستے دیئے جا رہے ہیں۔ مخالفین مان ہی نہیں رہے ہیں۔

بہرحال ہمیں تو آج ایک سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ پر بات کرنا ہے کہ ہمارے سرکاری محکمے سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ کرتے اور پورے سچ کو پورا جھوٹ بنا ڈالتے ہیں۔مون سون کا موسم اپنے آخری دموں پر ہے اور سال میں دو بار جو شجر کاری ہوتی ہے تو موسم بہار کے بعد بھادوں شروع ہوتے ہی یہ مہم شروع کی جاتی ہے کہ درخت لگائیں اور اُگائیں کہ فوائد ملیں گے اور بنیادی طور پر یہ محکمہ جنگلات ہی کی طرف سے شروع کی جاتی ہے۔ موجودہ وقت برسات والی شجر کاری کا ہے اور محکمہ جنگلات نے روایت کے مطابق شہر میں بینرز لگوا دیئے ہیں ان میں درختوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے عوام سے شجرکاری کی اپیل کی گئی ہے جو ہمارے نزدیک عجیب اور سچ میں جھوٹ ملانے والی بات ہے کہ شہریوں کو آمادہ کرنے کے لئے بینرز لگائے جائیں، حالانکہ یہ صرف محکمے کا چہرہ دکھانے کے لئے ہیں اور بجٹ استعمال کرنے والی بات ہے کہ ان بینروں سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ درختوں کی اہمیت ہے اور یہ لگائے جانا چاہئیں لیکن یہ کہ یہ سب عوام کریں عجب کہانی ہے،جہاں تک لوگوں کا تعلق ہے وہ تو اپنے شوق کی تکمیل کے لئے سبزہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہی ہیں۔اگرچہ اصل ڈیوٹی تو ان محکموں خصوصاً جنگلات اور پی ایچ اے کی ہے کہ نہ صرف شجر کاری کریں،بلکہ جو پودے لگائے جائیں ان کی پرورش کا بھی اہتمام کیا جائے جو ہوتا نہیں ہے۔اس مرتبہ محکمہ جنگلات پنجاب کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ رواں موسم میں ایک کروڑ20لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ خوشی ہوئی،لیکن ساتھ ہی جھوٹ اور سچ والا مسئلہ بھی سامنے آ گیا کہ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے۔سال میں دو بار شجرکاری کی مہم میں اسی طر ح لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں۔اگر کوئی فاضل رکن اسمبلی صرف یہ سوال پوچھ لے کہ گزشتہ پانچ یا دس برس کے دوران موسم بہار اور موسم برسات کے دور ان کتنے پودے لگائے گئے تو معلوم ہو جائے گا کہ اب تک کھربوں پودے لگائے گئے،جب نتیجہ معلوم کریں تو صفر ہو گا کہ اگر اعلان کردہ پودے حقیقتاً لگائے گئے ہوتے اور محکمہ کی طرف سے ان کی پرورش پر دھیان دیا گیا ہوتا تو آج ہمیں سبزے کی کمی نہ ہوتی اور پورے مُلک میں درخت ہی درخت ہوتے اور ہرے بھرے جنگل نظر آتے،لیکن ایسا نہیں ہے اور یہی حقیقت ہے اِس لئے بہتر عمل ہو گا سچ بتائیں،پودے لگائیں اور ان کی پرورش کا اہتمام کریں۔اگر حقیقی شجر کاری ہو اور25فیصد پودے بھی درخت بن جائیں تو حالیہ اعلان سے اندازہ لگا لیں کہ ہر سال کتنے درخت بنیں گے،پھر یہ اکیلا محکمہ نہیں شعبہ ہائے باغبانی اور دوسرے محکمے بھی شجرکاری پر بجٹ خرچ کرتے ہیں۔

ان دِنوں صورتِ حال یہ ہے یہ گرمیاں تکلیف دہ ثابت ہوئیں،درجہ حرارت نہ صرف بڑھا بلکہ کم از کم زیادہ سے زیادہ کا فرق بھی بہت کم ہو گیا۔موجودہ حبس کے دِنوں میں زیادہ سے زیادہ37(41 محسوس ہوتا ہے) رہا تو کم از کم بھی34سے35 ہی رہا ہے۔اسی سے موسم کا اندازہ لگا لیں کہ ہوا میں نمی کا تناسب80فیصد سے کبھی کم نہیں ہوا اور حبس والی کیفیت مسلسل رہی،جس کی وجہ آلودگی،ایئر کنڈیشنر، گاڑیوں کا ایگزاسٹ اور دھواں، سیمنٹ، پتھر، بجری اور تارکول والی سڑکیں،یوں جدید تعمیرات بھی باعث ہیں۔اب سولر کی طرف توجہ ہو گئی ہے سولر پینل بھی حدت پیدا کرتے ہیں، ان کے تناسب سے بھی سبزے کی ضرورت ہے۔اگر سچ پر عمل نہ کیا گیا تو پھر سچ وہ ہے جو عالمی ماہرین نے بتایا کہ اس صدی کے آخر میں ہمارے خطہ زمین پر انسانی زندگی بدترین ہو گی اور لوگ مرتے رہیں گے۔اِدھر توجہ کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم


loading...